ٹیگ کے محفوظات: بیاباں

موت کی جیب سے بھی زیست کا ساماں نکلا

موجب رنگِ چمن خونِ شہیداں نکلا
موت کی جیب سے بھی زیست کا ساماں نکلا
ٹھوکریں کھائی ہیں اتنی کہ اب اپنے دل سے
شوقِ آوارگیِ دشت و بیاباں نکلا
ہم بہت خوش تھے کہ جاگ اٹھی ہے اپنی قسمت
آنے والا کسی ہمسائے کا مہماں نکلا
ہے عجب بات کہ جس رستے پہ ہم چل نکلے
گھوم پھر کر وہ سرِ کوچہء جاناں نکلا
بے حسی نے جو کبھی فرصتِ غم دی ہم کو
ایک سیلاب نہفتہ تہِ مژگاں نکلا
چارہ گر خطرۂ جاں کہتے تھے جس کو باصرِؔ
وہی غم باعثِ آرامِ رگِ جاں نکلا
باصر کاظمی

ہے میّسر مجھے انساں ہونا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
قّصۂ دہر کا عنواں ہونا
ہے میّسر مجھے انساں ہونا
کتنا مشکل ہے ترے غم کا حصول
کتنا مشکل ہے پریشاں ہونا
تو مری روح میں، وجدان میں ہے
تجھ کو حاصل ہے مری جاں ہونا
مہر کو سر پہ سجانا پل بھر
پھر شبِ سردِ زمستاں ہونا
پھُولنا شاخ پہ غنچہ غنچہ
اور اِک ساتھ پریشاں ہونا
کب تلک خوفِ ہوا سے آخر
ہو میسّر، تہِ داماں ہونا
تھے کبھی ہم بھی گلستاں ماجدؔ
اَب وطیرہ ہے بیاباں ہونا
ماجد صدیقی

وسعتیں ایک ایک ذرے کی بیاباں ہو گئیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 63
منزلیں غربت میں مجھ کو آفتِ جاں ہو گئیں
وسعتیں ایک ایک ذرے کی بیاباں ہو گئیں
چارہ گر کیونکر نکالے دل میں پنہاں ہو گئیں
ٹوٹ کر نوکیں ترے تیروں کی ارماں ہو گئیں
کیا کروں جو آہیں رسوائی کا ساماں ہو گئیں
مشکلیں ایسی مجھے کیوں دیں جو آساں ہو گئیں
ہم نفس صیاد کی عادت کو میں سمجھتا نہ تھا
بھول کر نظریں مری سوئے گلستاں ہو گئیں
آشیاں اپنا اٹھاتے ہیں سلام اے باغباں
بجلیاں اب دشمنِ جانِ گلستاں ہو گئیں
میری حسرت کی نظر سے رازِ الفت کھل گیا
آرزوئیں اشک بن بن کر نمایا ہو گئیں
کیا نہیں معلوم کون آیا عیادت کے لئے
اسی بند آنکھیں تری بیمارِ ہجراں ہو گئیں
بلبلِ ناشاد ہی منحوس نالے بند کر
پھول غارت ہو گئے برباد کلیں ہو گئیں
وہ اٹھی عاشق کی میت لے مبارک ہو تجھے
اب تو پوری حسرتیں او دشمنِ جاں ہو گئیں
کائناتِ دل ہی کیا تھی چار بوندیں خون کی
دو غذائے غم ہوئیں دو نذرِ پیکاں ہو گئیں
آسماں پر ڈھونڈتا ہوں ان دعاؤں کو قمر
صبح کو جو ڈوبتے تاروں میں پنہاں ہو گئیں
قمر جلالوی

