ٹیگ کے محفوظات: تار

مرے پاس بھی کوئی گلبدن تھا بہار سا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
وہ کہ لمس میں تھا حریر، رنگ میں نار سا
مرے پاس بھی کوئی گلبدن تھا بہار سا
کبھی بارشوں میں بھی پھر دکھائی نہ دے سکا
اُسے دیکھنے سے فضا میں تھا جو نکھار سا
مری چاہ کو اُسے چاندنی کی قبائیں دیں
مرا بخت کس نے بنا دیا شبِ تار سا
کوئی آنکھ جیسے کھُلی ہو اِن پہ بھی مدھ بھری
ہے دل و نظر پہ عجب طرح کا خمار سا
لگے پیش خیمۂ قربِ یار گھڑی گھڑی
مری دھڑکنوں میں جو آ چلا ہے، قرار سا
ماجد صدیقی

جو اَوج نشیں ہے مرا آزار نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
صحنوں کی گھُٹن شہر کا مینار نہ جانے
جو اَوج نشیں ہے مرا آزار نہ جانے
وہ پارچہ نازش کسی سر کی ہے، یہ نکتہ
قدموں میں گرائی گئی دستار نہ جانے
جانے نہ کرے تیرگی کیا، اُس کی نمایاں
جگنو کا کِیا، کوئی شب تار نہ جانے
مٹی کو وہ بستر کرے، بازو کو سرہانہ
جو خانماں برباد ہے،گھر بار نہ جانے
پینے کو بھی چھوڑے نہ کہیں، آبِ مصفّا
سیلاب ستم کا، کوئی معیار نہ جانے
ژالے کبھی پچھتائیں نہ چڑیوں پہ برس کے
سنگینیِ اِیذا کوئی اوزار نہ جانے
ہر غیب عیاں اُس پہ بقول اُس کے ہے ماجد
جو روگ ہمیں ہیں، کوئی اوتار، نہ جانے
ماجد صدیقی

یہ سانحہ، کوئی بڑی سرکار نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
ہے کس کو یہاں کون سا آزار، نہ جانے
یہ سانحہ، کوئی بڑی سرکار نہ جانے
جانے نہ کرے تیرگی کیا، اُس کی نمایاں
جگنو کا کِیا، کوئی شبِ تار نہ جانے
مٹی کو وہ بستر کرے، بازو کو سرہانہ
جو خانماں برباد ہے، گھر بار نہ جانے
چیونٹی کو ہمیشہ کسی چوٹی ہی سے دیکھے
عادل، کسی مظلوم کی تکرار نہ جانے
پینے کو بھی چھوڑے نہ کہیں، آبِ مصفّا
سیلاب ستم کا، کوئی معیار نہ جانے
کس درجہ جُھکانا ہے یہ سر، عجز میں ماجدؔ
بندہ ہی یہ جانے، کوئی اوتار نہ جانے
ماجد صدیقی

دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
مُبتلا عدل بھی اب جبر کے آزار میں ہے
دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے
ابر تا دیر نہ اَب بانجھ رہے گا شاید
حبس کا رنگ یہی موسمی آثار میں ہے
اَب کے اِس جال سے مشکل ہی سے نکلے شاید
صُبحِ اُمید کہ دامانِ شب تار میں ہے
ہر کہیں شور بھی، چیخیں بھی اُٹھیں گی لیکن
کُونج وُہ جس کو بچھڑنا ہے ابھی ڈار میں ہے
آگہی کرب ہے اور اِس کا مداوا مشکل
خار پیوست عجب دیدۂ بیدار میں ہے
کیا خبر صدق سے بر آئے بالآخر ماجدؔ!
یہ جو موہوم سی اُمید دلِ زار میں ہے
ماجد صدیقی

کسی نے آکر ہمیں ہے کب بے قرار دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
نہیں کوئی شہر زلزلے سے دوچار دیکھا
کسی نے آکر ہمیں ہے کب بے قرار دیکھا
الجھ گیا ہے جہاں بھی کانٹوں سے کوئی دامن
بچا بھی گر وہ تو پھراُسے تار تار دیکھا
جگر جو ٹکڑے ہوا تو اُس کی سلامتی کا
رضا پہ بردہ فروش کی، انحصار دیکھا
سگانِ پابند دشت میں جب کبھی کُھلے ہیں
فضا میں آندھی سا ایک اٹھتا غبار دیکھا
رقم جو شیشے پہ بس کے چڑیا ہوئی، کسی نے
کب اُس کے بچوں کا عالمِ انتظار دیکھا
نجانے کتنوں کو ہے وہ نیچا دکھا کے ابھرا
جسے بھی ماجدؔ سرِ نظر تاجدار دیکھا
ماجد صدیقی

چرخ کرتا ہے اُس پہ گرد نثار

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 117
جب بھی آئے کبھی چمن پہ نکھار
چرخ کرتا ہے اُس پہ گرد نثار
جس شجر پر سجے تھے برگ اور بار
رہ گئے اُس پہ عنکبوت کے تار
دامنِ وقت جو نہ تھام سکے
عمر بھر کاٹتا ہے وہ بیگار
شیر اُنہیں بھی ہے چاٹنے نکلا
میرے خوں سے بنے جو نقش و نگار
دشت میں تشنہ کام ہرنوں کو
آب ملتا تو ہے مگر اُس پار
سر پہ جب تک ہے آسماں ماجدؔ
آشیاں بھی کہاں ہے جائے قرار
ماجد صدیقی

