ٹیگ کے محفوظات: بیداد

بلبلوں نے عمر بھر میری کہانی یاد کی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 97
داستاں اوراقِ گل پر تھی مجھی ناشاد کی
بلبلوں نے عمر بھر میری کہانی یاد کی
مجھ سے روٹھا ہے خودی دیکھو بتِ جلاد کی
مدعا یہ ہے کہ کیوں اللہ سے فریاد کی
قبر ٹھوکر سے مٹا دی عاشقِ ناشاد کی
یہ بھی اک تاریخ تھی ظالم تری بیداد کی
کیا ملے دیکھیں اسیروں کو سزا فریاد کی
آج کچھ بدلی ہوئی سی ہے نظر صیاد کی
رات میں بلبل تجھے سوجھی تو ہے فریاد کی
آنکھ سوتے سے نہ کھل جائے کہیں صیاد کی
آگیا ان کو رحم اے دل تو نے کیوں فریاد کی
اب ہمیں امید بھی جاتی رہی بیداد کی
جس جگہ پہنچا وہیں آمد سنی صیاد کی
کیا بری تقدیر ہے مجھے خانماں برباد کی
فصلِ گل آتے ہی میرے چار تنکوں کے لیے
بجلیاں بے تاب ہیں چرخِ ستم ایجاد کی
ہو گیا بیمار کا دو ہچکیوں میں فیصلہ
ایک ہچکی موت کی اور اک تمھاری یاد کی
جاؤ بس رہنے بھی دو آئے نہ تم تو کیا ہوا
کیا کوئی میت نہ اٹھی عاشقِ ناشاد کی
اب مرے اجڑے نشیمن کی الٰہی خیر ہو
آج پھر دیکھی ہے صورت خواب میں صیاد کی
کس طرح گزری شبِ فرقت قمر سے یہ نہ پوچھ
کچھ ستارے گن لئے، کچھ روئے، کچھ فریاد کی
قمر جلالوی

غم حرماں کا کب تک کھینچیں شاد کرو تو بہتر ہے

دیوان چہارم غزل 1498
دیر سے ہم کو بھول گئے ہو یاد کرو تو بہتر ہے
غم حرماں کا کب تک کھینچیں شاد کرو تو بہتر ہے
پہنچا ہوں میں دوری سے مرنے کے نزدیک آخر تو
قیدحیات سے بندے کو آزاد کرو تو بہتر ہے
جو کریے گا حق میں میرے خوبی ہے میری اس ہی میں
داد کرو تو بہتر ہے بیداد کرو تو بہتر ہے
زخم دامن دار جگر سے جامہ گذاری ہو نہ گئی
ظلم نمایاں اب کوئی جو ایجاد کرو تو بہتر ہے
عشق میں دم مارا نہ کبھو تم چپکے چپکے میر کھپے
لوہو منھ سے مل کر اب فریاد کرو تو بہتر ہے
میر تقی میر

زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد

دیوان سوم غزل 1127
ہماری بات کو اے شمع بزم کریو یاد
زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد
ہمیں اسیر تو ہونا ہے اپنا اچھا یاد
کشش نہ دام کی دیکھی نہ کوشش صیاد
نہ دردمندی سے یہ راہ تم چلے ورنہ
قدم قدم پہ تھی یاں جاے نالہ و فریاد
ہزار فاختہ گردن میں طوق پہنے پھرے
اسے خیال نہیں کچھ وہ سرو ہے آزاد
جہاں میں اتنے ہی آشوب کیا رہیں گے بس
ابھی پڑے گا مرے خون بے گنہ سے زیاد
چمن میں اٹھتے ہیں سنّاہٹے سے اے بلبل
جگرخراش یہ نالے ہیں تیرے منھ سے زیاد
ثبات قصر و در و بام و خشت و گل کتنا
عمارت دل درویش کی رکھو بنیاد
چمن میں یار ہمیں لے گئے تھے وا نہ ہوئے
ہمارے ساتھ یہی غم یہی دل ناشاد
ہمیں تو مرنے کا طور اس کے خوش بہت آیا
طواف کریے جو ہو نخل ماتم فرہاد
نظر نہ کرنی طرف صید کے دم بسمل
یہ ظلم تازہ ہوا اس کشندے سے ایجاد
چلے نہ تیغ اگر ہم نگاہ عجز کریں
ہماری اور نہ دیکھے خدا کرے جلاد
کب ان نے دل میں کر انصاف ہم پہ لطف کیا
وہی ہے خشم وہی یاں سے جا وہی بیداد
تمام ریجھ پچائو ہیں اب تو پھر پس مرگ
کہا کنھوں نے تو کیا عزّاسمہٗ استاد
اگرچہ گنج بھی ہے پر خرابیاں ہیں بہت
نہ پھر خرابے میں اے میر خانماں برباد
میر تقی میر

دیکھے سے طور اس کے خدا یاد آگیا

دیوان دوم غزل 708
ناگہ جو وہ صنم ستم ایجاد آگیا
دیکھے سے طور اس کے خدا یاد آگیا
پھوڑا تھا سر تو ہم نے بھی پر اس کو کیا کریں
جو چشم روزگار میں فرہاد آگیا
اپنا بھی قصد تھا سردیوار باغ کا
توڑا ہی تھا قفس کو پہ صیاد آگیا
جور و ستم اٹھانے ہی اس سے بنیں گے شیخ
مسجد میں گر وہ عاشق بیداد آگیا
دیکھیں گے آدمی کی روش میر ہم تری
گر سامنے سے ٹک وہ پری زاد آگیا
میر تقی میر

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے

دیوان اول غزل 516
اب کرکے فراموش تو ناشاد کروگے
پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے
زنہار اگر خستہ دلاں بے ستوں جائو
ٹک پاس ہنرمندی فرہاد کروگے
غیروں پہ اگر کھینچوگے شمشیر تو خوباں
اک اور مری جان پہ بیداد کروگے
جاگہ نہیں یاں رویئے جس پر نہ کھڑے ہو
کچھ شور ہی شر پر تو مجھے یاد کروگے
اس دشت میں اے راہرواں ہر قدم اوپر
مانند جرس نالہ و فریاد کروگے
گر دیکھوگے تم طرز کلام اس کی نظر کر
اے اہل سخن میر کو استاد کروگے
میر تقی میر

اس کی ہوا میں ہم پہ تو بیداد ہو گئی

دیوان اول غزل 433
آخر ہماری خاک بھی برباد ہو گئی
اس کی ہوا میں ہم پہ تو بیداد ہو گئی
مدت ہوئی نہ خط ہے نہ پیغام ہے مگر
اک رسم تھی وفا کی پر افتاد ہو گئی
دل کس قدر شگفتہ ہوا تھا کہ رات میر
آئی جو بات لب پہ سو فریاد ہو گئی
میر تقی میر