ٹیگ کے محفوظات: بہلانے

جھونکے آگ بجھانے آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
ہم پہ کرم فرمانے آئے
جھونکے آگ بجھانے آئے
ہمیں پرانا ٹھہرانے کو
کیا کیا نئے زمانے آئے
خلق، وہ کارآمد بچّہ ہے
شاہ جسے بہلانے آئے
قیس کو جو ازبر تھا،ہم بھی
درس وہی دہرانے آئے
جنہیں بھُلاتے، خود کو بھُولے
لب پہ اُنہی کے، فسانے آئے
اپنی جگہ تھے جو بھی سہانے
دن پھر وہ نہ سہانے آئے
جن کو دیکھ کے تاپ چڑھے وہ
ماجد ہمیں منانے آئے
ماجد صدیقی

آسماں کیوں ٹوٹ کر نیچے نہیں آنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
دستِ شفقت کیوں بہ حقِ جور بن جانے لگا
آسماں کیوں ٹوٹ کر نیچے نہیں آنے لگا
کھیت جلنے پر بڑھا کر عمر، اپنے سود کی
کس طرح بنیا، کسانوں کو ہے بہلانے لگا
جانے کیا طغیانیاں کرنے لگیں گھیرے درست
گھونسلوں تک میں بھی جن کا خوف دہلانے لگا
خون کس نے خاک پر چھڑکا تھا جس کی یاد میں
اِک پھریرا سا فضاؤں میں ہے لہرانے لگا
مہد میں مٹی کے جھونکا برگِ گل کو ڈال کر
کس صفائی سے اُسے رہ رہ کے سہلانے لگا
ماجد صدیقی

ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں
ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں
نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ
جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں
غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر
لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں
دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر
بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں
وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں
جابر مجھ سے عہد نیا ٹھہرانے لگے ہیں
پیروں تلے مسل کے مری رائے کی پرچی
زور آور اپنا پرچم لہرانے لگے ہیں
چندا تو کیا گردشِ وقت کے ہاتھوں اب کے
چاند نگر تک بھی ماجد گہنانے لگے ہیں
ماجد صدیقی

دل بالک، من جائے گا بہلانے سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے
دل بالک، من جائے گا بہلانے سے
ٹھہرا ہے بہتان کہاں نام اچّھوں کے
اُجڑا ہے کب چاند بھلا گہنانے سے
راس جسے دارو نہ کوئی آیا اُس کے
روگ مٹیں گے، اب تعویذ پلانے سے
چیخ میں کیا کیا درد پروئے چُوزے نے
بھوکی چیل کے پنجوں میں آ جانے سے
اب تو خدشہ یہ ہے ہونٹ نہ جل جائیں
ماجدؔ دل کی بات زباں پر لانے سے
ماجد صدیقی

ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں
ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں
نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ
جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں
غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر
لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں
دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر
بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں
وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں
جابر مجھ سے عہد نیا ٹھہرانے لگے ہیں
پیروں تلے مسل کے مری رائے کی پرچی
زور آور اپنا پرچم لہرانے لگے ہیں
چندا تو کیا گردشِ وقت کے ہاتھوں اب کے
چاند نگر تک بھی ماجد گہنانے لگے ہیں
ماجد صدیقی

سینت کے رکھیں، اور اب خواب سہانے کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
دیکھ لئے ہیں، اپنے کیا بیگانے کیا
سینت کے رکھیں، اور اب خواب سہانے کیا
دیکھو آنکھ جما کر، مکر کے مکڑے نے
ہر سُو پھیلائے ہیں تانے بانے کیا
بادل کی یلغار سے، نام پہ رحمت کے
تنکا تنکا، ٹوٹ گرے کاشانے کیا
سوچو بھی، جلتی بگھیا کی آنچ لئے
جھونکے ہم کو آئے ہیں، بہلانے کیا
چڑیاں نگلیں گے، چوزوں پر جھپٹیں گے
شہ زوروں کے ماجدؔ اور نشانے کیا
ماجد صدیقی

