ٹیگ کے محفوظات: تارا

احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر

رندوں کا ہو رہا ہے گزارا پیے بغیر
احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر
مے سے زیادہ ہم کو ترا میکدہ عزیز
خوش ہو رہے ہیں کر کے نظارا پیے بغیر
گِنتے ہوئے ستارے گزرتی ہے اُس کی رات
جو دیکھتا ہے شام کا تارا پیے بغیر
اِس اجنبی دیار میں ملتی نہیں شراب
کرنا ہے اب یہ رنج گوارا پیے بغیر
پی لو گے چار گھُونٹ تو باصرِؔ کرو گے کیا
درکار ہے تمہیں تو سہارا پیے بغیر
باصر کاظمی

سرطان مرا ستارا کب تھا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 25
یوں حوصلہ دل نے ہارا کب تھا
سرطان مرا ستارا کب تھا
لازم تھا گزرنا زندگی سے
بِن زہر پیئے گزارا کب تھا
کچھ پل مگر اور دیکھ سکتے
اشکوں کو مگر گوارا کب تھا
ہم خود بھی جُدائی کا سبب تھے
اُس کا ہی قصور سارا کب تھا
اب اور کے ساتھ ہے تو کیا دکھ
پہلے بھی وہ ہمارا کب تھا
اِک نام پہ زخم کھل اٹھے تھے
قاتل کی طرف اشارا کب تھا
آئے ہو تو روشنی ہوئی ہے
اس بام پہ کوئی تارا کب تھا
دیکھا ہوا گھر تھا پر کسی نے
دُلہن کی طرح سنوارا کب تھا
پروین شاکر

وہ نہانے کیا چلے آئے تماشا ہو گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 33
پیشِ ساحل اِک ہجومِ موجِ دریا ہو گیا
وہ نہانے کیا چلے آئے تماشا ہو گیا
کاٹنی ہی کیا شبِ ہستی سَرائے دہر میں
اِک ذرا سی آنکھ جھپکائی سویرا ہو گیا
کچھ مری خاموشیاں ان کی سمجھ میں آ گئیں
کچھ میری آنکھوں سے اظہارِ تمنا ہو گیا
نزع کے عالم میں قاصد لے کے جب آیا جواب
ڈوبنے والوں کو تنکے کا سہارا ہو گیا
آپنے سر پر موجِ طوفاں بڑھا کہ لیتی ہے قدم
میرا بیڑا قابلِ تعظیمِ دریا ہو گیا
دیکھ لینا یہ ستم اک دن مٹا دیں گے مجھے
تم یہ کہتے ہوے رہ جاؤ گے کیا ہو گیا
ساحلِ امید وعدہ اب تو چھوڑو اے قمر
غرقِ بحرِ آسماں ایک ایک تارا ہو گیا
قمر جلالوی

آس ہے تیری ہی دل دارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 23
دل ہے سوالی تجھ سے دل آرا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
آس ہے تیری ہی دل دارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
پلکوں کی جھولی پھیلی ہے، پڑ جائیں اس میں کچھ کرنیں
تو ہے دل آکاش کا تارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
ایک صدا ہونٹوں پر لے کے، تیری گلی میں ہم روتے تھے
آ نکلا ہے اک بے چارہ، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
تیرے ہی در کے ہم ہیں سوالی، تیرا ہی در دل میں کھلا ہے
شہرِ نظر در بند ہے سارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
تیرا تمنائی رکھتا ہے، ایک نظر دیدارِ تمنا
ساجن پیارے، میرا پیارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
باناں جان تری حسرت میں، رات بھلا کیسے گزرے گی
سارا دن حسرت میں گزارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا، سینہ خالی کر ڈالا ہے
لے میں اپنی سانس بھی ہارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
جون ایلیا

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

دیوان پنجم غزل 1736
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک
اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے
آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں
کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے
عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہو گا دنیا میں
جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے
چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں
ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے
کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہ
طائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے
مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں
اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے
عاشق تو مردہ ہے ہمیشہ جی اٹھتا ہے دیکھے اسے
یار کے آجانے کو یکایک عمر دوبارہ جانے ہے
کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپنا
جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے
رخنوں سے دیوار چمن کے منھ کو لے ہے چھپا یعنی
ان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے
تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میر بھی ناداں تلخی کش
دمدار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے
میر تقی میر

کالی رات دیا دے کوئی، جنگل کوئی تارا دے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 262
روشنیوں کے مالک اب ہم کو رستے کا اشارا دے
کالی رات دیا دے کوئی، جنگل کوئی تارا دے
جانے کب سے جلنے والے، ڈوبنے والے، سوچتے ہیں
شاید کوئی آگ میں کیاری، پانی میں گلیارا دے
سوکھے ہوئے دریا کے کنارے، پیڑ کھڑے ہیں دِھیر دَھرے
بادل چادر سایہ کرے، یا لہر کوئی چمکارا دے
اُجلی لڑکی دُنیا میں بڑی کالک ہے، پر ایسا ہو
مانگ میں تیری جگنو چمکیں‘ لونگ تری لشکارا دے
رُکنا ہو یا چلنا ہو، کوئی فکر نہیں بنجارے کو
بنجارن نئے چھپر چھائے، کوچ میں پوت سہارا دے
عرفان صدیقی