ٹیگ کے محفوظات: بیدار

بختِ خوابیدہ غنیمت ہے کہ بیدار ہوں میں

گو بیاباں میں ہوں اور بے بس و بے یار ہوں میں
بختِ خوابیدہ غنیمت ہے کہ بیدار ہوں میں
شانِ مصروفیت آوارگی میں بھی تھی کچھ
گھر میں ہر چند کہ مصروف ہوں بیکار ہوں میں
اُسی طوفان کی اک لہر مری ناؤ بنی
تم اُدھر ڈھونڈ رہے ہو مجھے اِس پار ہوں میں
مٹ گئے سینکڑوں اقرار حمایت کے تری
آج بھی گونج رہا ہے جو وہ انکار ہوں میں
میرے بارے میں کبھی فرض نہ کر لینا کچھ
سرِ تسلیم کبھی ہوں کبھی تلوار ہوں میں
باصر کاظمی

ہمیں تو اپنے ہی افکار نے ہلاک کیا

کہاں سیاستِ اغیار نے ہلاک کیا
ہمیں تو اپنے ہی افکار نے ہلاک کیا
کسی کی موت کا باعث تھی خانہ ویرانی
کسی کو رونقِ گلزار نے ہلاک کیا
کسی کے واسطے پھولوں کی سیج موجبِ مرگ
کسی کو جادہء پُرخار نے ہلاک کیا
کسی کو شعلہء خورشید نے جلا ڈالا
کسی کو سایہء اشجار نے ہلاک کیا
سوادِ شام کسی کے لیے پیامِ اجل
کسی کو صبح کے آثار نے ہلاک کیا
کسی کی جان گئی دیکھ کر ترا جلوہ
کسی کو حسرتِ دیدار نے ہلاک کیا
کوئی شکار ہوا اپنی ہچکچاہٹ کا
کسی کو جرأتِ اظہار نے ہلاک کیا
کسی کا تختہ بچھایا نصیبِ خُفتہ نے
کسی کو طالعِ بیدار نے ہلاک کیا
وہی ہلاکو کہ جس نے کیے ہزاروں ہلاک
اُسے بھی وقت کی یلغار نے ہلاک کیا
کسی کو مار گیا اُس کا کم سخن ہونا
کسی کو کثرتِ اشعار نے ہلاک کیا
وہی خسارہ ہے سب کی طرح ہمیں درپیش
ہمیں بھی گرمیِ بازار نے ہلاک کیا
کبھی تباہ ہوئے مشورہ نہ ملنے سے
کبھی نوشتہء دیوار نے ہلاک کیا
ملی تھی جس کے لبوں سے نئی حیات ہمیں
اُسی کی شوخیِ گفتار نے ہلاک کیا
خدا کا شکر کہ پستی نہ ہم کو کھینچ سکی
ہمیں بلندیِ معیار نے ہلاک کیا
باصر کاظمی

اور پیرایہ نہ تھا اظہار کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
ترجماں لرزہ تھا بس بیمار کا
اور پیرایہ نہ تھا اظہار کا
یہ چلن اب نِت کا ہے، اخبار کا
اِک نہ اِک لائے بگولہ نار کا
استطاعت ہو تو پڑھ لو ہر کہیں
رُخ بہ رُخ اِک نرخ ہے بازار کا
تاب کیا کیا دے گیا ابلیس کو
اِک ذرا سا حوصلہ انکار کا
ہم کہ ہیں ہر پل سکوں نا آشنا
ہے یہ فتنہ دیدۂ بیدار کا
ہو سخن ماجِد کا یا خلقِ خُدا
حال مندا ہے ہر اِک شہکار کا
ماجد صدیقی

مشتہر کرتے ہیں جنسِ دختراں اخبار میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
یہ اضافہ بھی ہُوا ماں باپ کے آزار میں
مشتہر کرتے ہیں جنسِ دختراں اخبار میں
آبلہ پائی نے کر دی ہے مسافت یوں تمام
پیر چپکے رہ گئے ہیں جادۂ پر خار میں
تن بدن سے کھال تک جیسے ادھڑ جانے لگے
جیب ہی ہلکی نہیں ہوتی ہے اب بازار میں
سخت مشکل ہے کوئی تریاق اُس کا مِل سکے
زہر جو شامل ملے، ذی جاہ کے انکار میں
خلق ناداری کے ہاتھوں جان دینے پر مصر
اور زر کی بانٹ کے جھگڑے ادھر دربار میں
کیا کہیں ہر آن ماجد مضطرب، پڑنے کو ہیں
سنگ ریزے کیا سے کیا ہر دیدۂ بیدار میں
ماجد صدیقی

لا دوا ہونے لگے آزار میرے شہر کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
جب سے اندر سے بِکے اخبار میرے شہر کے
لا دوا ہونے لگے آزار میرے شہر کے
اَنٹیوں کے مول بِکتے ہیں کئی یوسف یہاں
مصر کے بازار ہیں بازار، میرے شہر کے
لُوٹ کر شب زادگاں نے جگنوؤں کی پُونحیاں
چہرہ چہرہ مَل لئے انوار، میرے شہر کے
جانچیے تو لوگ باہم نفرتوں میں غرق ہیں
دیکھیے تو فرد ہیں تہوار، میرے شہر کے
کُو بہ کُو پسماندگی کا ہے تعفّن چار سو
اور بہت ذی شان ہیں دربار، میرے شہر کے
چوس لینے پر نمِ زر، جس کسی کے پاس ہے
کر چکے ایکا سبھی زر دار، میرے شہر کے
مکر کیا کیا لوریاں ماجد اُنہیں دینے لگا
لوگ جتنے بھی مِلے بیدار، میرے شہر کے
ماجد صدیقی

یہاں اہلِ نظر تو ہیں بہت، بیدار کم کم ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
جو آنکھیں دیکھتی ہوں دھُند کے اُس پار، کم کم ہیں
یہاں اہلِ نظر تو ہیں بہت، بیدار کم کم ہیں
بھسم کرنے کو آہن، کام میں لایا گیا کیا کیا
فلاحت اور زراعت کے مگر اوزار کم کم ہیں
سمجھ بیٹھے ہیں جب سے اصلِ حرصِ خوش خصالاں ہم
کسی بھی صورتِ حالات سے بے زار کم کم ہیں
شکم جب سے بھرا رہنے لگا ہے چھِینا جھپٹی سے
وہ کہتے ہیں یہی ، نگری میں اب نادار کم کم ہیں
فروغِ تیرگی بھی دم بہ دم ماجِد فراواں ہے
نگر میں جگنوؤں کے پاس بھی انوار کم کم ہیں
ماجد صدیقی

اِنساں تھے ، سرِ کوہ کے اشجار نہیں تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
ٹھہرے جو بھسم ، مِلکِ ستم گار نہیں تھے
اِنساں تھے ، سرِ کوہ کے اشجار نہیں تھے
اب کے بھی پرندے وُہی ، ژالوں میں سڑے ہیں
جو ابر کی خصلت سے خبردار نہیں تھے
الزام محافظ پہ بھی تھا کچھ تو ، نقب کا
افراد اگر شہر کے بیدار نہیں تھے
رکھتے تھے مہک پاس جو ماجد کے ہنر کی
جھونکے تھے ، کچھ اُس کے وہ طرفدار نہیں تھے
ماجد صدیقی