لاحق ہونے کو ہے کیا آزار مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 158
آگ نظر آتا ہے ہر گلزار مجھے
لاحق ہونے کو ہے کیا آزار مجھے
شاید یوں تن کی عریانی ڈھانپ سکوں
بُننے ہیں اس پر ریشم کے تار مجھے
گرد کی چادر، زخم بریدہ شاخوں کے
موسم نے کیا برگ دئیے کیا بار مجھے
سیکھا مَیں نے جب سے فن تیراکی کا
روز پکارے ساحل سے منجدھار مجھے
ماجدؔ میرا روگ ہے رفعت ماتھے کی
راس نہیں آتا کوئی دربار مجھے
ماجد صدیقی

حرفِ حق جب بھی کہو جان کا آزار بنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
پا بہ زنجیر کرے، طوق بنے، دار بنے
حرفِ حق جب بھی کہو جان کا آزار بنے
مسکراتا ہے اُسے دیکھ کے ہر اہلِ ہوس
جب کوئی لفظ گریباں کا مرے، تار بنے
تھا نہ یاروں پہ کچھ ایسا بھی بھروسہ لیکن
اَب کے تو لوگ سرِ بزم یہ اغیار بنے
کیا توقّع ہو بھلا لطفِ مناظر سے کہ آنکھ
کربِ آشوب سے ہی دیدۂ بیدار بنے
ہاں مرے جُرم کی کچھ اور بھی تشہیر کرو
کیا خبر، جشن مری موت کا تہوار بنے
کیا کہُوں جس کے سبب لائقِ تعزیز ہُوں مَیں
حرفِ بے نام وہی چشمۂ انوار بنے
ہم کہ محسُود ہیں اِس فکر کی ضَو سے ماجدؔ
جانے کب نورُ یہی اپنے لئے نار بنے
ماجد صدیقی

جبر کے اختیار میں، عمر گزار دی گئی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 55
کاوشِ روزگار میں، عمر گزار دی گئی
جبر کے اختیار میں، عمر گزار دی گئی
لمحۂ تازہ پھر کوئی آنے نہیں دیا گیا
ساعتِ انتظار میں، عمر گزار دی گئی
سوزنِ چشمِ یار سے، شوق رفو گری کا تھا
جامۂ تار تار میں، عمر گزار دی گئی
بامِ خیال پر اُسے دیکھا گیا تھا ایک شب
پھر اُسی رہ گزار میں، عمر گزار دی گئی
کھینچ رہی تھی کوئی شے ہم کو ہر ایک سمت سے
گردشِ بے مدار میں، عمر گزار دی گئی
رکھا گیا کسی سے یوں، ایک نفس کا فاصلہ
سایۂ مشک بار میں، عمر گزار دی گئی
زخمِ امید کا علاج، کوئی نہیں کیا گیا
پرسشِ نوکِ خار میں، عمر گزار دی گئی
دھول نظر میں رہ گئی، اُس کو وداع کر دیا
اور اُسی غبار میں، عمر گزار دی گئی
ساری حقیقتوں سے ہم، صرفِ نظر کیے رہے
خواب کے اعتبار میں، عمر گزار دی گئی
آیا نہیں خیال تک، شوق کے اختتام کا
خواہشِ بے کنار میں، عمر گزار دی گئی
صحبتِ تازہ کار کی، نغمہ گری تھی رایگاں
شورِ سکوتِ یار میں، عمر گزار دی گئی
وہ جو گیا تو ساتھ ہی، وقت بھی کالعدم ہوا
لمحۂ پُر بہار میں، عمر گزار دی گئی
عرفان ستار

میں تو تہِ مزار ہوں تم تو ہو مزار پر

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 44
کیونکر رکھو گے ہاتھ دلِ بے قرار پر
میں تو تہِ مزار ہوں تم تو ہو مزار پر
یہ دیکھنے، قفس میں بنی کیا ہزار پر
نکہت چلی ہے دوشِ نسیم بہار پر
گر یہ ہی جور و ظلم رہے خاکسار پر
منہ ڈھک کے روئے گا تو کسی دن مزار پر
ابرو چڑھے ہوئے ہیں دلِ بے قرار پر
دو دو کھنچی ہوئی ہیں کمانیں شکار پر
رہ رہ گئی ہیں ضعف سے وحشت میں حسرتیں
رک رک گیا ہے دستِ جنوں تار تار پر
شاید چمن میں فصلِ بہاری قریب ہے
گرتے ہیں بازوؤں سے مرے بار بار پر
یاد آئے تم کو اور پھر آئے مری وفا
تم آؤ رونے اور پھر آؤ مزار پر
کس نے کئے یہ جور، حضور آپ نے کئے
کس پر ہوئے یہ جور، دلِ بے قرار پر
سمجھا تھا اے قمر یہ تجلی انھیں کی ہے
میں چونک اٹھا جو چاندنی آئی مزار پر
قمر جلالوی

