ٹیگ کے محفوظات: بینوں

جنونِ کوچَہِ جاناں ہے سَر فروشوں میں

ہے شور اہلِ محبّت کے عیب کوشوں میں
جنونِ کوچَہِ جاناں ہے سَر فروشوں میں
عجب نہیں ہے دیارِ خرَد کی ویرانی
یہ دَورِ رقصِ جنوں ہے تماش بینوں میں
نظر ہے حال پَہ کوئی نہ فکرِ آیندہ
بقا کا ذِکر بہت ہے فنا بدوشوں میں
کبھی رہے نہ خریدارِ عالَمِ فانی
ہمیَں شمار نہ کیجے سکوں فروشوں میں
وہ حُبِّ جاہ ہو یا شوقِ خُود نُمائی ہو
تمام رنگ مِلیں گے سفید پوشوں میں
یہ کون مطلعِ انوار بَن کے روشَن ہے
حواس و ہوش کے ضامنؔ تمام گوشوں میں
ضامن جعفری

کہ تو دارو پیے ہے رات کو مل کر کمینوں سے

دیوان سوم غزل 1292
سنا جاتا ہے اے گھتیے ترے مجلس نشینوں سے
کہ تو دارو پیے ہے رات کو مل کر کمینوں سے
گئی گرم اختلاطی کب کی ان سحر آفرینوں سے
لگے رہتے ہیں داغ ہجر ہی اب اپنے سینوں سے
گلے لگ کر نہ یک شب کاش وہ مہ سوگیا ہوتا
مری چھاتی جلا کرتی ہے اب کتنے مہینوں سے
خدا جانے ہے اپنا تو جگر کانپا ہی کرتا ہے
چڑھی تیوری سے محبوبوں کی اور ابرو کی چینوں سے
بہت کوتاہ دامن خرقے شیخوں کے پھٹے پائے
کہیں نکلے تھے گورے ہاتھ اس کے آستینوں سے
رہے محو خیال اس کے تو یک دقت سے ہاتھ آئے
نزاکت اس کمر کی پوچھی ہم باریک بینوں سے
برنگ برگ گل ساتھ ایک شادابی کے ہوتا ہے
عرق چیں بھیگتا ہے دلبروں کے جب پسینوں سے
بہت میں لخت دل رویا مجھے اک خلق نے جانا
ہوا ہے پہن میرا نام ان رنگیں نگینوں سے
غزل ہی کی ردیف و قافیہ کا رفتہ رہنا ہے
نکلنا میر اب مشکل ہے میرا ان زمینوں سے
میر تقی میر