پنجۂ خور نے کیا چاک گریباں میرا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 6
صبح ہوتے ہی گیا گھر مہِ تاباں میرا
پنجۂ خور نے کیا چاک گریباں میرا
گرم گرم اس رخِ نازک پہ نظر کی کس نے
رشکِ گل ریز ہے کیوں دیدۂ گریاں میرا
وادیِ نجد کو دلی سے نہ دینا نسبت
ہے وہ مجنوں کا بیاباں، یہ بیاباں میرا
دیکھ کر میری طرف ہنس کے کہا یہ دمِ قتل
آج تو دیکھ لیا آپ نے پیماں میرا
نہ گھر آیا، نہ جنازے پہ، نہ مرقد پہ کبھی
حیف صد حیف نہ نکلا کوئی ارماں میرا
چارہ سازو! کوئی رہتا ہے بجز چاک ہوئے
آپ سو بار سییں، ہے یہ گریباں میرا
آس کی زلفوں کا نہ ہو دھیان تو اے شیفتہ پھر
اس شبِ ہجر میں ہے کون نگہباں میرا
مصطفٰی خان شیفتہ

میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 122
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر
میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر
نہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی
سفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر
فنا "تعلیمِ درسِ بے خودی” ہوں اُس زمانے سے
کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر
فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سے
بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمک داں پر
نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومارِ ناز ایسا
کہ پشتِ چشم سے جس کی نہ ہووے مُہر عنواں پر
مجھے اب دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ یاد آیا
کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلِستاں پر
بجُز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہو گا
قیامت اِک ہوائے تند ہے خاکِ شہیداں پر
نہ لڑ ناصح سے، غالب، کیا ہوا گر اس نے شدّت کی
ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
مرزا اسد اللہ خان غالب

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 71
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا
وائے دیوانگئ شوق کہ ہر دم مجھ کو
آپ جانا اُدھر اور آپ ہی حیراں@ ہونا
جلوہ از بسکہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
جوہرِ آئینہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا
عشرتِ قتل گہِ اہل تمنا، مت پوچھ
عیدِ نظّارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاط
تو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا
عشرتِ پارۂ دل، زخمِ تمنا کھانا
لذت ریشِ جگر، غرقِ نمکداں ہونا
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
حیف اُس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب!
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
@ نسخۂ طاہر میں ” پریشاں”
مرزا اسد اللہ خان غالب

بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 62
گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
تنگئ دل کا گلہ کیا؟ یہ وہ کافر دل ہے
کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا
بعد یک عمرِ وَرع بار تو دیتا بارے
کاش رِضواں ہی درِ یار کا درباں ہوتا
مرزا اسد اللہ خان غالب

تو میاں مجنوں بیاباں سے گئے

دیوان سوم غزل 1276
یوں جنوں کرتے جو ہم یاں سے گئے
تو میاں مجنوں بیاباں سے گئے
مر گئے دم کب تلک رکتے رہیں
بارے جی کے ساتھ سب سانسے گئے
کیا بدن دیکھا چسی چولی سے ہائے
مارے حسرت کے ہی ہم جاں سے گئے
جانب مسجد تھی وہ کافر نگاہ
شیخ صاحب دین و ایماں سے گئے
پیچ میں آئے کسو کی زلف کے
میر اس رستے پریشاں سے گئے
میر تقی میر

برسنا مینھ کا داخل ہے اس بن تیر باراں میں

دیوان سوم غزل 1193
چمکنا برق کا کرتا ہے کار تیغ ہجراں میں
برسنا مینھ کا داخل ہے اس بن تیر باراں میں
بھرے رہتے ہیں سارے پھول ہی جس کے گریباں میں
وہ کیا جانے کہ ٹکڑے ہیں جگر کے میرے داماں میں
کہیں شام و سحر رویا تھا مجنوں عشق لیلیٰ میں
ہنوز آشوب دونوں وقت رہتا ہے بیاباں میں
خیال یار میں آگے ہے یک مہ پارہ یاں ہر دم
اگر ہجراں میں زندانی ہوں پر ہوں یوسفستاں میں
رکھا عرصہ جنوں پر تنگ مشتاقوں کی دوری سے
کسے مارا ہے اس گھتیے نے سنمکھ ہوکے میداں میں
جہاں سے دیکھیے اک شعر شور انگیز نکلے ہے
قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میں
جو دیکھو تو نہیں یہ حال اپنا حسن سے خالی
دمک الماس کی سی ہے ہماری چشم حیراں میں
خرابی آگئی دینوں میں ملت گئی اسے دیکھے
ملے سے اس کے رخنے پڑ گئے لوگوں کے ایماں میں
نکل آتا ہے گھر سے ہر گھڑی ننگے بدن باہر
برا یہ آپڑا ہے عیب اس آسائش جاں میں
ستم کے تیر اس کے میرے سینے میں بہت ٹوٹے
کیا جاتا ہے مشکل فرق اب دل اور پیکاں میں
ہواے ابر میں کیا میر ہنستا باغ میں وہ تھا
گری پڑتی ہے بجلی آج کچھ صحن گلستاں میں
میر تقی میر

