ٹیگ کے محفوظات: بہیں

پھوٹی سہتے ہیں آنجی سہتے نہیں

دیوان ششم غزل 1843
ایسے دیکھے ہیں اندھے لوگ کہیں
پھوٹی سہتے ہیں آنجی سہتے نہیں
مر گئے ناامید ہم مہجور
خواہشیں جی کی اپنے جی میں رہیں
دیر دریا کنارہ کرتا رہا
عشق میں آنکھیں اپنی زور بہیں
مرتے تھے اس گلی میں لاکھوں جہاں
ہم بھی مارے گئے ندان وہیں
دیر سے میر اٹھ کے کعبے گئے
کہیے کیا نکلے جا کہیں کے کہیں
میر تقی میر

پھر جو دیکھا تو کچھ نہیں پیارے

دیوان دوم غزل 969
سیر کی ہم نے ہر کہیں پیارے
پھر جو دیکھا تو کچھ نہیں پیارے
خشک سال وفا میں اک مدت
پلکیں لوہو میں تر رہیں پیارے
یک نظر دیکھنے کی حسرت میں
آنکھیں تو پانی ہو بہیں پیارے
پہنچی ہے ضعف سے یہ اب حالت
جہاں پہنچا رہا وہیں پیارے
تجھ گلی میں رہے ہے میر مگر
دیکھیں ہیں جب نہ تب نہیں پیارے
میر تقی میر