پستی سے ہم کنار ملے کوہسار بھی؟

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 56
آتا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اتار بھی؟
پستی سے ہم کنار ملے کوہسار بھی؟
دل کیوں دھڑکنے لگتا ہے ابھرے جو کوئی چاپ
اب تو نہیں کسی کا مجھے انتظار بھی!
جب بھی سکوتِ شام میں آیا ترا خیال
کچھ دیر کو ٹھہر سا گیا آبشار بھی
کچھ ہو گیا ہے دھوپ سے خاکستری بدن
کچھ جم گیا ہے راہ کا مجھ پر غبار بھی
اس فاصلوں کے دشت میں رہبر وہی بنے
جس کی نگاہ دیکھ لے صدیوں کے پار بھی
اے دوست، پہلے قرب کا نشّہ عجیب تھا
میں سن سکا نہ اپنے بدن کی پکار بھی
رستہ بھی واپسی کا کہیں بن میں کھو گیا
اوجھل ہوئی نگاہ سے ہرنوں کی ڈار بھی
کچھ عقل بھی ہے باعثٕ توقیر اے شکیبؔ
کچھ آ گئے ہیں بالوں میں چاندی کے تار بھی
شکیب جلالی

اگر ہو اہلِ نگاہ یارو، چٹان کے آر پار دیکھو

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 35
ملا نہیں اذان رقص جن کو، کبھی تو وہ بھی شرار دیکھو
اگر ہو اہلِ نگاہ یارو، چٹان کے آر پار دیکھو
یہ جان لینا وہاں بھی کوئی کسی کی آمد کا منتظر تھا
کسی مکاں کے جو بام و در پر بجھے دیوں کی قطار دیکھو
اگر چہ بے خانماں ہیں لیکن ہمارا ملنا نہیں ہے مشکل
ادھر ہی صحرا میں دوڑ پڑنا، جدھر سے اٹھتا غبار دیکھو
عجب نہیں ہے پہاڑیوں پر شفق کا سونا پگھل رہا ہو
مکانِ تیرہ کے روزنوں میں یہ نور کے آبشار دیکھو
جو ابرِ رحمت سے ہو نہ پایا کیا ہے وہ کام آندھیوں نے
نہیں ہے خار و گیاہ باقی، چمک اٹھا رہگزر دیکھو
وہ راگ خاموش ہو چکا ہے سنانے والا بھی سو چکا ہے
لرز رہے ہیں مگر ابھی تک شکستہ بربط کے تار دیکھو
اک آہ بھرنا شکیبؔ ہم سے خزاں نصیبوں کو یاد کر کے
کلائیوں میں جو ٹہنیوں کی مہکتی کلیوں کے ہار دیکھو
شکیب جلالی

مِرا سر رنجِ بالیں ہے ، مِرا تَن بارِ بستر ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 275
تپِش سے میری ، وقفِ کش مکش ، ہر تارِ بستر ہے
مِرا سر رنجِ بالیں ہے ، مِرا تَن بارِ بستر ہے
سرشکِ سر بہ صحرا دادہ ، نورالعینِ دامن ہے
دلِ بے دست و پا اُفتادہ بر خوردارِ بستر ہے
خوشا اقبالِ رنجوری ! عیادت کو تم آئے ہو
فروغِ شمع بالیں ، طالعِ بیدارِ بستر ہے
بہ طوفاں گاہِ جوشِ اضطرابِ شامِ تنہائی
شعاعِ آفتابِ صبحِ محشر تارِ بستر ہے
ابھی آتی ہے بُو ، بالش سے ، اُس کی زلفِ مشکیں کی
ہماری دید کو ، خوابِ زلیخا ، عارِ بستر ہے
کہوں کیا ، دل کی کیا حالت ہے ہجرِ یار میں ، غالب!
کہ بے تابی سے ہر یک تارِ بستر ، خارِ بستر ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

جاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 229
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
جاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوے
سائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر
تو اس قدِ دلکش سے جو گلزار میں آوے
تب نازِ گراں مایگئ اشک بجا ہے
جب لختِ جگر دیدۂ خوں بار میں آوے
دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستمگر
کچھ تجھ کو مزہ بھی مرے آزار میں آوے
اس چشمِ فسوں گر کا اگر پائے اشارہ
طوطی کی طرح آئینہ گفتار میں آوے
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب
اک آبلہ پا وادیِ پر خار میں آوے
مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تنِ نازک
آغوشِ خمِ حلقۂ زُنّار میں آوے
غارت گرِ ناموس نہ ہو گر ہوسِ زر
کیوں شاہدِ گل باغ سے بازار میں آوے
تب چاکِ گریباں کا مزا ہے دلِ نالاں@
جب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سے
اے وائے اگر معرضِ اظہار میں آوے
گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے
@ مالک رام اور عرشی میں ہے ’دلِ ناداں‘ لیکن ’نالاں‘ ہی غالب کے اندازِ بیان کے مطابق زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

یعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 183
دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں
یعنی ہمارے@ جیب میں اک تار بھی نہیں
دل کو نیازِ حسرتِ دیدار کر چکے
دیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار بھی نہیں
ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
بے عشق عُمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں
طاقت بہ قدرِلذّتِ آزار بھی نہیں
شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوش
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
گنجائشِ عداوتِ اغیار اک طرف
یاں دل میں ضعف سے ہوسِ یار بھی نہیں
ڈر نالہ ہائے زار سے میرے، خُدا کو مان
آخر نوائے مرغِ گرفتار بھی نہیں
دل میں ہے یار کی صفِ مژگاں سے روکشی
حالانکہ طاقتِ خلشِ خار بھی نہیں
اس سادگی پہ کوں نہ مر جائے اے خُدا!
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہا
دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں
@ جَیب، جیم پر فتح (زبر) مذکّر ہے، بمعنی گریبان۔ اردو میں جیب، جیم پر کسرہ (زیر) کے ساتھ، بمعنی کیسہ (Pocket) استعمال میں زیادہ ہے، یہ لفظ مؤنث ہےاس باعث اکثر نسخوں میں ’ہماری‘ ہے۔ قدیم املا میں یائے معروف ہی یائے مجہول (بڑی ے)کی جگہ بھی استعمال کی جاتی تھی اس لئے یہ غلط فہمی مزید بڑھ گئی۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

وضع میں گو ہوئی دو سر، تیغ ہے ذوالفقار ایک

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 154
دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایک
وضع میں گو ہوئی دو سر، تیغ ہے ذوالفقار ایک
ہم سخن اور ہم زباں، حضرتِ قاسسم و طباں
ایک تپش@ کا جانشین، درد کی یادگار ایک
نقدِ سخن کے واسطے ایک عیارِ آگہی
شعر کے فن کے واسطے، مایۂ اعتبار ایک
ایک وفا و مہر میں تازگئِ بساطِ دہر
لطف و کرم کے باب میں زینتِ روزگار ایک
گُلکدۂ تلاش کو، ایک ہے رنگ، اک ہے بو
ریختہ کے قماش کو، پود ہے ایک، تار ایک
مملکتِ کمال میں ایک امیرِ نامور
عرصۂ قیل و قال میں، خسروِ نامدار ایک
گلشنِ اتّفاق میں ایک بہارِ بے خزاں
مے کدۂ وفاق میں بادۂ بے خمار ایک
زندۂ شوقِ شعر کو ایک چراغِ انجمن
کُشتۂ ذوقِ شعر کو شمعِ سرِ مزار ایک
دونوں کے دل حق آشنا، دونوں رسول (ص) پر فِدا
ایک مُحبِّ چار یار، عاشقِ ہشت و چار ایک
جانِ وفا پرست کو ایک شمیمِ نو بہار
فرقِ ستیزہ مست کو، ابرِ تگرگِ بار ایک
لایا ہے کہہ کے یہ غزل، شائبۂ رِیا سے دور
کر کے دل و زبان کو غالب خاکسار ایک
@نسخے میں اگرچہ ‘طپش’ ہے لیکن صحیح تپش ہی درست ہونا چاہئے
مرزا اسد اللہ خان غالب

رہ رہ گئے مہ و خور آئینہ وار دونوں

دیوان چہارم غزل 1466
کیا کیا جھمک گئے ہیں رخسار یار دونوں
رہ رہ گئے مہ و خور آئینہ وار دونوں
تصویر قیس و لیلیٰ ٹک ہاتھ لے کے دیکھو
کیسے ہیں عاشقی کے حیران کار دونوں
دست جنوں نے اب کے کپڑوں کی دھجیاں کیں
دامان و جیب میرے ہیں تار تار دونوں
پر سال کی سی بارش برسوں میں پھر ہوئی تھی
ابر اور دیدئہ تر روتے ہیں زار دونوں
دن ہیں بڑے کبھو کے راتیں بڑی کبھو کی
رہتے نہیں ہیں یکساں لیل و نہار دونوں
دل اور برق ابر و فصل گل ایک سے ہیں
یعنی کہ بے کلی سے ہیں بے قرار دونوں
خوش رنگ اشک خونیں گرتے رہے برابر
باغ و بہار ہیں اب جیب و کنار دونوں
اس شاخ گل سے قد کی کیا چوٹ لگ گئی ہے
جو دل جگر ہوئے ہیں خون ایک بار دونوں
چلتے جو اس کو دیکھا جی اپنے کھنچ گئے ہیں
ہم اور میر یاں ہیں بے اختیار دونوں
میر تقی میر

منھ کرے ٹک ادھر بہار اے کاش

دیوان چہارم غزل 1403
نکلے پردے سے روے یار اے کاش
منھ کرے ٹک ادھر بہار اے کاش
کچھ وسیلہ نہیں جو اس سے ملوں
شعر ہو یار کا شعار اے کاش
کہیں اس بحر حسن سے بھر جائے
موج ساں میری بھی کنار اے کاش
برق ساں ہو چکوں تڑپ کر میں
یوں ہی آوے مجھے قرار اے کاش
اعتمادی نہیں ہے یاری غیر
یار سے ہم سے ہووے پیار اے کاش
آوے سررشتۂ جنوں کچھ ہاتھ
ہو گریبان تار تار اے کاش
میر جنگل تمام بس جاوے
بن پڑے ہم سے روزگار اے کاش
میر تقی میر