جُگ بیتے ہیں بستی کو بیدار ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
لٹ جانے کے خدشوں سے دو چار ہوئے
جُگ بیتے ہیں بستی کو بیدار ہوئے
شہرِ ستم میں حرص و ہوا کی سازش سے
کیا کیا اہلِ نظر، وقفِ دربار ہوئے
شاخ پہ کونپل بننے اور کھِل اٹھنے کے
کیا کیا سپنے آنکھوں کا آزار ہوئے
باغ میں جانے اور مہک لے آنے کے
بادِ صبا سے کیا کیا قول اقرار ہوئے
دریا میں منجدھار ہی دشمنِ جان نہ تھی
اور بھی کچھ دھاوے ہم پر اُس پار ہوئے
راہبری کا ماجد! قحط کہاں ایسا
جیسے اب ہیں، ہم کب یُوں نادار ہوئے
ماجد صدیقی

ہر شخص سے پوچھیں ہمیں آزار ہے کیسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
ہونٹوں پہ نہ لائیں یہ سخن ’’یار ہے کیسا‘‘
ہر شخص سے پوچھیں ہمیں آزار ہے کیسا
نیلام تو اُٹھ لے ابھی کھل جائے گا سب کچھ
ہم کون ہیں اور مصر کا بازار ہے کیسا
بھّٹی میں شراروں کی چمن سینچ رہا ہے
اس دور کا انسان بھی بیدار ہے کیسا
انصاف کی میزان کا بَل خود یہ بتائے
عشّاق کا احوال سرِ دار ہے کیسا
ایقان ہی جب اُن پہ تمہارا نہیں ماجدؔ
پھر کرب و الم کا تمہیں اقرار ہے کیسا
ماجد صدیقی

دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
مُبتلا عدل بھی اب جبر کے آزار میں ہے
دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے
ابر تا دیر نہ اَب بانجھ رہے گا شاید
حبس کا رنگ یہی موسمی آثار میں ہے
اَب کے اِس جال سے مشکل ہی سے نکلے شاید
صُبحِ اُمید کہ دامانِ شب تار میں ہے
ہر کہیں شور بھی، چیخیں بھی اُٹھیں گی لیکن
کُونج وُہ جس کو بچھڑنا ہے ابھی ڈار میں ہے
آگہی کرب ہے اور اِس کا مداوا مشکل
خار پیوست عجب دیدۂ بیدار میں ہے
کیا خبر صدق سے بر آئے بالآخر ماجدؔ!
یہ جو موہوم سی اُمید دلِ زار میں ہے
ماجد صدیقی

اچّھا ہے یہی آج کا اخبار نہ دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
منصور حقیقت کا سرِ دار نہ دیکھا
اچّھا ہے یہی آج کا اخبار نہ دیکھا
ہر فرد کو اِس عہد میں آزارِ بقا ہے
ہے کون جِسے مرگ سے دوچار نہ دیکھا
اِس دورِ منّور میں سرِ ارض ہے جیسا
انسان کو ایسا کبھی خونخوار نہ دیکھا
خدشوں نے جہاں دی نہ مری آنکھ بھی لگنے
اُس شہر کا اِک شخص بھی بیدار نہ دیکھا
ہوتا ہے ہر اِک پھُول مہک بانٹ کے جیسا
انسان کو ایسا کبھی سرشار نہ دیکھا
اک بار جو لاحق ہو دل و جان کو ماجدؔ
جاتا ہوا وُہ روگ، وُہ آزار نہ دیکھا
ماجد صدیقی

جینے کا ہر لمحہ شب آثار لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
قلب و نظر کو جانے کیا آزار لگا ہے
جینے کا ہر لمحہ شب آثار لگا ہے
انساں بھی آواز نہ یُوں لوٹائے، جیسے
پتّھر پتّھر جنگل کا غم خوار لگا ہے
اُس کو جانے رات گئے کیا فکر لگی تھی
بستی بھر میں چور ہی اِک بیدار لگا ہے
صَرف ہوا ہے جو بھی بحقِ پست مقاماں
حرف وُہی اپنا دُرِّ شہوار لگا ہے
اِک اِک ذہن تھا ایک ہی روگ کی زد میں جیسے
شہر کا شہر ہی اِک جیسا بیمار لگا ہے
ماجدؔ شہر میں ہر سُو جیسے سب اچّھا تھا
جس کو دیکھا سرکاری اخبار لگا ہے
ماجد صدیقی

کس نے اتنی رات گئے بیدار کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
خدشوں نے پھر ذہن پہ جیسے وار کیا
کس نے اتنی رات گئے بیدار کیا
وسعتِ شب کو بڑھتا دیکھ کے ہم نے بھی
اپنا اک اک حرف سحر آثار کیا
موسم گل میں گلشن سے جو آئے تھے
اُن جھونکوں نے اور بھی کچھ بے زار کیا
آخر اک دن ناز عجائب گھر کا بنے
ہم نے جن تختوں پر دریا پار کیا
کچھ بھی نہیں جس گھر میں اُس کے تحفّظ نے
گھر والوں کو اور بھی ہے نادار کیا
ماتھے پر مزدور کے دیکھ، مشقّت نے
کن شفاف نگینوں سے سنگھار کیا
ماجدؔ سمت سفر کی ٹیڑھی تھی ورنہ
چلنے سے کب ہم نے تھا انکار کیا
ماجد صدیقی

پہلے سے بھی بڑھ کر کہیں بیزار کرے ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
جو شخص بھی ہم سے کوئی اقرار کرے ہے
پہلے سے بھی بڑھ کر کہیں بیزار کرے ہے
وُہ سُود بھی ذمّے ہے ہمارے کہ طلب جو
درباں تری دہلیز کا ہر بار کرے ہے
ممکن ہی کہاں بطن سے وُہ رات کے پھُوٹے
چہروں کو خبر جو سحر آثار کرے ہے
دیتے ہیں جِسے آپ فقط نام سخن کا
گولہ یہ بڑی دُور تلک مار کرے ہے
ہر چاپ پہ اٹُھ کر وُہ بدن اپنا سنبھالے
کیا خوف نہ جانے اُسے بیدار کرے ہے
پہنچائے نہ زک اور تو کوئی بھی کسی کو
رُسوا وُہ ذرا سا سرِ بازار کرے ہے
کس زعم میں ماجدؔ سرِ دربار ہمیں تُو
حق بات اگلوا کے گنہگار کرے ہے
ماجد صدیقی

پات پہ جیسے چیونٹی دریا پار کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 90
آس ہمیں بھی کچھ ایسا ہی خوار کرے
پات پہ جیسے چیونٹی دریا پار کرے
جُگ بیتے ایسا ہی ہوتا آیا ہے
دل میں جس کے چور ہو پہلے وار کرے
دیکھ کے چابک راکب کا، چل پڑنے سے
مرکب میں کب تاب کہ وُہ انکار کرے
بادل جُھک کر اِک دو بوندیں برسا کر
اور بھی افزوں صحرا کا آزار کرے
ہم وُہ گھوڑے بیچ کے سونے والے ہیں
اَب کوئی بھونچال جنہیں بیدار کرے
عرضِ سخن پر ماجدؔ داد خسیسوں کی
کسب ہُنر تک سے جیسے بیزار کرے
ماجد صدیقی

