ٹیگ کے محفوظات: بہی

یہ ندی بعد مدت کچھ بہی تو

کہانی آنسوؤں نے کچھ کہی تو
یہ ندی بعد مدت کچھ بہی تو
کہا ہم نے کہ ہو تم بے مروت
کہا ہم بے مروت ہی سہی تو
تری ہی نذر کرنے کو ہے یہ جاں
اگر اغیار سے کچھ بچ رہی تو
ہمیں محفوظ کر رکھا ہے جس نے
یہی دیوار جب سر پر ڈہی تو
تمہاری بات سے میں متفق ہوں
ابھی میں کہہ رہا تھا کچھ یہی تو
جہالت ہی سے بچ جاؤ تو جانیں
بہت مشکل ہے باصرِؔ آگہی تو
باصر کاظمی

لکھتا ہوں تو پھرے ہے کتابت بہی بہی

دیوان پنجم غزل 1732
کیا خط لکھوں میں رونے سے فرصت نہیں رہی
لکھتا ہوں تو پھرے ہے کتابت بہی بہی
میدان غم میں قتل ہوئی آرزوے وصل
تھی اپنے خاندان تمنا میں اک یہی
اپنا لکھا ہے یاد مجھے میری بات بھول
قاصد نے جا کے یار سے کچھ اور ہی کہی
شب شور کرنے میں جو سماجت کی تنگ ہو
کہنے لگا کہ مارو اسے یہ تو ہے وہی
مت بہ نمک حرام تو داغوں سے ساز کر
اے زخم کہنہ میر کی خاطر ہی یوں سہی
میر تقی میر

پر یہ کہا نہ ظالم اس کی نہیں سہی ہے

دیوان سوم غزل 1282
صدگونہ عاشقی میں ہم نے جفا سہی ہے
پر یہ کہا نہ ظالم اس کی نہیں سہی ہے
کرتی پھری ہے رسوا سارے چمن میں مجھ کو
گر کوئی بات دل کی بلبل سے میں کہی ہے
ہے صبح کا سا عرصہ پیری کا اس میں کیا ہو
باقی ہے وقت کتنا فرصت کہاں رہی ہے
درویش جب ہوئے ہم تب ہے ہمیں برابر
کشکول بازگوں ہے یا افسرشہی ہے
جیتے رہے بہت ہم جو یہ ستم اٹھائے
عمر دراز کی سب تقصیر و کوتہی ہے
رونے میں متصل ہے ہونٹوں پہ آہ میری
جاتا نہیں ہے سمجھا یہ بائو کیا بہی ہے
آزار عاشقی میں کاہے کی پھر توقع
ہوجائے یاس جس سے سو رنج یہ وہی ہے
روتا ہمیں نظر کر رہنا کیے کنارہ
چڑھنا ہمارے منھ پہ دریا کی بے تہی ہے
چلاہٹ اس طرح کی جز میر کس سے ہووے
باور نہ ہو تو دیکھو یہ ہو نہ ہو وہی ہے
میر تقی میر

یہ موج تو تہہِ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 52
جو دِل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی
یہ موج تو تہہِ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی
جھکیں جو سوچتی پلکیں تو میری دنیا کو
ڈبو گئی وہ ندی جو ابھی بہی بھی نہ تھی
سنی جو بات کوئی ان سنی تو یاد آیا
وہ دِل کہ جس کی کہانی کبھی کہی بھی نہ تھی
نگر نگر وہی آنکھیں، پس زماں، پسِ در
مری خطا کی سزا عمرِ گمرہی بھی نہ تھی
کسی کی روح تک اک فاصلہ خیال کا تھا
کبھی کبھی تو یہ دوری رہی سہی بھی نہ تھی
نشے کی رو میں یہ جھلکا ہے کیوں نشے کا شعور
اس آگ میں تو کوئی آبِ آگہی بھی نہ تھی
غموں کی راکھ سے امجد وہ غم طلوع ہوئے
جنھیں نصیب اک آہِ سحرگہی بھی نہ تھی
مجید امجد

ہے یاد مجھے رنگوں بھری سات مئی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 482
اک شخص نے ہونٹوں سے کوئی نظم کہی تھی
ہے یاد مجھے رنگوں بھری سات مئی تھی
میں انگلیاں بالوں میں یونہی پھیر رہا تھا
وہ کمرے کی کھڑکی سے مجھے دیکھ رہی تھی
اس شخص کے گھر وہی حالت تھی مگر اب
بِڈ روم کی دیوار پہ تصور نئی تھی
آئی ہے پلٹ کر کئی صدیوں کے سفر سے
اس گیٹ کے اندر جو ابھی کار گئی تھی
موسم کے تغیر نے لکھا مرثیہ اس کا
منصور ندی مل کے جو دریا سے بہی تھی
منصور آفاق