دل کہاں وقت کہاں عمر کہاں یار کہاں

دیوان دوم غزل 896
باغ گو سبز ہوا اب سر گلزار کہاں
دل کہاں وقت کہاں عمر کہاں یار کہاں
تم تو اب آنے کو پھر کہہ چلے ہو کل لیکن
بے کل ایسا ہی رہا شب تو یہ بیمار کہاں
دل کی خواہش ہو کسو کو تو کمی دل کی نہیں
اب یہی جنس بہت ہے پہ خریدار کہاں
خاک یاں چھانتے ہی کیوں نہ پھرو دل کے لیے
ایسا پہنچے ہے بہم پھر کوئی غم خوار کہاں
دم زدن مصلحت وقت نہیں اے ہمدم
جی میں کیا کیا ہے مرے پر لب اظہار کہاں
شیخ کے آنے ہی کی دیر ہے میخانے میں پھر
سبحہ سجادہ کہاں جبہ و دستار کہاں
ہم سے ناکس تو بہت پھرتے ہیں جی دیتے ولے
زخم تیغ اس کے اٹھانے کا سزاوار کہاں
تونے بھی گرد رخ سرخ نکالا خط سبز
باغ شاداب جہاں میں گل بے خار کہاں
خبط نے عقل کے سر رشتے کیے گم سارے
اب جو ڈھونڈو تو گریباں میں کوئی تار کہاں
گوکہ گردن تئیں یاں کوئی لہو میں بیٹھے
ہاتھ اٹھاتا ہے جفا سے وہ ستم گار کہاں
ڈوبا لوہو میں پڑا تھا ہمگی پیکر میر
یہ نہ جانا کہ لگی ظلم کی تلوار کہاں
میر تقی میر

رہتی ہے میرے خلق کے تلوار درمیاں

دیوان دوم غزل 894
جب سے ہے اس کی ابروے خمدار درمیاں
رہتی ہے میرے خلق کے تلوار درمیاں
برپا ہوا ہجوم سے اک حشر تازہ واں
آیا جہاں کہیں قدم یار درمیاں
اس کام جاں میں ہم میں ہوا ہے حجاب چشم
یوں رہیے آہ کب تئیں دیوار درمیاں
سو بار اس سے فتنے جہاں میں اٹھے ولے
دیکھی نہ ہم نے وہ کمر اک بار درمیاں
کیا کہیے آہ جی کو قیامت ہے انتظار
آتا نہ کاش وعدئہ دیدار درمیاں
رکھ دی ہے کتنے روزوں سے تلوار یار نے
کوئی نہیں ہے خوں کا سزاوار درمیاں
ثابت ہے ساری خلق کے اوپر کہ تو ہے ایک
حاجت نہیں جو آوے یہ تکرار درمیاں
آیا کیے دماغ کے اعضا میں یہ فتور
ٹھہرے قشون کیا نہیں سردار درمیاں
بازار میں دکھائی ہے کب ان نے جنس حسن
جو بک نہیں گئے ہیں خریدار درمیاں
دیکھیں چمن جو سینۂ پر داغ سے بڑھیں
بیداد ہے یہ قطعۂ گلزار درمیاں
کھنچنے نہ پائی اس کی تو تلوار بھیڑ میں
مارا گیا عبث یہ گنہگار درمیاں
اب کے جنوں کے بیچ گریباں کا ذکر کیا
کہیے بھی جو رہا ہو کوئی تار درمیاں
کتنے دنوں سے میر کا نالہ نہیں سنا
شاید نہیں ہے اب وہ گرفتار درمیاں
میر تقی میر

لیلیٰ کا ایک ناقہ سو کس قطار میں یاں

دیوان دوم غزل 886
محمل نشیں ہیں کتنے خدام یار میں یاں
لیلیٰ کا ایک ناقہ سو کس قطار میں یاں
سن شور کل قفس میں دل داغ سب ہوا ہے
کیا پھول گل کھلے ہیں اب کے بہارمیں یاں
کب روشنی ہو میرے رونے میں ابر تجھ سے
دریا بھرے ہیں ایک اک دامن کے تار میں یاں
تم تو گئے دکھاکر ٹک برق کے سے جھمکے
آیا بہت تفاوت صبر و قرار میں یاں
ہم مر گئے ولیکن سوز دروں وہی ہے
ایک آگ لگ اٹھی ہے کنج مزار میں یاں
ہجراں کی ہر گھڑی ہے سو سو برس تعب سے
روز شمار یارو ہے کس شمار میں یاں
جن راتوں میر ہم کو رونے کا مشغلہ تھا
رہتا تھا بحر اعظم سو تو کنار میں یاں
میر تقی میر