شہر میں اب اِس بیماری سے بچنا ہے دشوار بہت

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
نطق سلامت ہے تو مہلک جرثوموں کے وار بہت
شہر میں اب اِس بیماری سے بچنا ہے دشوار بہت
اُس چنچل کے ہاتھوں جن پر رہ رہ کر تھی اوس پڑی
جانے پھر کیوں رہنے لگے ہیں وہ جذبے بیدار بہت
نازک وقت پہنچنے پر قائم نہ کسی کا بھی تھا بھرم
جتنی تمنّائیں تھیں دل میں نکلیں وہ نادار بہت
دونوں جرم کے منوانے پر اور نہ ماننے پر تھے تُلے
ہم کہ ہمیں اصرار بہت تھاوہ کہُانہیں انکار بہت
اور تأثر دے کر جس نے میرا خون غلاف کیا
وقت کے ہاتھوں دھل کر چمکی آخر وہ تلوار بہت
وہ قاصد دربانِ درِ محبوب سا جو محتاط رہے
دیدنی ہیں اُس قاصد جیسے نت چھپتے اخبار بہت
ایک ہی بات ہے پنکھ کٹیں یا چونچ پہ مُہر لگے ماجدؔ
مہجوروں کی خاطر ہیں اِس گلشن میں آزار بہت
ماجد صدیقی

نہیں لیکن لبِ اظہار رکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
سلگنا جان میں آزار رکھنا
نہیں لیکن لبِ اظہار رکھنا
عقیدت کے چڑھاوے چاہئیں تو
بڑے مخصوص سے اطوار رکھنا
کرم بھی ہو جو محتاجوں پہ کرنا
اُنہیں پہلے ذرا بے زار رکھنا
تأثر مہربانی کا نظر میں
خشونت کے بھی ساتھ آثار رکھنا
ہر اِک منظر نیا دوزخ بنے گا
یہاں مت دیدۂ بیدار رکھنا
اماں کو، پنجۂ انسان سے بھی
پڑے ہیں آہنی اوزار رکھنا
بڑا مشکل ہے اَب ماجدؔ چمن میں
سلامت اپنے برگ و بار رکھنا
ماجد صدیقی

پر نمایاں تری آمد کے نہ آثار ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
پھُول انوار بہ لب، ابر گہر بار ہوئے
پر نمایاں تری آمد کے نہ آثار ہوئے
کچھ سزا اِس کی بھی گرہے تو بچیں گے کیسے
ہم کہ جو تُجھ سے تغافل کے گنہگار ہوئے
ہونٹ بے رنگ ہیں، آنکھیں ہیں کھنڈر ہوں جیسے
مُدّتیں بِیت گئیں جسم کو بیدار ہوئے
وُہ جنہیں قرب سے تیرے بھی نہ کچھ ہاتھ لگا
وُہی جذبات ہیں پھر درپئے آزار ہوئے
جب بھی لب پر کسی خواہش کا ستارا اُبھرا
جانے کیا کیا ہیں اُفق مطلعٔ انوار ہوئے
اب تو وا ہو کسی پہلو ترے دیدار کا در
یہ حجابات تو اب سخت گراں بار ہوئے
چھیڑ کر بیٹھ رہے قصّۂ جاناں ماجدؔ
جب بھی ہم زیست کے ہاتھوں کبھی بیزار ہوئے
ماجد صدیقی

جرعۂ قرب سے اُس کے گئے آزار بہت

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
لطفِ باہم سے ہوئے وصل میں سرشار بہت
جرعۂ قرب سے اُس کے گئے آزار بہت
شخص و ناشخص کی پُرسش کا نشانہ ٹھہرے
ہم کہ کرتے رہے ہر درد کا پرچار بہت
خاک سے مہرِ سرِ حشر کرے ہے پیدا
آج کے دَور کا انسان ہے بیدار بہت
آخر اُس کو بھی ہمیں سی ہے تُفِ گرد ملی،
تھے بہم شاخِ شگفتہ کو بھی شہکار بہت
کھول کر رکھ گئی ہر راز، شد و بودِ حباب
ہم کو تسلیمِ حقیقت سے تھا انکار بہت
ہے کہاں رفعتِ فن، شرطِ ستائش ماجدؔ
وہی فنکار ہے جس کے ہیں طرفدار بہت
ماجد صدیقی

دِل کہ بیگانۂ راحت ہے کسے یار کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
جس کو چھیڑے سرِ محفل وہی بیزار کرے
دِل کہ بیگانۂ راحت ہے کسے یار کرے
سرِ مقتل ہے یہی حرفِ ملامت کافی
کام باقی ہی رہا کیا ہے جو تلوار کرے
دل ہے میرا کہ پرندہ کوئی جوئندۂ آب
خواب میں کون یہ ہر شب مجھے بیدار کرے
ہم رُکے ہیں کہ یہی ڈور میّسر تھی ہمیں
اور ہوا ہے کہ اُڑانے ہی پہ اصرار کرے
آدمی بھی کہ ہے زندانِ تمّنا کا اسِیر
کام جو کرنا نہ چاہے وہی ناچار کرے
لوگ ہیں سطح پہ کائی کے بھی قائل ماجدؔ
تو ہی پاگل ہے جو ہر دَرد کا اظہار کرے
ماجد صدیقی

موسمِ گل میں بھی پت جھڑ کے ہیں آثار وہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 85
تندئ باد وہی، گرد کی یلغار وہی
موسمِ گل میں بھی پت جھڑ کے ہیں آثار وہی
عدل کے نام پہ ہم سے تھی جو نُچوائی گئی
فرقِ نا اہل پہ اب کے بھی ہے دستار وہی
حلقۂ رقصِ صبا میں تو ہے شامل لیکن
پہلوئے گل میں ہیں پیوست ابھی خار وہی
مطمئن کیا ہو کوئی غسلِ مناظر سے کہ ہے
کربِ آشوب وہی دیدۂ بیدار وہی
ہے لپک اب بھی وہی دستِ طلب میں کہ جو تھی
با ثمر شاخ کے ہونٹوں پہ ہے انکار وہی
اب بھی اِک حد سے پرے شوق کے پر جلتے ہیں
عجزِ سائل ہے وہی شوکتِ دربار وہی
رُت کُھلی پر نہ معافی کو ملا اذنِ کشود
پیرہن ہے تنِ ہر حرف پہ ناچار وہی
کلبلائے تو اسے اتنا تو کرنے دیجے
دل جسے بعدِ جراحت بھی ہے آزار وہی
اب بھی چہروں سے غمِ دل نہیں کُھلتا ماجدؔ
اب بھی پندار کو ہے کلفتِ اظہار وہی
ماجد صدیقی

حرفِ حق جب بھی کہو جان کا آزار بنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
پا بہ زنجیر کرے، طوق بنے، دار بنے
حرفِ حق جب بھی کہو جان کا آزار بنے
مسکراتا ہے اُسے دیکھ کے ہر اہلِ ہوس
جب کوئی لفظ گریباں کا مرے، تار بنے
تھا نہ یاروں پہ کچھ ایسا بھی بھروسہ لیکن
اَب کے تو لوگ سرِ بزم یہ اغیار بنے
کیا توقّع ہو بھلا لطفِ مناظر سے کہ آنکھ
کربِ آشوب سے ہی دیدۂ بیدار بنے
ہاں مرے جُرم کی کچھ اور بھی تشہیر کرو
کیا خبر، جشن مری موت کا تہوار بنے
کیا کہُوں جس کے سبب لائقِ تعزیز ہُوں مَیں
حرفِ بے نام وہی چشمۂ انوار بنے
ہم کہ محسُود ہیں اِس فکر کی ضَو سے ماجدؔ
جانے کب نورُ یہی اپنے لئے نار بنے
ماجد صدیقی