سو ہی بات آئی اٹھے اس پاس سے جاں سے گئے

دیوان دوم غزل 1013
ہم نہ کہتے تھے رہے گا ہم میں کیا یاں سے گئے
سو ہی بات آئی اٹھے اس پاس سے جاں سے گئے
کیا بخود رہنا ہمارا کچھ رکھے ہے اعتبار
آپ میں آئے کبھو اب ہم تو مہماں سے گئے
جب تلک رہنا بنا دل تنگ غنچے سے رہے
دیکھیے کیا گل کھلے گا اب گلستاں سے گئے
کیا غزالوں ہی کو ہم بن وحشت بسیار ہے
کوہ بھی نالاں رہے جب ہم بیاباں سے گئے
لائی آفت خانقاہ و مسجد اوپر وہ نگاہ
صوفیاں دیں سے گئے سب شیخ ایماں سے گئے
دور کر خط کو کیا چہرہ کتابی ان نے صاف
اب قیامت ہے کہ سارے حرف قرآں سے گئے
جی تو اس کی زلف میں دل کا کل پیچاں میں میر
جا بھی نکلے اس کنے تو ہم پریشاں سے گئے
میر تقی میر

کہہ اے نسیم صبح گلستاں کی کیا خبر

دیوان دوم غزل 816
مجھ کو قفس میں سنبل و ریحاں کی کیا خبر
کہہ اے نسیم صبح گلستاں کی کیا خبر
رہتا ہے ایک نشہ انھیں جن کو ہے شناخت
ہے زاہدوں کو مستی و عرفاں کی کیا خبر
ٹک پوچھتے جو آن نکلتا کوئی ادھر
اب بعد مرگ قیس بیاباں کی کیا خبر
برباد جائے یاں کوئی دولت تو کیا عجب
آئی ہے تم کو ملک سلیماں کی کیا خبر
آیا ہے ایک شہر غریباں سے تازہ تو
میر اس جوان حال پریشاں کی کیا خبر
میر تقی میر

سو کاروان مصر سے کنعاں تلک گئے

دیوان اول غزل 559
یعقوبؑ کے نہ کلبۂ احزاں تلک گئے
سو کاروان مصر سے کنعاں تلک گئے
بارے نسیم ضعف سے کل ہم اسیر بھی
سناہٹے میں جی کے گلستاں تلک گئے
رہنے نہ دیں گے دشت میں مجنوں کو چین سے
گر ہم جنوں کے مارے بیاباں تلک گئے
کو موسم شباب کہاں گل کسے دماغ
بلبل وہ چہچہے انھیں یاراں تلک گئے
کچھ آبلے دیے تھے رہ آورد عشق نے
سو رفتہ رفتہ خار مغیلاں تلک گئے
پھاڑا تھا جیب پی کے مئے شوق میں نے میر
مستانہ چاک لوٹتے داماں تلک گئے
میر تقی میر

