ٹیگ کے محفوظات: بہو

اَب آرزو ہی نہیں ہے تَو جُستجو بھی نہیں

نہ وہ چمن نہ چَلَن ہے سو رنگ و بُو بھی نہیں
اَب آرزو ہی نہیں ہے تَو جُستجو بھی نہیں
سُرود و ساز و مُغَنّی کو ڈھونڈنے نکلوں
مِرا مِزاج نہیں ہے یہ میری خُو بھی نہیں
یہ کہہ کے آخری خواہش کو کر دیا رُخصَت
کہ آج سے میں اَکیلا رَہوں گا تُو بھی نہیں
مَزہ ہے زیست کا جب تک کہ روح ہے سَرشار
اَگر نہیں ہے تَو پھر لُطفِ ہاؤ ہُو بھی نہیں
نہیں تھے تُم تَو نَظَر ہو چلی تھی آوارہ
تُم آگئے تَو اِسے شوقِ کُو بہ کُو بھی نہیں
زَمانے تُجھ سے مِرے زَخم مُختلِف کیوں ہیں
مشابہَت بھی نہیں کوئی ہُو بَہُو بھی نہیں
یہ میں ہُوں یا ہے کوئی مُجھ میں اَجنَبی ضامنؔ
جو خُود سے رہتی تھی اَب تَو وہ گُفتگُو بھی نہیں
ضامن جعفری

دریدہ دامن و آشفتہ مو ہماری طرح

احمد فراز ۔ غزل نمبر 35
پھرے گا تو بھی یونہی کو بکو ہماری طرح
دریدہ دامن و آشفتہ مو ہماری طرح
کبھی تو سنگ سے پھوٹے گی آبجو غم کی
کبھی تو ٹوٹ کے روئے گا تو ہماری طرح
پلٹ کے تجھ کو بھی آنا ہے اس طرف لیکن
لٹا کے قافلۂ رنگ و بو ہماری طرح
یہ کیا کہ اہل ہوس بھی سجائے پھرتے ہیں
دلوں پہ داغ جبیں پر لہو ہماری طرح
وہ لاکھ دشمن جاں ہو مگر خدا نہ کرے
کہ اس کا حال بھی ہو ہُو بہو ہماری طرح
ہمی فراز سزاوار سنگ کیوں ٹھرے
کہ اور بھی تو ہیں دیوانہ خو ہماری طرح
احمد فراز