میں شامل ہوں جمالِ یار تجھ میں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 13
مری خوشبو مرے اسرار تجھ میں!
میں شامل ہوں جمالِ یار تجھ میں
مسیحائی کو جس کی عشق آیا
کوئی ایسا پڑا بیمار تجھ میں
غبارِ ذات بیٹھے گا کوئی دم
گری ہے آخری دیوار تجھ میں
فسونِ شب بھی ہے قربان جس پر
سخن ایسا ہو ا بیدار تجھ میں!
ہوائے تند اور جلتے دیے ہیں
ازل سے برسرِ پیکار تجھ میں
تجھے ہے آرزو دنیا کی لیکن
کوئی دنیا سے ہے بیزار تجھ میں
ملن کے گیت گاتی ہے ازل سے
مری پازیب کی جھنکار تجھ میں
میں ہوں وہ شبد جو معدوم ہوتا
اگر پاتا نہیں اظہار تجھ میں
اضافی ہیں مجھے یہ دین و دنیا
مرے دونوں جہاں دلدار تجھ میں
نینا عادل

جانا ہے کب خبر نہیں، تیّار ہو کے رہ

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 52
ہوکر وداع سب سے، سبک بار ہو کے رہ
جانا ہے کب خبر نہیں، تیّار ہو کے رہ
یہ لمحہ بھر بھی دھیان ہٹانے کی جا نہیں
دنیا ہے تیری تاک میں، ہشیار ہو کے رہ
خطرہ شبِ وجود کو مہرِ عدم سے ہے
سب بے خبر ہیں، تُو ہی خبردار ہو کے رہ
شاید اتر ہی آئے خنک رنگ روشنی
چل آج رات خواب میں بیدار ہو کے رہ
کس انگ سے وہ لمس کُھلے گا، کسے خبر
تُو بس ہمہ وجود طلبگار ہو کے رہ
تُو اب سراپا عشق ہُوا ہے، تو لے دعا
جا سر بسر اذیّت و آزار ہو کے رہ
شاید کبھی اِسی سے اٹھے پھر ترا خمیر
بنیادِ خوابِ ناز میں مسمار ہو کے رہ
کچھ دیر ہے سراب کی نظّارگی مزید
کچھ دیر اور روح کا زنگار ہو کے رہ
اب آسمانِ حرف ہُوا تا اُفق سیاہ
اب طمطراق سے تُو نمودار ہو کے رہ
بس اک نگاہ دُور ہے خوابِ سپردگی
تُو لاکھ اپنے آپ میں انکار ہو کے رہ
وہ زمزمے تھے بزمِ گماں کے، سو اب کہاں
یہ مجلسِ یقیں ہے، عزادار ہو کے رہ
اندر کی اونچ نیچ کو اخفا میں رکھ میاں
احوالِ ظاہری میں تو ہموار ہو کے رہ
کیسے بھلا تُو بارِ مروّت اٹھائے گا
محفل ہے دوستوں کی، سو عیّار ہو کے رہ
بے قیمتی کے رنج سے خود کو بچا کے چل
بازارِ دلبری میں خریدار ہو کے رہ
فرمانروائے عقل کے حامی ہیں سب یہاں
شاہِ جنوں کا تُو بھی وفادار ہو کے رہ
تُو ہجر کی فضیلتیں خود پر دراز رکھ
خود اپنی راہِ شوق میں دیوار ہو کے رہ
لوگوں پہ اپنا آپ سہولت سے وا نہ کر
عرفان، میری مان لے، دشوار ہو کے رہ
عرفان ستار

موج در موج ہیں سو رنگ کے منجدھار یہاں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 38
کشتیِٔ زیست سلامت ہے نہ پتوار یہاں
موج در موج ہیں سو رنگ کے منجدھار یہاں
ہم سفر چھوٹ گئے ، راہنما روٹھ گئے
یوں بھی آسان ہوئی منزلِ دشوار یہاں
تیرگی ٹوٹ پڑی، دور سے بادل گرجا
بجھ گئی سہم کے قندیلِ رخِ یار یہاں
کتنے طوفان اٹھے ، کتنے ستارے ٹوٹے
پھر بھی ڈوبا نہیں اب تک دلِ بیدار یہاں
میرے زخمِ کفِ پا چومنے آئے گی بہار
میں اگر مر بھی گیا وادیِٔ پر خار یہاں
شکیب جلالی

مِرا سر رنجِ بالیں ہے ، مِرا تَن بارِ بستر ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 275
تپِش سے میری ، وقفِ کش مکش ، ہر تارِ بستر ہے
مِرا سر رنجِ بالیں ہے ، مِرا تَن بارِ بستر ہے
سرشکِ سر بہ صحرا دادہ ، نورالعینِ دامن ہے
دلِ بے دست و پا اُفتادہ بر خوردارِ بستر ہے
خوشا اقبالِ رنجوری ! عیادت کو تم آئے ہو
فروغِ شمع بالیں ، طالعِ بیدارِ بستر ہے
بہ طوفاں گاہِ جوشِ اضطرابِ شامِ تنہائی
شعاعِ آفتابِ صبحِ محشر تارِ بستر ہے
ابھی آتی ہے بُو ، بالش سے ، اُس کی زلفِ مشکیں کی
ہماری دید کو ، خوابِ زلیخا ، عارِ بستر ہے
کہوں کیا ، دل کی کیا حالت ہے ہجرِ یار میں ، غالب!
کہ بے تابی سے ہر یک تارِ بستر ، خارِ بستر ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

اچھا بھی ہووے دل کا بیمار گاہ باشد

دیوان چہارم غزل 1380
جاوے جدائی کا یہ آزار گاہ باشد
اچھا بھی ہووے دل کا بیمار گاہ باشد
امیدوار اس کے ملنے کے جیسے ہیں ہم
آ نکلے ناز کرتا یاں یار گاہ باشد
گو قدر دل کی کم ہے پر چیز کام کی ہے
لے تو رکھیں تمھیں ہو درکار گاہ باشد
کہتا ہوں سو کرے ہے لیکن رہوں ہوں ڈرتا
آوے کسو سخن پر تکرار گاہ باشد
کہتے تو ہیں گئے سو کب آئے کیا کریں تب
جو خواب مرگ سے ہوں بیدار گاہ باشد
غصے سے اپنے ابرو جو خم کرے ہے ہر دم
وہ اک لگا بھی بیٹھے تلوار گاہ باشد
غیرت سے عشق کی ڈر کیا شیخ کبر دینی
تسبیح کا ہو رشتہ زنار گاہ باشد
وحشت پہ میری مت جا غیرت بہت ہے مجھ کو
ہو بیٹھوں مرنے کو بھی تیار گاہ باشد
ہے ضبط عشق مشکل ہوتا نہیں کسو سے
ڈر میر بھی ہو اس کا اظہار گاہ باشد
میر تقی میر

سو آئینہ سا صورت دیوار ہوا میں

دیوان سوم غزل 1194
تھا شوق مجھے طالب دیدار ہوا میں
سو آئینہ سا صورت دیوار ہوا میں
جب دور گیا قافلہ تب چشم ہوئی باز
کیا پوچھتے ہو دیر خبردار ہوا میں
اب پست و بلند ایک ہے جوں نقش قدم یاں
پامال ہوا خوب تو ہموار ہوا میں
کب ناز سے شمشیر ستم ان نے نہ کھینچی
کب ذوق سے مرنے کو نہ تیار ہوا میں
بازار وفا میں سرسودا تھا سبھوں کو
پر بیچ کے جی ایک خریدار ہوا میں
ہشیار تھے سب دام میں آئے نہ ہم آواز
تھی رفتگی سی مجھ کو گرفتار ہوا میں
کیا چیتنے کا فائدہ جو شیب میں چیتا
سونے کا سماں آیا تو بیدار ہوا میں
تم اپنی کہو عشق میں کیا پوچھو ہو میری
عزت گئی رسوائی ہوئی خوار ہوا میں
اس نرگس مستانہ کو دیکھے ہوئے برسوں
افراط سے اندوہ کی بیمار ہوا میں
رہتا ہوں سدا مرنے کے نزدیک ہی اب میر
اس جان کے دشمن سے بھلا یار ہوا میں
میر تقی میر

