ٹیگ کے محفوظات: تاجور

ہمیں بھی خبط سا لاحق ہے امیدِ سحر کب ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 89
افق پر، مہر بننا تھا جسے اَب وُہ شرر، کب ہے
ہمیں بھی خبط سا لاحق ہے امیدِ سحر کب ہے
کبھی ایسا بھی تھا لیکن نہ تھے جب بخت برگشتہ
اِسے دریوزہ گر کہئے، یہ دل اَب تاجور کب ہے
اثر جس کا مرض کی ابتدا تک ہی مسلّم تھا
ملے بھی گر تو وُہ نسخہ بھلا اب کارگر کب ہے
چلے تو ہیں کہ انسانوں کو ہم، ہم مرتبت دیکھیں
مگر جو ختم ہو جائے بھلا یہ وہ سفر کب ہے
علی الاعلان حق میں بولتا ہو جو نحیفوں کے
اُسے مردود کہئیے شہر میں وُہ معتبر کب ہے
قفس کا در کہاں کھُلنے کا ہے لیکن اگر ماجدؔ
کھُلا بھی دیکھ لیں تو اعتبارِ بال و پر کب ہے
ماجد صدیقی

چُپ چاپ تھے جانے کیوں شجر بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
سہمے تھے چمن کے نغمہ گر بھی
چُپ چاپ تھے جانے کیوں شجر بھی
محرومِ ہوائے گل رہے ہم
ہر چند کھُلے تھے اپنے در بھی
انجام سے جیسے باخبر تھے
ٹھِٹکے رہے گُل بہ شاخِ تر بھی
ہے جاں پہ نظر سو وہ بھی لے لے
اے درد کی رو! کہیں ٹھہر بھی
کچھ کچھ ہمیں مانتے ہیں اب کے
اِس مُلکِ سخن کے تاجور بھی
اک صبر ذرا، وہ دیکھ ماجدؔ
کھُلتا ہے دریچۂ سحر بھی
ماجد صدیقی

ہُوئے اجنبی وہی بام و در ترے شہر میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
تھے جو آشنائے دل و نظر ترے شہر میں
ہُوئے اجنبی وہی بام و در ترے شہر میں
کبھی سر پہ میرے بھی باز بیٹھا تھا آن کے
کسی روز میں بھی تھا تاجور ترے شہر میں
وہ نظر کہ جس سے تھے دل کو تجھ سے معاملے
ہے اُجاڑ اب وہی راہگزر ترے شہر میں
وہ ستم کبھی سر عام جس کو رواج تھا
وہی اب روا ہے پسِ نظر ترے شہر میں
ہمیں تھے کبھی ترے نیّرِ اُفقِ نگاہ
ہمیں ذرّہ ذرّہ گئے بکھر ترے شہر میں
کیا اختیار سخن تو کب یہ گمان تھا
کہ کرے گا خوار یہی ہنر ترے شہر میں
ماجد صدیقی