کوچہ کوئی کوئی ہے چمن زار سا ہنوز

دیوان دوم غزل 819
ہے میرے لوہو رونے کا آثار سا ہنوز
کوچہ کوئی کوئی ہے چمن زار سا ہنوز
کب تک کھنچے گی صبح قیامت کی شام کو
عرصے میں میں کھڑا ہوں گنہگار سا ہنوز
مدت ہوئی کہ خون جگر میں نہیں ولے
جاتا ہے آنسوئوں کا چلا تار سا ہنوز
سایہ سا آگیا تھا نظر اس کا ایک دن
مبہوت میں پھروں ہوں پری دار سا ہنوز
برسوں سے گل چمن میں نکلتے ہیں رنگ رنگ
نکلا نہیں ہے ایک رخ یار سا ہنوز
دیکھا تھا خانہ باغ میں پھرتے اسے کہیں
گل حیرتی ہے صورت دیوار سا ہنوز
مدت سے ترک عشق کیا میر نے ولے
زار و زبون و زرد ہے بیمار سا ہنوز
میر تقی میر

آج کل مجھ کو مار رہتا ہے

دیوان اول غزل 600
دل جو پر بے قرار رہتا ہے
آج کل مجھ کو مار رہتا ہے
تیرے بن دیکھے میں مکدر ہوں
آنکھوں پر اب غبار رہتا ہے
جبر یہ ہے کہ تیری خاطر دل
روز بے اختیار رہتا ہے
دل کو مت بھول جانا میرے بعد
مجھ سے یہ یادگار رہتا ہے
دور میں چشم مست کے تیری
فتنہ بھی ہوشیار رہتا ہے
بسکہ تیرا ہوا بلا گرداں
سر کو میرے دوار رہتا ہے
ہر گھڑی رنجش ایسی باتوں میں
کوئی اخلاص و پیار رہتا ہے
تجھ بن آئے ہیں تنگ جینے سے
مرنے کا انتظار رہتا ہے
دل کو گو ہاتھ میں رکھو اب تم
کوئی یہ بے قرار رہتا ہے
غیر مت کھا فریب خلق اس کا
کوئی دم میں وہ مار رہتا ہے
پی نہ ہرگز شراب جیسا چاہ
اس کے نشے کا تار رہتا ہے
پر ہو پیمانہ عمر کا جب تک
تب تلک یہ خمار رہتا ہے
دلبرو دل چراتے ہو ہر دم
یوں کہیں اعتبار رہتا ہے
کیوں نہ ہووے عزیز دلہا میر
کس کے کوچے میں خوار رہتا ہے
میر تقی میر

رشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی

دیوان اول غزل 458
گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئی
رشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی
کب تلک داغ دکھاوے گی اسیری مجھ کو
مر گئے ساتھ کے میرے تو گرفتار کئی
وے ہی چالاکیاں ہاتھوں کی ہیں جو اول تھیں
اب گریباں میں مرے رہ گئے ہیں تار کئی
خوف تنہائی نہیں کر تو جہاں سے تو سفر
ہر جگہ راہ عدم میں ملیں گے یار کئی
اضطراب و قلق و ضعف میں کس طور جیوں
جان واحد ہے مری اور ہیں آزار کئی
کیوں نہ ہوں خستہ بھلا میں کہ ستم کے تیرے
تیر ہیں پار کئی وار ہیں سوفار کئی
اپنے کوچے میں نکلیو تو سنبھالے دامن
یادگار مژۂ میر ہیں واں خار کئی
میر تقی میر

تجھ کو بالیں پر نہ دیکھا کھولی سو سو بار چشم

دیوان اول غزل 275
کیا کہوں کیا رکھتے تھے تجھ سے ترے بیمار چشم
تجھ کو بالیں پر نہ دیکھا کھولی سو سو بار چشم
ہجر میں پاتا نہیں گریے کے سر رشتے کو میں
ہر سحر اٹھ باندھ دے ہے آنسوئوں کا تار چشم
گوئیا ناسور زخم دل تھی یہ اے ہم نشیں
پیش ازیں کیا کیا سمیں دکھلاتی تھی خوں بار چشم
سینکڑوں ہوں کشتنی تو لاویں کچھ تاب نگاہ
ایک دو کا کام کب ہے اس سے ہونا چار چشم
جرم کیا غیروں کا طالع چشم پوشی کرتے ہیں
دیکھ کر احوال میرا موند لے ہے یار چشم
روز و شب وا رہنے سے پیدا ہے میر آثار شوق
ہے کسو نظارگی کا رخنۂ دیوار چشم
میر تقی میر

