ٹیگ کے محفوظات: بیچارے

بازخواہ خوں نہ تھا مارے گئے مارے گئے

دیوان پنجم غزل 1773
بے کسان عشق تھے ہم غم میں کھپ سارے گئے
بازخواہ خوں نہ تھا مارے گئے مارے گئے
بار کل تک ناتوانوں کو نہ تھا اس بزم میں
گرتے پڑتے ہم بھی عاجز آج واں بارے گئے
چھاتی میری سرد آہوں سے ہوئی تھی سب کرخت
استخواں اب اس کے اشک گرم سے دھارے گئے
بخت جاگے ہی نہ ٹک جو ہو خبر گھر میں اسے
صبح تک ہم رات دیواروں سے سر مارے گئے
میر قیس و کوہکن ناچار گذرے جان سے
دو جہاں حسرت لیے ہمراہ بیچارے گئے
میر تقی میر

عاشق اس کی قامت کے بالا بالا مارے گئے

دیوان پنجم غزل 1755
اس تک کوشش سے بھی نہ پہنچے جان سے آخر سارے گئے
عاشق اس کی قامت کے بالا بالا مارے گئے
اس کے روے خوے کردہ پہ نقاب لیے وہ صورت ہے
جیسے یکایک سطح ہوا پر بدلی آئی تارے گئے
ایسے قماری سے دل کو لگاکر جیتے رہنا ہو نہ سکا
رفتۂ شاہدبازی اس کے جی بھی اپنا ہارے گئے
چارہ گر اس شہر کے ہوں تو فکر کریں آبادی کا
یارب بستے تھے جو یاں وے لوگ کہاں بیچارے گئے
مشکل میر نظر آتا تھا اٹھنا بار امانت کا
آئے ہم تو سہولت سے وہ بوجھ اٹھاکر بارے گئے
میر تقی میر