ٹیگ کے محفوظات: بیانی

شعر کیا کہوں کہ طبیعت میں روانی کم ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 146
دل سُلگتا ہے مگر سوختہ جانی کم ہے
شعر کیا کہوں کہ طبیعت میں روانی کم ہے
زیست اک آدھ محبت سے بسر ہو کیسے؟
رات لمبی ہو تو پھر ایک کہانی کم ہے
تجھ سے کہنا تو نہیں چاہیے پر کہتے ہیں
ہم نے بھی دولتِ جاں اب کے لٹانی کم ہے
دل کو کیا روئیں کہ جب سوکھ گئی ہوں آنکھیں
شہر ویراں ہے کہ دریاؤں میں پانی کم ہے
ہم نے اندوہ زمانہ سے نہ خم کھایا ہے
شاید اب یوں ہے کہ آشوبِ جوانی کم ہے
جس طرح سانحے گزرے ہیں تیری جاں پہ فراز
اس کو دیکھیں تو یہ آشفتہ بیانی کم ہے
احمد فراز

یار لوگوں کی زبانی اور ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 144
ہم سنائیں تو کہانی اور ہے
یار لوگوں کی زبانی اور ہے
چارہ گر روتے ہیں تازہ زخم کو
دل کی بیماری پرانی اور ہے
جو کہا ہم نے وہ مضمون اور تھا
ترجماں کی ترجمانی اور ہے
ہے بساطِ دل لہو کی اک بوند
چشمِ پر خوں کی روانی اور ہے
نامہ بر کو کچھ بھی ہم پیغام دیں
داستاں اس نے سنانی اور ہے
آبِ زمزم دوست لائے ہیں عبث
ہم جو پیتے ہیں‌ وہ پانی اور ہے
سب قیامت قامتوں کو دیکھ لو
کیا مرے جاناں کا ثانی اور ہے
شاعری کرتی ہے اک دنیا فراز
پر تری سادہ بیانی اور ہے
احمد فراز

پائے طاؤس پئے خامۂ مانی مانگے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 235
نقشِ نازِ بتِ طنّاز بہ آغوشِ رقیب
پائے طاؤس پئے خامۂ مانی مانگے
تو وہ بد خو کہ تحیّر کو تماشا جانے
غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے
وہ تبِ@ عشق تمنّا ہے کہ پھر صورتِ شمع
شعلہ تا نبضِ جگر ریشہ دوانی مانگے
@ تپ۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

اور پھر وہ بھی زبانی میری

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 192
کب وہ سنتا ہے کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری
خلشِ غمزۂ خوں ریز نہ پوچھ
دیکھ خوں نابہ فشانی میری
کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
مگر آشفتہ بیانی میری
ہوں ز خود رفتۂ بیدائے خیال
بھول جانا ہے نشانی میری
متقابل ہے مقابل میرا
رک گیا دیکھ روانی میری
قدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوں
سخت ارزاں ہے گرانی میری
گرد بادِ رہِ بیتابی ہوں
صرصرِ شوق ہے بانی میری
دہن اس کا جو نہ معلوم ہوا
کھل گئی ہیچ مدانی میری
کر دیا ضعف نے عاجز غالب
ننگِ پیری ہے جوانی میری
مرزا اسد اللہ خان غالب

اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی

دیوان دوم غزل 949
میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی
خاطر بادیہ سے دیر میں جاوے گی کہیں
خاک مانند بگولے کے اڑانی اس کی
ایک ہے عہد میں اپنے وہ پراگندہ مزاج
اپنی آنکھوں میں نہ آیا کوئی ثانی اس کی
مینھ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نے
اسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی
بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھا
پر ملی خاک میں کیا سحر بیانی اس کی
کرکے تعویذ رکھیں اس کو بہت بھاتی ہے
وہ نظر پائوں پہ وہ بات دوانی اس کی
اس کا وہ عجز تمھارا یہ غرور خوبی
منتیں ان نے بہت کیں پہ نہ مانی اس کی
کچھ لکھا ہے تجھے ہر برگ پہ اے رشک بہار
رقعہ واریں ہیں یہ اوراق خزانی اس کی
سرگذشت اپنی کس اندوہ سے شب کہتا تھا
سو گئے تم نہ سنی آہ کہانی اس کی
مرثیے دل کے کئی کہہ کے دیے لوگوں کو
شہر دلی میں ہے سب پاس نشانی اس کی
میان سے نکلی ہی پڑتی تھی تمھاری تلوار
کیا عوض چاہ کا تھا خصمی جانی اس کی
آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہے
دردمندی میں گئی ساری جوانی اس کی
اب گئے اس کے جز افسوس نہیں کچھ حاصل
حیف صد حیف کہ کچھ قدر نہ جانی اس کی
میر تقی میر