کام آئے فراق میں اے یار

دیوان اول غزل 211
دل دماغ و جگر یہ سب اک بار
کام آئے فراق میں اے یار
کیوں نہ ہو ضعف غالب اعضا پر
مر گئے ہیں قشون کے سردار
گل پژمردہ کا نہیں ممنون
ہم اسیروں کا گوشۂ دستار
مت نکل گھر سے ہم بھی راضی ہیں
دیکھ لیں گے کبھو سر بازار
سینکڑوں حرف ہیں گرہ دل میں
پر کہاں پایئے لب اظہار
سیر کر دشت عشق کا گلشن
غنچے ہو ہورہے ہیں سو سو خار
روز محشر ہے رات ہجراں کی
ایسی ہم زندگی سے ہیں بیزار
بحث نالہ بھی کیجیو بلبل
پہلے پیدا تو کر لب گفتار
چاک دل پر ہیں چشم صد خوباں
کیا کروں یک انار و صد بیمار
شکر کر داغ دل کا اے غافل
کس کو دیتے ہیں دیدئہ بیدار
گو غزل ہو گئی قصیدہ سی
عاشقوں کا ہے طول حرف شعار
ہر سحر لگ چلی تو ہے تو نسیم
اے سیہ مست ناز ٹک ہشیار
شاخسانے ہزار نکلیں گے
جو گیا اس کی زلف کا اک تار
واجب القتل اس قدر تو ہوں
کہ مجھے دیکھ کر کہے ہے پکار
یہ تو آیا نہ سامنے میرے
لائو میری میاں سپر تلوار
آ زیارت کو قبر عاشق پر
اک طرح کا ہے یاں بھی جوش بہار
نکلے ہے میری خاک سے نرگس
یعنی اب تک ہے حسرت دیدار
میر صاحب زمانہ نازک ہے
دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار
سہل سی زندگی پہ کام کے تیں
اپنے اوپر نہ کیجیے دشوار
چار دن کا ہے مجہلہ یہ سب
سب سے رکھیے سلوک ہی ناچار
کوئی ایسا گناہ اور نہیں
یہ کہ کیجے ستم کسی پر یار
واں جہاں خاک کے برابر ہے
قدر ہفت آسمان ظلم شعار
یہی درخواست پاس دل کی ہے
نہیں روزہ نماز کچھ درکار
در مسجد پہ حلقہ زن ہو تم
کہ رہو بیٹھ خانۂ خمار
جی میں آوے سو کیجیو پیارے
لیک ہوجو نہ درپئے آزار
حاصل دو جہان ہے یک حرف
ہو مری جان آگے تم مختار
میر تقی میر

اس شوخ کم نما کا نت انتظار کھینچا

دیوان اول غزل 83
نقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچا
اس شوخ کم نما کا نت انتظار کھینچا
رسم قلمرو عشق مت پوچھ کچھ کہ ناحق
ایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا
تھا بدشراب ساقی کتنا کہ رات مے سے
میں نے جو ہاتھ کھینچا ان نے کٹار کھینچا
مستی میں شکل ساری نقاش سے کھنچی پر
آنکھوں کو دیکھ اس کی آخر خمار کھینچا
جی کھنچ رہے ہیں اودھر عالم کا ہو گا بلوہ
گر شانے تونے اس کی زلفوں کا تار کھینچا
تھا شب کسے کسائے تیغ کشیدہ کف میں
پر میں نے بھی بغل میں بے اختیار کھینچا
پھرتا ہے میر تو جو پھاڑے ہوئے گریباں
کس کس ستم زدے نے دامان یار کھینچا
میر تقی میر

اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا

دیوان اول غزل 64
موا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا
اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا
جنوں میں اب کے مجھے اپنے دل کا غم ہے پہ حیف
خبر لی جب کہ نہ جامے میں ایک تار رہا
بشر ہے وہ پہ کھلا جب سے اس کا دام زلف
سر رہ اس کے فرشتے ہی کا شکار رہا
کبھو نہ آنکھوں میں آیا وہ شوخ خواب کی طرح
تمام عمر ہمیں اس کا انتظار رہا
شراب عیش میسر ہوئی جسے اک شب
پھر اس کو روز قیامت تلک خمار رہا
بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا
وہ دل کہ جس کا خدائی میں اختیار رہا
وہ دل کہ شام و سحر جیسے پکا پھوڑا تھا
وہ دل کہ جس سے ہمیشہ جگر فگار رہا
تمام عمر گئی اس پہ ہاتھ رکھتے ہمیں
وہ دردناک علی الرغم بے قرار رہا
ستم میں غم میں سر انجام اس کا کیا کہیے
ہزاروں حسرتیں تھیں تس پہ جی کو مار رہا
بہا تو خون ہو آنکھوں کی راہ بہ نکلا
رہا جو سینۂ سوزاں میں داغ دار رہا
سو اس کو ہم سے فراموش کاریوں لے گئے
کہ اس سے قطرئہ خوں بھی نہ یادگار رہا
گلی میں اس کی گیا سو گیا نہ بولا پھر
میں میر میر کر اس کو بہت پکار رہا
میر تقی میر

دل نے اب زور بے قرار کیا

دیوان اول غزل 58
تابہ مقدور انتظار کیا
دل نے اب زور بے قرار کیا
دشمنی ہم سے کی زمانے نے
کہ جفا کار تجھ سا یار کیا
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
ایک ناوک نے اس کی مژگاں کے
طائر سدرہ تک شکار کیا
صدرگ جاں کو تاب دے باہم
تیری زلفوں کا ایک تار کیا
ہم فقیروں سے بے ادائی کیا
آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا
سخت کافر تھا جن نے پہلے میر
مذہب عشق اختیار کیا
میر تقی میر

