ٹیگ کے محفوظات: تارہ

یعنی میرا استعارہ رکھ دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 112
ریل کی پٹڑی پہ تارہ رکھ دیا
یعنی میرا استعارہ رکھ دیا
کھینچ کر اس نے نظر کی ایک حد
آنکھ میں شوقِ نظارہ رکھ دیا
خاک پر بھیجا مجھے اور چاند پر
میری قسمت کا ستارہ رکھ دیا
بچ بچا کر کوزہ گر کی آنکھ سے
چاک پر خود کو دوبارہ رکھ دیا
دور تک نیلا سمندر دیکھ کر
میں نے کشتی میں کنارہ رکھ دیا
انتظار آباد یوں رکھا بدن
ہر روئیں پر ایک تارہ رکھ دیا
دیکھا جو سوکھی ہوئی لکڑی کا دل
اس میں خواہش کا شرارہ رکھ دیا
پہلے رکھا یاد نے منصور ہاتھ
رفتہ رفتہ بوجھ سارا رکھ دیا
منصور آفاق