فلم جاری ہے کہانی ختم شد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 156
زندگی! اب زندگانی ختم شد
فلم جاری ہے کہانی ختم شد
رو لیا ہے جتنا رو سکتا تھا میں
آنکھ میں جو تھا وہ پانی ختم شد
کر رہا ہوں شام سے فکرِ سخن
یعنی عہدِ رائیگانی ختم شد
میں بھی ہوں موجود اب افلاک پر
لامکاں کی لامکانی ختم شد
رک گیا میں بھی کنارہ دیکھ کر
پانیوں کی بھی روانی ختم شد
چھوڑ آیا ہوں میں شورِ ناتمام
گاڑیوں کی سرگرانی ختم شد
اور باقی ہیں مگر امید کی
اک بلائے ناگہانی ختم شد
آنے سے پہلے بتاتی ہیں مجھے
بارشوں کی بے زبانی ختم شد
دیکھتے ہیں آسماں کے کیمرے
اب گلی کی پاسبانی ختم شد
آ گئے جب تم تو کیا پھر رہ گیا
جو تھا سوچا ، جو تھی ٹھانی ختم شد
بھیج غالب آتشِ دوزخ مجھے
سوزِ غم ہائے نہانی ختم شد
اڑ رہی ہے راکھ آتش دان میں
یار کی بھی مہربانی ختم شد
اب مرے کچھ بھی نہیں ہے آس پاس
ایک ہی تھی خوش گمانی ختم شد
وہ سمندر بھی بیاباں ہو گیا
وہ جو کشتی تھی دخانی ختم شد
اک تکلم اک تبسم کے طفیل
میرا شوقِ جاودانی ختم شد
آہٹیں سن کر خدا کی پچھلی رات
میرے دل کی بے کرانی ختم شد
اک مجسم آئینے کے سامنے
آرزو کی خوش بیانی ختم شد
لفظ کو کیا کر دیا ہے آنکھ نے
چیختے روتے معانی ختم شد
کچھ ہوا ایسا ہوا کے ساتھ بھی
جس طرح میری جوانی ختم شد
اہم اتنا تھا کوئی میرے لیے
اعتمادِ غیر فانی ختم شد
دشت کی وسعت جنوں کو چاہیے
اس چمن کی باغبانی ختم شد
اپنے بارے میں کروں گا گفتگو
یار کی اب ترجمانی ختم شد
ذہن میں منصور ہے تازہ محاذ
سرد جنگ اپنی پرانی ختم شد
منصور آفاق

سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 21
خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ
سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ
شمع کے مانند کیا آتش زبانی پر گھمنڈ
صورتِ پروانہ کر سوز نہانی پر گھمنڈ
ہے اگر شمشیر قاتل کو روانی پر گھمنڈ
بسملوں کو بھی ہے اپنی سخت جانی پر گھمنڈ
ناز اُٹھانے کا ہے اس کے حوصلہ اے جانِ زار
اب تلک تجھ کو ہے زور ناتوانی پر گھمنڈ
نوبت شاہی سے آتی ہے صدا شام و سحر
اور کر لے چار دن اس دار فانی پر گھمنڈ
دیکھ او نادان کہ پیری کا زمانہ ہے قریب
کیا لڑکپن ہے کہ کرتا ہے جوانی پر گھمنڈ
چار ہی نالے ہمارے سن کے چپکی لگ گئی
تھا بہت بلبل کو اپنی خوش بیانی پر گھمنڈ
عفو کے قابل مرے اعمال کب ہیں اے کریم
تیری رحمت پر ہے تیری مہربانی پر گھمنڈ
شمع محفل شامت آئی ہے تری خاموش ہو
دل جلوں کے سامنے آتش زبانی پر گھمنڈ
طبع شاعر آ کے زوروں پر کرے کیوں کر نہ ناز
سب کو ہوتا ہے جوانی میں جوانی پر گھمنڈ
چار موجوں میں ہماری چشم تر کے رہ گیا
ابر نیساں کو یہی تھا ڈر فشانی پر گھمنڈ
دیکھنے والوں کی آنکھیں آپ نے دیکھی نہیں
حق بجانب ہے اگر ہے لن ترانی پر گھمنڈ
عاشق و معشوق اپنے اپنے عالم میں ہیں مست
واں نزاکت پر تو یاں ہے ناتوانی پر گھمنڈ
تو سہی کلمہ ترا پڑھوا کے چھوڑوں اے صنم
زاہدوں کو ہے بہت تسبیح خوانی پر گھمنڈ
سبزہ خط جلد یارب رخ پر اُس کے ہو نمود
خضر کو ہے اپنی عمر جاودانی پر گھمنڈ
گور میں کہتی ہے عبرت قیصر و فغفور سے
کیوں نہیں کرتے ہو اب صاحب قرانی پر گھمنڈ
ہے یہی تاثیر آبِ خنجر جلّاد میں
چشمۂ حیواں نہ کر تو اپنے پانی پر گھمنڈ
حال پر اجداد و آبا کے تفاخر کیا امیر
ہیں وہ ناداں جن کو ہے قصے کہانی پر گھمنڈ
امیر مینائی