ٹیگ کے محفوظات: تازیانہ

تمہیں خبر کیا ہنسا ہے کیا کیا رُلا رُلا کے ہمیں زمانہ

نہ کوئی مونس نہ کوئی ہمدم کہیَں تَو کس سے کہیَں فسانہ
تمہیں خبر کیا ہنسا ہے کیا کیا رُلا رُلا کے ہمیں زمانہ
بسی تَو بستی ہمارے دل کی چلو بالآخر اِسی بَہانے
مِلا نہ کون و مکاں میں رنج و غم و اَلَم کو کوئی ٹھکانہ
قسم ہے تجھ کو بھی اے ستمگر شریکِ بزمِ طرب ہو آ کر
زمانہ خوشیاں منا رہا ہے جلا رہا ہُوں میں آشیانہ
جہاں کی نیرنگیوں سے شکوہ ہو کیا کہ تم خود بدل گئے ہو
نظر اُٹھاؤ اِدھر تَو دیکھو بنا رہے ہو عبَث بہانہ
ہر اِک طبیعت ہوئی ہے مضطر ہر اِک کو بھُولا ہے روزِ محشر
بہت پریشاں ہیں آج وہ بھی حضورِ حق ہے مرا فسانہ
سکونِ دل آج بھی ہے غارت ملے نہیں گو کہ مدّتوں سے
قدم قدم پر ہے بے قراری کو یادِ ماضی کا تازیانہ
وہ کس رعونت سے کہہ رہے ہیں اگر نہ ہَوں ہم کسی کے ضامنؔ
تو وہ سمجھ لے کہ اُٹھ گیا اِس جہان سے اُس کا آب و دانہ
ضامن جعفری

سازشوں کا وُہی نشانہ رہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
جس شجر پر بھی آشیانہ رہا
سازشوں کا وُہی نشانہ رہا
آنکھ اُٹھی نہیں اِدھر سے اُدھر
سر پہ اپنے وُہ تازیانہ رہا
اُس جنوں کو سلام جس کے طفیل
ہم سے مانوس اِک زمانہ رہا
ہم سے مالی کا مثل بچّوں کے
پھل نہ پکنے کا ہی بہانہ رہا
ہم کہاں کے ہیں محترم ماجدؔ
کیا ہے اپنا بھرم رہا نہ رہا
ماجد صدیقی

طپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا

دیوان اول غزل 114
جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہوا
طپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا
جہاں کو فتنے سے خالی کبھو نہیں پایا
ہمارے وقت میں تو آفت زمانہ ہوا
خلش نہیں کسو خواہش کی رات سے شاید
سرشک یاس کے پردے میں دل روانہ ہوا
ہم اپنے دل کی چلے دل ہی میں لیے یاں سے
ہزار حیف سر حرف اس سے وا نہ ہوا
کھلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اس کی میر
سمند ناز پہ ایک اور تازیانہ ہوا
میر تقی میر

بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 12
تمام تاب و تبِ عاشقی بہانہ ترا
بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا
ترے سوا کوئی کیسے دکھائی دے مجھ کو
کہ میری آنکھوں پہ ہے دست غائبانہ ترا
جو رنگ خواب میں دیکھے نہیں وہ سامنے تھے
کھلا ہوا تھا نظر پر نگارخانہ ترا
وہ میرے ہاتھوں میں آئے ہوئے زمین و زماں
وہ میری خاک پہ بکھرا ہوا خزانہ ترا
میں ایک موج میں غرقاب ہوچکا تھا مگر
چھلک رہا تھا ابھی ساغرِ شبانہ ترا
میں بجھتا جاتا تھالیکن کنارِ جوئے وصال
جھمک رہا تھا ابھی گوہرِ یگانہ ترا
میں تجھ سے بچ کے بھی کیا دوسروں کے کام آیا
تو اب ملے گا تو بن جاؤں گا نشانہ ترا
بس ایک جست میں ہوتی ہے طے مسافتِ ہجر
سمندِ طبع کو کافی ہے تازیانہ ترا
عرفان صدیقی