نکالا سر سے میرے جاے مو خار مغیلاں کو

دیوان اول غزل 377
فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو
نکالا سر سے میرے جاے مو خار مغیلاں کو
وہ ظالم بھی تو سمجھے کہہ رکھا ہے ہم نے یاراں کو
کہ گورستان سے گاڑیں جدا ہم اہل ہجراں کو
نہیں یہ بید مجنوں گردش گردون گرداں نے
بنایا ہے شجر کیا جانیے کس مو پریشاں کو
ہوئے تھے جیسے مرجاتے پر اب تو سخت حسرت ہے
کیا دشوار نادانی سے ہم نے کار آساں کو
کہیں نسل آدمی کی اٹھ نہ جاوے اس زمانے میں
کہ موتی آب حیواں جانتے ہیں آب انساں کو
تجھے گر چشم عبرت ہے تو آندھی اور بگولے سے
تماشا کر غبار افشانی خاک عزیزاں کو
لباس مرد میداں جوہر ذاتی کفایت ہے
نہیں پرواے پوشش معرکے میں تیغ عریاں کو
ہواے ابر میں گرمی نہیں جو تو نہ ہو ساقی
دم افسردہ کردے منجمد رشحات باراں کو
جلیں ہیں کب کی مژگاں آنسوئوں کی گرم جوشی سے
اس آب چشم کی جوشش نے آتش دی نیستاں کو
وہ کافر عشق کا ہے دل کہ میری بھی رگ جاں تک
سدا زنار ہی تسبیح ہے اس نامسلماں کو
غرور ناز سے آنکھیں نہ کھولیں اس جفا جونے
ملا پائوں تلے جب تک نہ چشم صد غزالاں کو
نہ سی چشم طمع خوان فلک پر خام دستی سے
کہ جام خون دے ہے ہر سحر یہ اپنے مہماں کو
زبس صرف جنوں میرے ہوا آہن عجب مت کر
نہ ہو گر حلقۂ در خانۂ زنجیر سازاں کو
بنے ناواقف شادی اگر ہم بزم عشرت میں
دہان زخم دل سمجھے جو دیکھا روے خنداں کو
نہیں ریگ رواں مجنوں کے دل کی بے قراری نے
کیا ہے مضطرب ہر ذرئہ گرد بیاباں کو
کسی کے واسطے رسواے عالم ہو پہ جی میں رکھ
کہ مارا جائے جو ظاہر کرے اس راز پنہاں کو
گری پڑتی ہے بجلی ہی تبھی سے خرمن گل پر
ٹک اک ہنس میرے رونے پر کہ دیکھے تیرے دنداں کو
غرور ناز قاتل کو لیے جا ہے کوئی پوچھے
چلا تو سونپ کر کس کے تئیں اس صید بے جاں کو
وہ تخم سوختہ تھے ہم کہ سرسبزی نہ کی حاصل
ملایا خاک میں دانہ نمط حسرت سے دہقاں کو
ہوا ہوں غنچۂ پژمردہ آخر فصل کا تجھ بن
نہ دے برباد حسرت کشتۂ سردرگریباں کو
غم و اندوہ و بیتابی الم بے طاقتی حرماں
کہوں اے ہم نشیں تاچند غم ہاے فراواں کو
گل وسرو وسمن گر جائیں گے مت سیرگلشن کر
ملا مت خاک میں ان باغ کے رعنا جواناں کو
بہت روئے جو ہم یہ آستیں رکھ منھ پہ اے بجلی
نہ چشم کم سے دیکھ اس یادگارچشم گریاں کو
مزاج اس وقت ہے اک مطلع تازہ پہ کچھ مائل
کہ بے فکرسخن بنتی نہیں ہرگز سخنداں کو
میر تقی میر

قصرِ بلقیس اِسے سمجھے سلیماں اپنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 8
گھر کے آتا ہے نظر بے سرو ساماں اپنا
قصرِ بلقیس اِسے سمجھے سلیماں اپنا
نقش پا چھوڑ کے جانے کا کریں وہم، مگر
کہیں لگتا ہی نہیں پائے گریزاں اپنا
کاہے کے ڈھیر سے ہو سکتی ہے شعلے کی نمود
یعنی پستی میں بلندی کا ہے امکاں اپنا
رسمِ دیوانگی اس بار بدل دی جائے
موسمِ حبس میں کر چاک گریباں اپنا
قریۂ شور میں تنہائیاں تاحدِّ اُفق
شہر میں ساتھ رکھا ہم نے بیاباں اپنا
تابِ یک شعر سے ہے بزمِ تمنا کو فروغ
ہم نے بجھنے نہ دیا اشکِ فروزاں اپنا
آفتاب اقبال شمیم