آنچ کِن کِن منظروں کی آنکھ تک آنے لگی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
وحشتِ انسان کیا کیا رنگ دکھلانے لگی
آنچ کِن کِن منظروں کی آنکھ تک آنے لگی
دیکھئے اگلی رُتوں میں سرخروئی کو ہوا
کس طرح بے پیرہن شاخوں کو سہلانے لگی
کتنی چیزوں سے ہٹا کر، جانے ماں کی مامتا
دھیان بچّے کا، اُسے باتوں سے بہلانے لگی
لو بحقِ امن اپنی نغمگی کے زعم میں
فاختہ بھی دشتِ وحشت میں ہے اِترانے لگی
ظلمتِ شب کچھ بتا اُٹھی ہے کیسی چیخ سی
جبر کی ڈائن کِسے کّچا چبا جانے لگی
جھینپنا کیا، سچ اگر نکلی ہے، پّلے باندھ کر
وقت کی مریم، بھلا کاہے کو شرمانے لگی
دم بخود اتنا بھی ہو ماجدؔ نہ جلتی دُھوپ سے
آسماں پر دیکھ وُہ بدلی سی اک چھانے لگی
ماجد صدیقی

آئنوں میں جابجا اِک بال سا آنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
جانے کیسا واہمہ ہر دل کو دہلانے لگا
آئنوں میں جابجا اِک بال سا آنے لگا
اپنی اپنی سی فراغت ہر کسی کی ہے یہاں
مکھیوں کو پھانس کر مکڑا بھی سستانے لگا
دیکھنے میں فاختہ بھی تو کُچھ ایسی کم نہ تھی
باز ہی کیوں معتبر، جنگل میں کہلانے لگا
لا کے وڈیو سے کھلونے، کھیل یہ بھی دیکھئے
آج کا بچّہ ہے دادی جی کو بہلانے لگا
گھس گیا ابلیس سا اِک شخص ہر اِک شخص میں
کون ہے جو اَب کئے پر اپنے پچتانے لگا
جو بھی زور آور ہے ماجدؔ اُس کا خاصہ ہے یہی
دیکھ لے دریا کناروں کو ہے خود ڈھانے لگا
ماجد صدیقی

ایدھر دیکھو ہم نے نہیں کی خم ابرو مر جانے پر

دیوان پنجم غزل 1612
ٹیڑھی نگاہیں کیا کرتے ہو دم بھر کے یاں آنے پر
ایدھر دیکھو ہم نے نہیں کی خم ابرو مر جانے پر
زور ہوا ہے چل صوفی ٹک تو بھی رباط کہنہ سے
ابر قبلہ بڑھتا بڑھتا آیا ہے میخانے پر
گل کھائے بے تہ بلبل نے شور قیامت کا سا کیا
دیکھ چمن میں اس بن میرے چپکے جی بہلانے پر
سر نیچے کر لیتا تھا تلوار چلاتے ہم پر وے
ریجھ گئے خوں ریزی میں اپنی اس کے پھر شرمانے پر
گالی مار کے غم پر میں نے صبر کیا خاموش رہا
رحم نہ آیا ٹک ظالم کو اس میرے غم کھانے پر
نادیدہ ہیں نام خدا کے ایسے جیسے قحط زدہ
دوڑتی ہیں کیا آنکھیں اپنی سبحے کے دانے دانے پر
حال پریشاں سن مجنوں کا کیا جلتا ہے جی اپنا
عاشق ہم بھی میر رہے ہیں اس ڈھب کے دیوانے پر
میر تقی میر

کچھ دیر میں ہم مرجھانے کو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 174
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا
کچھ دیر میں ہم مرجھانے کو ہیں
کوئی آکے ہمیں زنجیر کرے
ہم رقصِ جنوں فرمانے کو ہیں
جو بادل بستی چھوڑ گئے
کسی بن پہ بھرن برسانے کو ہیں
اب جاؤ ہمارے دھیان سے تم
ہم پل بھر جی بہلانے کو ہیں
جس شہر سے اس نے کوچ کیا
ہم کون وہاں رہ جانے کو ہیں
دل کیسے ریت میں ڈوب گیا
آنکھیں تو دھوکا کھانے کو ہیں
اب ہونٹوں پر کوئی ہاتھ نہیں
ہم دل کی بات بتانے کو ہیں
عرفان صدیقی