اس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا

دیوان اول غزل 55
عالم میں کوئی دل کا طلبگار نہ پایا
اس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا
حق ڈھونڈنے کا آپ کو آتا نہیں ورنہ
عالم ہے سبھی یار کہاں یار نہ پایا
غیروں ہی کے ہاتھوں میں رہے دست نگاریں
کب ہم نے ترے ہاتھ سے آزار نہ پایا
جاتی ہے نظر خس پہ گہ چشم پریدن
یاں ہم نے پر کاہ بھی بے کار نہ پایا
تصویر کے مانند لگے در ہی سے گذری
مجلس میں تری ہم نے کبھو بار نہ پایا
سوراخ ہے سینے میں ہر اک شخص کے تجھ سے
کس دل کے ترا تیر نگہ پار نہ پایا
مربوط ہیں تجھ سے بھی یہی ناکس و نااہل
اس باغ میں ہم نے گل بے خار نہ پایا
دم بعد جنوں مجھ میں نہ محسوس تھا یعنی
جامے میں مرے یاروں نے اک تار نہ پایا
آئینہ بھی حیرت سے محبت کی ہوئے ہم
پر سیر ہو اس شخص کا دیدار نہ پایا
وہ کھینچ کے شمشیر ستم رہ گیا جو میر
خوں ریزی کا یاں کوئی سزاوار نہ پایا
میر تقی میر

غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا

دیوان اول غزل 33
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا
غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں
کب درمیاں سے وعدئہ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا
بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو
جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا
زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا
لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب
اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر
کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میر
اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
میر تقی میر

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 15
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے
کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے
بڑا ھے درد کا رشتہ، یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
حضورِ‌ یار ہوئی دفترِ جنوں کی طلب
گرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے
مقام، فیض، کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
منٹگمری جیل
فیض احمد فیض

کون اس فوج کا سالار ہے میں کیا جانوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 134
میں تو اک بکھری ہوئی صف کا پیادہ ٹھہرا
کون اس فوج کا سالار ہے میں کیا جانوں
تو فرستادۂ سرکار نہیں ہے نہ سہی
ہاتھ میں محضرِ سرکار ہے میں کیا جانوں
شحنۂ شہر کی خدمت میں لگے ہیں سب لوگ
کون غالب کا طرفدار ہے میں کیا جانوں
اک نیا رنگ ہویدا ہے مری آنکھوں میں
آج کیا سرخئ اخبار ہے میں کیا جانوں
تجھ کو سیلاب کے آنے کی خبر دے دی ہے
تیرا در ہے تری دیوار ہے میں کیا جانوں
میں نمو کرنے پہ راضی نہیں بے موجِ بہار
موسمِ دَرہم و دِینار ہے میں کیا جانوں
سرِ پندار تو مجھ کو بھی نظر آتا ہے
اور کیا کیا تہہِ دستار ہے میں کیا جانوں
قحط میں کب سے دکاں میری پڑی ہے خالی
عشق سے گرمئ بازار ہے میں کیا جانوں
ہے کہیں صبحِ خوش آثار بھی لیکن فی الحال
میرے آگے تو شبِ تار ہے میں کیا جانوں
مجھ کو آتی ہے ترے حرف سے احساس کی آنچ
سب تری گرمئ گفتار ہے میں کیا جانوں
عرفان صدیقی

میں اک کرن تھا شب تار سے نکل آیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 61
گرفت ثابت و سیار سے نکل آیا
میں اک کرن تھا شب تار سے نکل آیا
مرے لہو نے کہاں پار اُتارتا تھا مجھے
یہ راستہ تری تلوار سے نکل آیا
یہاں وہ حشر بپا تھا کہ میں بھی آخرکار
اگرچہ نقش تھا دیوار سے نکل آیا
تمام جادہ شناسوں کی گمرہی کا جواز
ذرا سی مستئ رفتار سے نکل آیا
مری بلا سے جو ہو کاروبار شوق تباہ
میں خود کو بیچ کے بازار سے نکل آیا
عرفان صدیقی

بیٹھے پِڑیاں مار کے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 49
دل تے سب کُجھ وار کے
بیٹھے پِڑیاں مار کے
ایہہ دیہوں کِنھوں لوڑ دا اے
بانہواں روز اُلیار کے
انگ نہ ماریں بِین تے
اُٹھسن سپ اُلیار کے
آئی سی اکھیاں تاپدی
گئی ہوٹھاں نوں ٹھار کے
کول تہاڈے لیاندیاں
سدھراں جہیاں نتار کے
توں اوڑک نوں بوڑیا
سانوں شوہ وچ تار کے
ماجدُ کنھوں ویکھدائیں
اکھیاں نوں کھلیار کے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ہے سن لوکی جاندے، سانوں شہروں پار وی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 11
اُنج ائی لگیاں تہمتاں، نئیں ساں کُجھ بُریار وی
ہے سن لوکی جاندے، سانوں شہروں پار وی
دِتی سی اِک لہر وچ، اکھ اشارے روشنی
نور جیہا اِک لشکیا، بُلھیاں دے وچکار وی
گزری رات پہاڑ جیہی، لے کے پلکاں بھاریاں
دُکھ نوں روڑھ نہ سکیاں، اکھیاں تار و تار وی
جُثے دے وچ روگ سن، اکھیاں ہے سن ویہندیاں
آل دوالے روح دا، پیا ہویا کِھلیار وی
وچ بہاراں چہکدا، پھُلاں وانگر مہکدا
رہ گیا اوڑک سہکدا، تیرا ماجدُ یار وی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)