ٹیگ کے محفوظات: بیقرار

ہے خزاں بھی بہار میں مصروف

سازشِ انتشار میں مصروف
ہے خزاں بھی بہار میں مصروف
ہم نے رکھا کئی طرح خود کو
فرصتِ انتظار میں مصروف
مثلِ سیاّرگاں بنی آدم
اپنے اپنے مدار میں مصروف
عشق روتا ہے آٹھ آٹھ آنسو
حُسن سولہ سِنگھار میں مصروف
آہ وہ وقت جب لہو میرا
تھا دلِ بیقرار میں مصروف
زندگی کٹ رہی ہے باصرِؔ کی
بے ثمر کاروبار میں مصروف
باصر کاظمی

یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 2
میرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا
وہ سر مزار ہوتا، میں تہِ مزار ہوتا
ترا میکدہ سلامت، ترے خم کی خیر ساقی
مرا نشہ کیوں اُترتا، مجھے کیوں‌ خمار ہوتا
مرے اتقا کا باعث تو ہے مری ناتوانی
جو میں توبہ توڑ سکتا تو شراب خوار ہوتا
میں ہوں‌ نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی
کہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا
نہیں پوچھتا ہے مجھ کو کوئی پھول اس چمن میں
دلِ داغدار ہوتا ہو گلے کا ہار ہوتا
وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یارب
مرے دونوں پہلوؤں میں دل بیقرار ہوتا
دمِ نزع بھی جو وہ بُت مجھے آ کے منہ دکھاتا
تو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرمسار ہوتا
نہ مَلَک سوال کرتے، نہ لحد فِشار دیتی
سر راہِ کوئے قاتل جو مرا مزار ہوتا
جو نگاہ کی تھی ظالم تو پھر آنکھ کیوں چُرائی
وہی تیر کیوں نہ مارا جو جگر کے پار ہوتا
میں زباں سے تم کو سچا کہوں لاکھ بار کہہ دوں
اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا
مری خاک بھی لحد میں نہ رہی امیر باقی
انہیں مرنے ہی کا اب تک نہیں اعتبار ہوتا
امیر مینائی

لے غم زیست ہار مان گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 193
بیکلی کو قرار مان گئے
لے غم زیست ہار مان گئے
آپ کے ساتھ ہی بہار گئی
آپ کا اختیار مان گئے
نہ وہ آئے نہ تو نے چین لیا
اے دل بیقرار مان گئے
اس نے جو کچھ کہا مرے حق میں
لوگ بے اختیار مان گئے
بات دشوار تھی مگر باقیؔ
مے ملی میگسار مان گئے
باقی صدیقی