کیا آرزو تھی ہم کو کہ بیمار ہو گئے

دیوان اول غزل 533
تجھ بن خراب و خستہ زبوں خوار ہو گئے
کیا آرزو تھی ہم کو کہ بیمار ہو گئے
خوبی بخت دیکھ کہ خوبان بے وفا
بے ہیچ میرے درپئے آزار ہو گئے
ہم نے بھی سیر کی تھی چمن کی پر اے نسیم
اٹھتے ہی آشیاں سے گرفتار ہو گئے
وہ تو گلے لگا ہوا سوتا تھا خواب میں
بخت اپنے سو گئے کہ جو بیدار ہو گئے
اپنی یگانگی ہی کیا کرتے ہیں بیاں
اغیار رو سیاہ بہت یار ہو گئے
لائی تھی شیخوں پر بھی خرابی تری نگاہ
بے طالعی سے اپنی وے ہشیار ہو گئے
کیسے ہیں وے کہ جیتے ہیں صد سال ہم تو میر
اس چار دن کی زیست میں بیزار ہو گئے
میر تقی میر

آئینہ ہو تو قابل دیدار کیوں نہ ہو

دیوان اول غزل 396
دل صاف ہو تو جلوہ گہ یار کیوں نہ ہو
آئینہ ہو تو قابل دیدار کیوں نہ ہو
عالم تمام اس کا گرفتار کیوں نہ ہو
وہ ناز پیشہ ایک ہے عیار کیوں نہ ہو
مستغنیانہ تو جو کرے پہلے ہی سلوک
عاشق کو فکر عاقبت کار کیوں نہ ہو
رحمت غضب میں نسبت برق و سحاب ہے
جس کو شعور ہو تو گنہگار کیوں نہ ہو
دشمن تو اک طرف کہ سبب رشک کا ہے یاں
در کا شگاف و رخنۂ دیوار کیوں نہ ہو
آیات حق ہیں سارے یہ ذرات کائنات
انکار تجھ کو ہووے سو اقرار کیوں نہ ہو
ہر دم کی تازہ مرگ جدائی سے تنگ ہوں
ہونا جو کچھ ہے آہ سو یک بار کیوں نہ ہو
موے سفید ہم کو کہے ہے کہ غافلاں
اب صبح ہونے آئی ہے بیدار کیوں نہ ہو
نزدیک اپنے ہم نے تو سب کر رکھا ہے سہل
پھر میر اس میں مردن دشوار کیوں نہ ہو
میر تقی میر

کام آئے فراق میں اے یار

دیوان اول غزل 211
دل دماغ و جگر یہ سب اک بار
کام آئے فراق میں اے یار
کیوں نہ ہو ضعف غالب اعضا پر
مر گئے ہیں قشون کے سردار
گل پژمردہ کا نہیں ممنون
ہم اسیروں کا گوشۂ دستار
مت نکل گھر سے ہم بھی راضی ہیں
دیکھ لیں گے کبھو سر بازار
سینکڑوں حرف ہیں گرہ دل میں
پر کہاں پایئے لب اظہار
سیر کر دشت عشق کا گلشن
غنچے ہو ہورہے ہیں سو سو خار
روز محشر ہے رات ہجراں کی
ایسی ہم زندگی سے ہیں بیزار
بحث نالہ بھی کیجیو بلبل
پہلے پیدا تو کر لب گفتار
چاک دل پر ہیں چشم صد خوباں
کیا کروں یک انار و صد بیمار
شکر کر داغ دل کا اے غافل
کس کو دیتے ہیں دیدئہ بیدار
گو غزل ہو گئی قصیدہ سی
عاشقوں کا ہے طول حرف شعار
ہر سحر لگ چلی تو ہے تو نسیم
اے سیہ مست ناز ٹک ہشیار
شاخسانے ہزار نکلیں گے
جو گیا اس کی زلف کا اک تار
واجب القتل اس قدر تو ہوں
کہ مجھے دیکھ کر کہے ہے پکار
یہ تو آیا نہ سامنے میرے
لائو میری میاں سپر تلوار
آ زیارت کو قبر عاشق پر
اک طرح کا ہے یاں بھی جوش بہار
نکلے ہے میری خاک سے نرگس
یعنی اب تک ہے حسرت دیدار
میر صاحب زمانہ نازک ہے
دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار
سہل سی زندگی پہ کام کے تیں
اپنے اوپر نہ کیجیے دشوار
چار دن کا ہے مجہلہ یہ سب
سب سے رکھیے سلوک ہی ناچار
کوئی ایسا گناہ اور نہیں
یہ کہ کیجے ستم کسی پر یار
واں جہاں خاک کے برابر ہے
قدر ہفت آسمان ظلم شعار
یہی درخواست پاس دل کی ہے
نہیں روزہ نماز کچھ درکار
در مسجد پہ حلقہ زن ہو تم
کہ رہو بیٹھ خانۂ خمار
جی میں آوے سو کیجیو پیارے
لیک ہوجو نہ درپئے آزار
حاصل دو جہان ہے یک حرف
ہو مری جان آگے تم مختار
میر تقی میر

میں نے پوچھا ہے تو اقرار کیا ہے اس نے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 279
تشنہ رکھا ہے نہ سرشار کیا ہے اس نے
میں نے پوچھا ہے تو اقرار کیا ہے اس نے
گر گئی قیمتِ شمشاد قداں آنکھوں میں
شہر کو مصر کا بازار کیا ہے اس نے
وہ یہاں ایک نئے گھر کی بنا ڈالے گا
خانۂ درد کو مسمار کیا ہے اس نے
دیکھ لیتا ہے تو کھلتے چلے جاتے ہیں گلاب
میری مٹی کو خوش آثار کیا ہے اس نے
دوسرا چہرہ اس آئینے میں دکھلائی نہ دے
دل کو اپنے لیے تیار کیا ہے اس نے
حرف میں جاگتی جاتی ہے مرے دل کی مراد
دھیرے دھیرے مجھے بیدار کیا ہے اس نے
میرے اندر کا ہرن شیوۂ رم بھول گیا
کیسے وحشی کو گرفتار کیا ہے اس نے
میں بہر حال اسی حلقۂ زنجیر میں ہوں
یوں تو آزاد کئی بار کیا ہے اس نے
اب سحر تک تو جلوں گا کوئی آئے کہ نہ آئے
مجھ کو روشن سرِ دیوار کیا ہے اس نے
عرفان صدیقی