اے چشمِ اعتبار پریشاں نہ کر مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 294
جب وہم ہے وہ شکل تو حیراں نہ کر مجھے
اے چشمِ اعتبار پریشاں نہ کر مجھے
اس روشنی میں تیرا بھی پیکر نظر نہ آئے
اچھا یہ بات ہے تو فروزاں نہ کر مجھے
آئینہ سکوت نہ رکھ سب کے روبرو
میں دل پہ نقش ہوں تو نمایاں نہ کر مجھے
یوسف نہیں ہوں مصر کے بازار میں نہ بیچ
میں تیرا انتخاب ہوں ارزاں نہ کر مجھے
کون ایسی بستیوں سے گزرتا ہے روز روز
میرے کرشمہ ساز‘ بیاباں نہ کر مجھے
میں برگ ریزِ ہجر میں زندہ نہ رہ سکوں
اتنا امیدوارِ بہاراں نہ کر مجھے
عرفان صدیقی

وہی چہرے تھے مرے دیدہ حیراں والے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 276
رات پھر جمع ہوئے شہر گریزاں والے
وہی چہرے تھے مرے دیدہ حیراں والے
سارے آشفتہ سراں اُن کے تعاقب میں رواں
وحشتیں کرتے ہوئے چشم غزالاں والے
چاند تاروں کی رداؤں میں چھپائے ہوئے جسم
اور انداز وہی خنجر عریاں والے
پاسداروں کا سرا پردۂ دولت پہ ہجوم
سلسلے چھت کی فصیلوں پہ چراغاں والے
نارسائی پہ بھی وہ لوگ سمجھتے تھے کہ ہم
شہر بلقیس میں ہیں ملک سلیماں والے
پھر کچھ اس طرح پڑے حلقہ زنجیر میں پاؤں
سب جنوں بھول گئے دشت و بیاباں والے
میں بھی اک شام ملاقات کا مارا ہوا ہوں
مجھ سے کیا پوچھتے ہیں وادئ ہجراں والے
اَب اُنہیں ڈُھونڈ رہا ہوں جو صدا دیتے تھے
’’اِدھر آبے ابے او چاک گریباں والے‘‘
عرفان صدیقی

شانہ ہو کوئی دیدۂ گریاں کے لئے بھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 231
آجا کبھی ہم گوشہ نشیناں کے لئے بھی
شانہ ہو کوئی دیدۂ گریاں کے لئے بھی
کیا سیر ہے جاناں یہ ترا پیرہنِ تنگ
تن چاہیے پیراہنِ جاناں کے لئے بھی
یہ جوئے تنک آب ہمیں راس نہ آجائے
موقع ہے ابھی ابرِ گریزاں کے لئے بھی
سب صرف نہ کر موسمِ گل پر دلِ ناداں
کچھ گرمیِ جاں شامِ زمستاں کے لئے بھی
شہروں سے نکل کر ترے دیوانے کہاں جائیں
کم پڑنے لگے دشت غزالاں کے لئے بھی
اب یوں ہے کہ ہنگامۂ محفل میں ہیں خاموش
مشہور تھے جو ہوُئے بیاباں کے لئے بھی
عرفان صدیقی

