ٹیگ کے محفوظات: بہلتا

کون اس راستے سے گزرا ہے؟

پتا پتا شجر سے لپٹا ہے
کون اس راستے سے گزرا ہے؟
آسماں بھی سراب ہی نکلا
بحر میں آب ہے کہ صحرا ہے
جانے کب اندمال ہو اس کا
دیکھنے میں تو زخم گہرا ہے
کوئی تو ہے جو کائنات مری
بےسبب روز و شب گھماتا ہے
دل کی نیّا میں جو لگی ہے آگ
اچھی لگتی ہے، کیوں بجھاتا ہے؟
میں نہ دیکھوں تو ہے ادھورا سا
وہ فلک پر جو ایک تارا ہے
کوئی دستک سنائی دی ہے مجھے
دیکھنا کون در پہ آیا ہے
اس طرح اضطرار سے آخر
کون میرے سوا بہلتا ہے؟
لا کے چھوڑیں گی ہی بہار یہاں
شور چڑیوں نے یوں مچایا ہے
مٹ نہ پائیں گی اس کی ریکھائیں
اس طرح کاہے، ہاتھ مَلتا ہے؟
خواب میں روز آ کے اک پنچھی
رات پچھلے پہر جگاتا ہے
یاد کی گلیوں میں کوئی راہی
کبھی گرتا، کبھی سنبھلتا ہے
آسماں کے توے پہ اک سورج
روز آتا ہے روز جلتا ہے
چاند جوبن پہ جب بھی آ جائے
ناؤ میری ہی کیوں ڈبوتا ہے؟
وقت ہے اژدھا کوئی شاید
کینچلی روز اک بدلتا ہے
صبح دم ٹہنیوں پہ شبنم کے
روز موتی کوئی پروتا ہے
روز جب آفتاب ڈھل جائے
دل مرا جانے کیوں مچلتا ہے
میں نے جو سوچا، جو کہا، ہے برا
تم نے جو بھی کہا وہ اچھا ہے
پیڑ وہ ہی رہے ہرا ہر دم
روز جو دھوپ میں جھلستا ہے
بھر لو آنکھوں میں اب افق یاؔور
اس سے آگے تو بس اندھیرا ہے
یاور ماجد

نیند میں ساری رات چلتا رہا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 27
چاند میری طرح پگھلتا رہا
نیند میں ساری رات چلتا رہا
جانے کس دُکھ سے دل گرفتہ تھا
مُنہ پہ بادل کی راکھ ملتا رہا
میں تو پاؤں کے کانٹے چُنتی رہی
اور وہ راستہ بدلتا رہا
رات گلیوں میں جب بھٹکتی تھی
کوئی تو تھا جو ساتھ چلتا رہا
موسمی بیل تھی مَیں ، سُوکھ گئی
وہ تناور درخت، پَھلتا رہا
سَرد رُت میں ، مُسافروں کے لیے
پیڑ ، بن کر الاؤ ، جلتا رہا
دل ، مرے تن کا پُھول سا بچّہ
پتّھروں کے نگر میں پلتا رہا
نیند ہی نیند میں کھلونے لیے
خواب ہی خواب میں بہلتا رہا
پروین شاکر

ہرچند چاہتا ہوں پر جی نہیں سنبھلتا

دیوان سوم غزل 1090
دل رات دن رہے ہے سینے میں عشق ملتا
ہرچند چاہتا ہوں پر جی نہیں سنبھلتا
اب تو بدن میں سارے اک پھنک رہی ہے آتش
وہ مہ گلے سے لگتا تو یوں جگر نہ جلتا
شب ماہ چاردہ تھا کس حسن سے نمایاں
ہوتا بڑا تماشا جو یار بھی نکلتا
اے رشک شمع گویا تو موم کا بنا ہے
مہتاب میں تجھی کو دیکھا ہے یوں پگھلتا
تکلیف باغ ہم کو یاروں نے کی وگرنہ
گل پھول سے کوئی دم اپنا بھی دل بہلتا
رونے کا جوش ویسا آنکھوں کو ہے بعینہ
جیسے ہو رود کوئی برسات میں ابلتا
کرتا ہے وے سلوک اب جس سے کہ جان جاوے
ہم میر یوں نہ مرتے اس پر جو دل نہ چلتا
میر تقی میر

واقعہ پردۂ ساعت سے نکلتا ہی نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 108
یہ جو ٹھہرا ہوا منظر ہے، بدلتا ہی نہیں
واقعہ پردۂ ساعت سے نکلتا ہی نہیں
آگ سے تیز کوئی چیز کہاں سے لاؤں
موم سے نرم ہے وہ اور پگھلتا ہی نہیں
یہ مری خمس حواسی کی تماشا گاہیں
تنگ ہیں ، ان میں مرا شوق بہلتا ہی نہیں
پیکرِ خاک ہیں اور خاک میں ہے ثقل بہت
جسم کا وزنِ طلب ہم سے سنبھلتا ہی نہیں
غالباً وقت مجھے چھوڑ گیا ہے پیچھے
یہ جو سکہ ہے میری جیب میں چلتا ہی نہیں
ہم پہ غزلیں بھی نمازوں کی طرح فرض ہوئیں
قرضِ ناخواستہ ایسا ہے کہ ٹلتا ہی نہیں
آفتاب اقبال شمیم

میں شہر چھوڑ بھی دیتا تو جی بہلتا کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 70
ہر ایک دشت میں گھر بن گئے، نکلتا کیا
میں شہر چھوڑ بھی دیتا تو جی بہلتا کیا
چراغ بام تھا اپنی بساط تھی معلوم
سو رائیگاں کسی طاق ابد میں جلتا کیا
مجھے زوال کا خطرہ نہ تھا کہ مہر سخن
ابھی طلوع ہوا ہی نہیں تو ڈھلتا کیا
عرفان صدیقی