خیموں میں بہت دیر سے بیدار ہیں ہم بھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 229
ہو صبح کہ سر دینے پہ تیار ہیں ہم بھی
خیموں میں بہت دیر سے بیدار ہیں ہم بھی
نسبت ہے اُسی قافلۂ اہل وفا سے
واماندہ سر کوچہ و بازار ہیں ہم بھی
کب لوٹیں گے وہ وادئ غربت کے مسافر
اک عمر سے روشن سر دیوار ہیں ہم بھی
ہم کو بھی مصاف لب دریا کی اجازت
کچھ تشنہ دہاں بچوں کے غم خوار ہیں ہم بھی
ہم کو بھی ملے معرکۂ صبر میں نصرت
کچھ ناقہ نشینوں کے نگہ دار ہیں ہم بھی
کوثر پہ بھی لے چل ہمیں اے قافلہ سالار
آخر تو غبار پس رہوار ہیں ہم بھی
روشن ہمیں رکھتا ہے یہی درد جہاں تاب
ان کشتہ چراغوں کے عزاوار ہیں ہم بھی
اے مالک کل، سید سجاد کا صدقہ
یہ بند گراں کھول کہ بیمار ہیں ہم بھی
عرفان صدیقی

بند تہہ خانوں میں یہ دولتِ بیدار نہ رکھ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 205
ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ اَفکار نہ رکھ
بند تہہ خانوں میں یہ دولتِ بیدار نہ رکھ
زَخم کھانا ہی جو ٹھہرا تو بدن تیرا ہے
خوف کا نام مگر لذّتِ آزار نہ رکھ
ایک ہی چیز کو رہنا ہے سلامت، پیارے
اَب جو سرشانوں پہ رکھا ہے تو دیوار نہ رکھ
خواہشیں توڑ نہ ڈالیں ترے سینے کا قفس
اِتنے شہ زور پرندوں کو گرفتار نہ رکھ
اَب میں چپ ہوں تو مجھے اپنی دلیلوں سے نہ کاٹ
میری ٹوٹی ہوئی تلوار پہ تلوار نہ رکھ
آج سے دِل بھی ترے حال میں ہوتا ہے شریک
لے، یہ حسرت بھی مری چشمِ گنہگار نہ رکھ
وقت پھر جانے کہاں اُس سے ملا دے تجھ کو
اِس قدر ترکِ ملاقات کا پندار نہ رکھ
عرفان صدیقی

میں اس کے خواب میں بیدار رہنا چاہتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 144
عجیب نشّہ ہے ہشیار رہنا چاہتا ہوں
میں اس کے خواب میں بیدار رہنا چاہتا ہوں
یہ موجِ تازہ مری تشنگی کا وہم سہی
میں اس سراب میں سرشار رہنا چاہتا ہوں
سیاہ چشم‘ مری وحشتوں پہ طنز نہ کر
میں قاتلوں سے خبردار رہنا چاہتا ہوں
یہ درد ہی مرا چارہ ہے تم کو کیا معلوم
ہٹاؤ ہاتھ میں بیمار رہنا چاہتا ہوں
ادھر بھی آئے گی شاید وہ شاہ بانوئے شہر
یہ سوچ کر سرِ بازار رہنا چاہتا ہوں
ہوا گلاب کو چھوکر گذرتی رہتی ہے
سو میں بھی اتنا گنہگار رہنا چاہتا ہوں
عرفان صدیقی

ندی بھی ہے سبک رفتار مجھ سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 544
یہ گہرے سبز سے کہسار مجھ سے
ندی بھی ہے سبک رفتار مجھ سے
زمانہ ہے سحر آثار مجھ سے
ملو آ کے افق کے پار مجھ سے
اسے ہر بار ایسے دیکھتا ہوں
ملا ہے جیسے پہلی بار مجھ سے
طلب کی آخری حد آ گئی ہے
وہ آئے اور سنے انکار مجھ سے
مری تقدیر میں بربادیاں ہیں
کہے ٹوٹا ہوا اوتار مجھ سے
سمجھ کر دھوپ مجھ کو زندگی کی
گریزاں سایہء دیوار مجھ سے
درختوں پر میں بارش کی طرح ہوں
ہوا میں خاک کی مہکار مجھ سے
مسلسل لفظ ہیں کرب و بلا میں
سرِ نوکِ سناں اظہار مجھ سے
منائیں لوگ جشن فتح مندی
فقط نسبت ہے تیری ہار مجھ سے
پڑا کوئے ملامت میں کہیں ہوں
تعلق کیا رکھے دستار مجھ سے
میں شب بھر چاند کو منصور دیکھوں
یہ چاہے دیدئہ بیدار مجھ سے
منصور آفاق

دی ہم نے زبردستی لبِ یار پہ دستک

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 260
ہونٹوں بھری رکھ دی درِ انکارِ پہ دستک
دی ہم نے زبردستی لبِ یار پہ دستک
اک شام پلٹ آئے ہیں یہ بات الگ ہے
دی پاؤں نے برسوں رہِ پُر خار پہ دستک
پھر رات کی رانی کا محل سامنے مہکے
پھر صبح کی چڑیوں بھری چہکار پہ دستک
کاندھے پہ کوئی بھیدوں بھری پوٹلی رکھ کر
دیتا ہے پھر امکان ابد زار پہ دستک
دم بھر کو نئی صبح کا اعلانیہ سن کر
دی اہلِ قفس نے گل و گلزار پہ دستک
بازار سے گزرا تو چہکتی ہوئی رت کی
تصویر نے دی جیبِ خریدار پہ دستک
کچھ ہاتھ کہیں اور سے آیا ہی نہیں ہے
دینا پڑی پھر عرشِ کرم بار پہ دستک
ممکن ہے ملاقات ہو آسیبِ بدن سے
اچھی طرح دے کمرئہ اسرار پہ دستک
ہے فرض یہی تجھ پہ یہی تیری عبادت
دے خاک نسب ! خانہء سیار پہ دستک
درویش فقیری ہی کہیں بھول نہ جائے
یہ کون ہے دیتا ہے جو پندار پہ دستک
وہ دیکھیے دینے لگا پھر اپنے بدن سے
اک تازہ گنہ، چشم گنہگار پہ دستک
اٹھ دیکھ کوئی درد نیا آیا ہوا ہے
وہ پھر ہوئی دروازئہ آزار پہ دستک
دشنام گلابوں کی طرح ہونٹوں پہ مہکیں
درشن کے لیے دے درِ دلدار پہ دستک
برسوں سے کھڑا شخص زمیں بوس ہوا ہے
یہ کیسی سمندر کی تھی کہسار پہ دستک
پانی مجھے مٹی کی خبر دینے لگے ہیں
اک سبز جزیرے کی ہے پتوار پہ دستک
افسوس ضروری ہے مرا بولنا دو لفظ
پھر وقت نے دی حجرۂ اظہار پہ دستک
مایوسی کے عالم میں محبت کا مسافر
در چھوڑ کے دینے لگا دیوار پہ دستک
دی جائے سلگتی ہوئی پُر شوق نظر سے
کچھ دیر تو اس کے لب و رخسار پہ دستک
اب اور گنی جاتی نہیں مجھ سے یہ قبریں
اب دینی ضروری ہے کسی غار پہ دستک
منصور بلایا ہے مجھے خواب میں اس نے
دی نیند نے پھر دیدۂ بیدار پہ دستک
منصور آفاق

دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 255
ساعتِ دیدۂ انکار کے سینے میں دراڑ
دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ
ایک ہی لفظ سے بھونچال نکل آیا ہے
پڑ گئی ہے کسی کہسار کے سینے میں دراڑ
کوئی شے ٹوٹ گئی ہے مرے اندر شاید
آ گئی ہے مرے پندار کے سینے میں دراڑ
چاٹتی جاتی ہے رستے کی طوالت کیا کیا
ایک بنتی ہوئی دلدار کے سینے میں دراڑ
تم ہی ڈالو گے مرے شاہ سوارو آخر
موت کی وادیِ اسرار کے سینے میں دراڑ
کھلکھلاتی ہوئی اک چشمِ سیہ نے ڈالی
آ مری صحبتِ آزار کے سینے میں دراڑ
رو پڑا خود ہی لپٹ کر شبِ غم میں مجھ سے
تھی کہانی ترے کردار کے سینے میں دراڑ
روندنے والے پہاڑوں کو پلٹ آئے ہیں
دیکھ کر قافلہ سالار کے سینے میں دراڑ
صبح کی پہلی کرن ! تجھ پہ تباہی آئے
ڈال دی طالعِ بیدار کے سینے میں دراڑ
کل شبِ ہجر میں طوفان کوئی آیا تھا
دیدۂ نم سے پڑی یار کے سینے میں دراڑ
غم کے ملبے سے نکلتی ہوئی پہلی کونپل
دیکھ باغیچہء مسمار کے سینے میں دراڑ
لفظ کی نوکِ سناں سے بھی کہاں ممکن ہے
وقت کے خانہء زنگار کے سینے میں دراڑ
بس قفس سے یہ پرندہ ہے نکلنے والا
نہ بڑھا اپنے گرفتار کے سینے میں دراڑ
شام تک ڈال ہی لیتے ہیں اندھیرے منصور
صبح کے جلوۂ زرتار کے سینے میں دراڑ
منصور آفاق

ہند کی سب سے بڑی سرکار نو شہ گنج بخشؒ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 191
برکتوں کا مطلع ء انوار نو شہ گنج بخشؒ
ہند کی سب سے بڑی سرکار نو شہ گنج بخشؒ
جا نشینِ غو ث اعظمؒ ، افتخا رِ اولیا
وا قف اسرار در اسرار نو شہ گنج بخشؒ
حاکم مِلک شر یعت ، مالک ، شہر سلوک
در سعادت نقطہ ء پرکار نو شہ گنج بخشؒ
آفتا بِ فیضِ عالم ہیں جہا ں پر غو ث پاکؒ
اُس فلک پر ثا بت و سیار نو شہ گنج بخشؒ
صر ف مشر ق میں نہیں ان کی ولا یت کا ظہو ر
خا کِ مغر ب پہ بھی رحمت بار نو شہ گنج بخشؒ
بر ق نو شاہی ؒ سے لے کر حضرت معر و ف تک
نیکیوں سے اک بھرا گلزار نو شہ گنج بخشؒ
چو متے ہیں حا ملانِ جبہ ود ستا ر پا ئو ں
محتر م اتنا سگِ دربار نو شہ گنج بخشؒ
عالمِ لاہو ت کی صبح مقد س ان کی ذا ت
رو شنی کا نر م و حد ت زار نو شہ گنج بخشؒ
بخش دیں بینا ئی نا بینا ئو ں کو اک دید سے
ہم نہیں کہتے ہیں یہ ، اوتار نو شہ گنج بخشؒ
ہر قدم اس شخص کا پھر بخت آور ہو گیا
مہر با ں جس پہ ہو ئے اک بار نو شہ گنج بخشؒ
زہد و تقو یٰ ، فقر و فا قہ اور عمل کے با ب میں
اک مجسم نو ر کا اظہار نو شہ گنج بخشؒ
وہ مجد د ہیں ہز ا ر وں سا ل پر پھیلے ہو ئے
یو ں سمجھ لو حا صلِ ادوار نو شہ گنج بخشؒ
منز ل علم و فضلیت ، رو نق را ہِ سلو ک
کشفِ مصطفو ی ؐ کے پیر و کار نو شہ گنج بخشؒ
کہتے ہیں بے رو ح جسمو ں کو جگا تا تھا مسیح
مر دہ دل کر دیتے ہیں بیدار نو شہ گنج بخشؒ
ہا ں ! سر تسلیم خم کر تا ہے در یا ئے چنا ب
پانیوں کے جیسے ہیں مختار نو شہ گنج بخشؒ
غو ثِ اعظم ؒ کے شجر کا خو شہ ء فقر و سلو ک
قا دری گلز ا ر کے پندار نو شہ گنج بخشؒ
شمعِ عر فا ن الہی ، شب زدو ں کی رو شنی
سا عتِ پر نو ر سے سر شار نو شہ گنج بخشؒ
دا ستا نو ں میں مر یدِ با صفا ہیں آپ کے
صا حبا ں مر ز ا کے بھی کر دار نو شہ گنج بخشؒ
جن و انسا ں ہی نہیں ہیں آپ کے خدا م میں
آپ کے قد سی ہیں خد متگار نو شہ گنج بخشؒ
پا ئے نو شہ کے تلے بہتے ہیں در یا ئے بہشت
سا قی ء کو ثر ؐ کے ہیں میخوار نو شہ گنج بخشؒ
آپ کا اسمِ گرا می وقت کے ہو نٹو ں پہ ہے
تذ کر ہ کر تا ہے سب سنسار نو شہ گنج بخشؒ
صر ف یو ر پ ہی نہیں ہے آپ کے ہیں معتقد
ہند سند ھ اور کا بل و قندھار نو شہ گنج بخشؒ
حکمرا نو ں کی جبینیں ان کے در پہ خم ہو ئیں
مو تیو ں والے سخی سردار نو شہ گنج بخشؒ
مو ج بن جا ئے گی کشتی تیر ے میرے وا سطے
یو ں اتا ریں گے ہمیں اس پار نو شہ گنج بخشؒ
اس شجر پر مو سمو ں کی ضر ب پڑ تی ہی نہیں
کس تسلسل سے ہیں سایہ دار نو شہ گنج بخشؒ
انبسا ط و لطف کا پہلو جہا ں کے وا سطے
نسلِ انسا نی کے ہیں غم خوار نو شہ گنج بخشؒ
کیوں نہ ہو ں عر فا ن کے مو تی در و دیوار میں
قصرِ نو شا ہی کے ہیں معمار نو شہ گنج بخشؒ
سلسہ نو شا ہیہ کا ہر جر ی ہے اولیا ء
لشکرِ حق کے جو ہیں سا لار نو شہ گنج بخشؒ
آپ کے در کے فقیر وں میں قطب اقطا ب ہیں
کون عظمت سے کر ے انکار نو شہ گنج بخشؒ
نو رو ں نہلا ئے ہو ئے چہر ے کی کر نیں اور ہم
کیا صبا حت خیز تھے رخسار نو شہ گنج بخشؒ
آپکے فیضِ نظر کی دا ستا ں اتنی ہے بس
سب مسلما ں ہو گئے کفار نو شہ گنج بخشؒ
اعتما دِ ذا ت کی کچھ غیر فا نی سا عتیں
آپ کے دم سے کر امت بار نو شہ گنج بخشؒ
بد عقید ہ زند گا نی کی سلگتی دھو پ میں
آپ ٹھہر ے سا یہء دیوار نو شہ گنج بخشؒ
ابن عر بی ؒ کے تصو ف کی کہا نی کیا کر وں
ہیں عد م کا اک عجب اظہار نو شہ گنج بخشؒ
مل گئی ان کی دعا سے کتنی دنیا کو شفا
امتِ بیما ر کے عطار نو شہ گنج بخشؒ
سن رہا ہوں آج تک عشقِ محمد ؐ کی اذا ں
مسجد نبوی کا اک مینار نو شہ گنج بخشؒ
فر ض ہے ہر شخص پر ذکر گرا می آپ کا
ایک اک نو شا ہی کا پر چار نو شہ گنج بخشؒ
تر دما غو ں میں یہ صبح فکر کی رعنا ئیاں
ٍٍٍآپ کے بس آپ کے افکار نو شہ گنج بخشؒ
معتر ف ہے ذہن انسا ں آپ کے عر فان کا
دل غلا می کا کر ے اقرار نو شہ گنج بخشؒ
خا کِ رنمل کو مسیحا ئی کی رفعت مل گئی
ہیں وہا ں جو دفن زند ہ دار نو شہ گنج بخشؒ
اک ذر اچشمِ عنا یت چا ہتا ہو ں آپ کی
آپ کا مجھ کو کر م در کار نو شہ گنج بخشؒ
کھو ل در واز ے جہا ں با نی کے میر ی ذا ت پر
میں بہت ہو ں مفلس و نا دار نو شہ گنج بخشؒ
چہر ہ ء انوا ر کی بس اک تجلی دے مجھے
خوا ب ہی میں بخش دے دیدار نو شہ گنج بخشؒ
حضرت معر و ف نو شا ہی کی فر ما ئش ہو ئی
پرُ سعا د ت یہ لکھے اشعار نو شہ گنج بخشؒ
منقبت منصو ر پڑ ھ پو رے ادب آداب سے
سن رہے ہیں شعر خو د سر کار نو شہ گنج بخشؒ
منصور آفاق