کوئی دلچسپی، کوئی ربطِ دل و جاں جاناں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 266
صحبتِ قوسِ قزح کا کوئی امکاں جاناں
کوئی دلچسپی، کوئی ربطِ دل و جاں جاناں
میرے اندازِ ملاقات پہ ناراض نہ ہو
مجھ پہ گزرا ہے ابھی موسمِ ہجراں جاناں
جو مرے نام کو دنیا میں لیے پھرتے ہیں
تیری بخشش ہیں یہ اوراقِ پریشاں جاناں
آ مرے درد کے پہلو میں دھڑک کہ مجھ میں
بجھتی جاتی ہے تری یادِ فروزاں جاناں
تیری کھڑکی کہ کئی دن سے مقفل مجھ پر
جیسے کھلتا نہیں دروازئہ زنداں جاناں
تیری گلیاں ہیں ترا شہر ہے تیرا کوچہ
میں ، مرے ساتھ ترا وعدہ و پیماں جاناں
پھر کوئی نظم لٹکتی ہے ترے کعبہ پر
پھر مرے صبر کی بے چارگی عنواں جاناں
ہجر کا ایک تعلق ہے اسے رہنے دے
میرے پہلو میں تری یاد ہراساں جاناں
ہم فرشتوں کی طرح گھر میں نہیں رہ سکتے
ہاں ضروری ہے بہت رشتہء انساں جاناں
زخم آیا تھا کسی اور کی جانب سے مگر
میں نے جو غور کیا تیرا تھا احساں جاناں
اس تعلق میں کئی موڑ بڑے نازک ہیں
اور ہم دونوں ابھی تھوڑے سے ناداں جاناں
دشت میں بھی مجھے خوشبو سے معطر رکھے
دائم آباد رہے تیرا گلستاں جاناں
ویسا الماری میں لٹکا ہے عروسی ملبوس
بس اسی طرح پڑا ہے ترا ساماں جاناں
مجھ کو غالب نے کہا رات فلک سے آ کر
تم بھی تصویر کے پردے میں ہو عریاں جاناں
وہ جو رُوٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے ہیں
بس وہی شعرِ فراز اپنا دبستاں جاناں
روشنی دل کی پہنچ پائی نہ گھر تک تیرے
میں نے پلکوں پہ کیا کتنا چراغاں جاناں
کیا کہوں ہجر کہاں وصل کہاں ہے مجھ میں
ایک جیسے ہیں یہاں شہر و بیاباں جاناں
چھت پہ چڑھ کے میں تمہیں دیکھ لیا کرتا تھا
تم نظر آتی تھی بچپن سے نمایاں جاناں
اک ذرا ٹھہر کہ منظر کو گرفتار کروں
کیمرہ لائے ابھی دیدئہ حیراں جاناں
مانگ کر لائے ہیں آنسو مری چشمِ نم سے
یہ جو بادل ہیں ترے شہر کے مہماں جاناں
لڑکیاں فین ہیں میری انہیں دشنام نہ دے
تتلیاں پھول سے کیسے ہوں گریزاں جاناں
آگ سے لختِ جگر اترے ہیں تازہ تازہ
خانہء دل میں ہے پھر دعوتِ مژگاں جاناں
زخم در زخم لگیں دل کی نمائش گاہیں
اور ہر ہاتھ میں ہے ایک نمکداں جاناں
تھم نہیں سکتے بجز تیرے کرم کے، مجھ میں
کروٹیں لیتے ہوئے درد کے طوفاں جاناں
بلب جلتے رہیں نیلاہٹیں پھیلاتے ہوئے
میرے کمرے میں رہے تیرا شبستاں جاناں
رات ہوتے ہی اترتا ہے نظر پر میری
تیری کھڑکی سے کوئی مہرِ درخشاں جاناں
تُو کہیں بستر کمخواب پہ لیٹی ہو گی
پھر رہا ہوں میں کہیں چاک گریباں جاناں
نذرِ احمد فراز
منصور آفاق

پھر بھی ہم ملنے کے ارماں میں رہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 258
وہ رگ دل میں رگ جاں میں رہے
پھر بھی ہم ملنے کے ارماں میں رہے
نیند کانٹوں پہ بھی آ جاتی ہے
گھر کہاں تھا کہ بیاباں میں رہے
رنگ دنیا پہ نظر رکھتے تھے
عمر بھر دیدۂ حیراں میں رہے
بُعد اتنا کہ تصور بھی محال
قرب ایسا کہ رگ جاں میں رہے
عمر بھر نور سحر کو ترسے
دو گھڑی تیرے شبستاں میں رہے
قافلے صبح کے گزرے ہوں گے
ہم خیال شب ہجراں میں رہے
کس قیامت کی تپش ہے باقیؔ
کون میرے دل سوزاں میں رہے
باقی صدیقی