پاؤں بے ساختہ لے آئے مجھے کار کے پاس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 188
سوچ کا ثانیہ دم بھر کو گیا یار کے پاس
پاؤں بے ساختہ لے آئے مجھے کار کے پاس
ایک پتھر ہے کہ بس سرخ ہوا جاتا ہے
کوئی پہروں سے کھڑا ہے کسی دیوار کے پاس
گھنٹیاں شور مچاتی ہیں مرے کانوں میں
فون مردہ ہے مگر بسترِ بیدار کے پاس
کس طرح برف بھری رات گزاری ہو گی
میں بھی موجود نہ تھا جسمِ طرح دار کے پاس
عبرت آموز ہے دربارِ شب و روز کا تاج
طشتِ تاریخ میں سر رکھے ہیں دستار کے پاس
چشمِ لالہ پہ سیہ پٹیاں باندھیں منصور
سولیاں گاڑنے والے گل و گلزار کے پاس
منصور آفاق

سمندر جیسی آنکھیں تھی گل و گلزار چہرہ تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 99
کنارِ صبحِ امکاں اک تبسم بار چہرہ تھا
سمندر جیسی آنکھیں تھی گل و گلزار چہرہ تھا
مری نظریں اٹھیں تو پھر پلٹ کر ہی نہیں آئیں
عجب سندر سی آنکھیں تھی عجب دلدار چہرہ تھا
سنا ہے اس لیے اس نے تراشے خال و خد میرے
اسے پہچان کو اپنی کوئی درکار چہرہ تھا
ہوا کی آیتوں جیسی تکلم کی بہشتیں تھیں
شراب و شہد بہتے تھے وہ خوش گفتار چہرہ تھا
جہاں پر دھوپ کھلتی تھی وہیں بادل برستے تھے
جہاں پُر خواب آنکھیں تھیں وہیں بیدار چہرہ تھا
شفق کی سر خ اندامی لب و رخسار جیسی تھی
چناروں کے بدن پر شام کا گلنار چہرہ تھا
جسے بتیس برسوں سے مری آنکھیں تلاشے ہیں
بس اتنا جانتا ہوں وہ بہت شہکار چہرہ تھا
جہاں پر شمع داں رکھا ہوا ہے یاد کا منصور
یہاں اس طاقچے میں کوئی پچھلی بار چہرہ تھا
منصور آفاق

دیکھا نہ مگر اس نے ہمارا گل و گلزار

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 5
کچھ زخم دھنک خیز ہیں کچھ زخم لہو بار
دیکھا نہ مگر اس نے ہمارا گل و گلزار
کیا مانگنے آ سکتے ہیں پھر تیری گلی میں
ہم آخرِ شب، آخری سگریٹ کے طلب گار
یہ فلسفہ ہے یا کہ خرابی ہے خرد کی
ہونے سے بھی انکار ، نہ ہونے سے بھی انکار
اک زاویہ در زاویہ جذبوں کی ریاضی
اک لمس بھری قوسِ قزح ، بسترِ بیدار
رکھ ہاتھ نہ زانو پہ اے دہکے ہوئے موسم
اس وقت زیادہ ہے بہت کار کی رفتار
نازک ہے بہت، داغ نہ پڑ جائیں بدن پر
اُس حسنِ گنہ خیز کو مسواک سے مت مار
آنکھوں سے لپکتے ہیں یہاں برف کے طوفاں
ہرچند کہ مصنوعی نہیں گرمیِ بازار
بنیاد میں رکھا گیا تھا جس کو مکاں کی
منصور ہوا پھر اسی بھونچال سے مسمار
وحدت کے ازل زار یہ کثرت کے ابد زار
ہم ہی سے دھنک رنگ ہیں ہم ہی سے کرم بار
ہم عالمِ لاہوت کی خوش بخت سحر ہیں
ہم حرکتِ افلاک ہیں ہم ثابت و سیار
ہم حسنِ نزاکت کی چہکتی ہوئی تاریخ
ہم قرطبہ اور تاج محل کے در و دیوار
ہم کاسہء مجذوب ہیں ہم دھجیاں دھج کی
ہم روند کے پاؤں سے نکل آئے ہیں دستار
ہم کُن کی صدا ہیں ہمی لولاک کا نغمہ
ہم وقت کے گنبد ہمی بازیچہء اسرار
ہم لوگ سراپا ہیں کرامت کوئی منصور
ہم قربِ خداوندی کے احساس کا اظہار
منصور آفاق

پہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 253
دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے
پہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہے
ہر بار وہی سوچ وہی زہر کا ساغر
اس پر یہ ستم جرات انکار نہیں ہے
کچھ اٹھ کے بگولوں کی طرح ہو گئے رقصاں
کچھ کہتے رہے راستہ ہموار نہیں ہے
دل ڈوب گیا لذت آغوش سحر میں
بیدار ہے اس طرح کہ بیدار نہیں ہے
یہ سر سے نکلتی ہوئی لوگوں کی فصیلیں
دل سے مگر اونچی کوئی دیوار نہیں ہے
دم سادھ کے بیٹھا ہوں اگرچہ مرے سر پر
اک شاخ ثمر دار ہے تلوار نہیں ہے
دم لو نہ کہیں دھوپ میں چلتے رہو باقیؔ
اپنے لئے یہ سایہ اشجار نہیں ہے
باقی صدیقی

جام ہے، مے ہے، رسن ہے، دار ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 235
اہل دل فرمائیں کیا درکار ہے
جام ہے، مے ہے، رسن ہے، دار ہے
خار کو کوئی کلی کہتا نہیں
نرم ہو،نازک ہو پھر بھی خار ہے
کچھ کہیں تو آپ ہوتے ہیں خفا
چپ رہیں تو زندگی دشوار ہے
لوریاں دیتی رہی دنیا بہت
پھر بھی جو بیدار تھا، بیدار ہے
کاش ہوتے اتنے اچھے آپ بھی
جتنی اچھی آپ کی گفتار ہے
کل کہاں تھی آج ہے باقیؔ کہاں
زندگی کتنی سبک رفتار ہے
باقی صدیقی