ٹیگ کے محفوظات: بہزاد

دکھاتا ہے چلن صّیاد کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
ستم کرنے لگا ایجاد کیا کیا
دکھاتا ہے چلن صّیاد کیا کیا
فلک کی بے کراں پہنائیوں میں
بھٹکتی ہے مری فریاد کیا کیا
زمانہ باپ ہے شیریں کا جس نے
ہٹائے راہ سے فرہاد کیا کیا
کہا جب کچھ خلافِ طبع اُس کے
کِیا اُس نے بھی پھر ارشاد کیا کیا
مجھے تشنہ سمجھ کر، خستّوں پر
اُتر آئے ہیں ابر و باد کیا کیا
جھلکتے ہیں تِرے شعروں میں ماجدؔ
نجانے مانی و بہزاد کیا کیا
ماجد صدیقی

جس کے کندھوں پر ابھی تک بوجھ ہے اجداد کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
کیا ادا کر پائے گا وہ شخص حق اولاد کا
جس کے کندھوں پر ابھی تک بوجھ ہے اجداد کا
جاں سے جانے میں تو کچھ ایسی کسر باقی نہ تھی
اتفاقاً وار ہی اوچھا پڑا صّیاد کا
لٹ چکی شاخوں کے زیور اُن کو لوٹائے گا کون
لاکھ اب مونس سہی موسم یہ ابر و باد کا
رتبۂ پیغمبری سے ہو تو ہو اِس کا علاج
ورنہ مشکل ہے سِدھانا پیٹ سے شدّاد کا
آج کی اِک پل بھی کر لو گے جو پابندِ قلم
مرتبہ پاؤ گے ماجدؔ مانی و بہزادؔ کا
ماجد صدیقی

حسن اتنا سوچ لے دو بیکسوں کی یاد ہوں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 62
ہم خیالِ قیس ہوں ہم مشربِ فرہاد ہوں
حسن اتنا سوچ لے دو بیکسوں کی یاد ہوں
پاشکستہ، دل حزیں، شوریدہ سر، برباد ہوں
سر سے لے کر پاؤں تک فریاد ہی فریاد ہوں
حالِ گلشن کیا ہے اے نوواردِ کنجِ قفس
میں مدت سے اسیرِ خانۂ صیاد ہوں
خیریت سن لی گل و غنچے کی لیکن اے صبا
یاد ہیں مجھ کو تو سب میں بھی کسی کو یاد ہوں
تم سرِ محفل جو چھیڑو گے مجھے پچھتاؤ گے
جس کو سن سکتا نہیں کوئی میں وہ فریاد ہوں
تجھ سے میں واقف تو تھا گندم نما اوجَو فروش
فطرتاً کھانا پڑا دھکا کہ آدم زاد ہوں
گُلشنِ عالم میں اپنوں وے تو اچھے غیر ہیں
پھول ہیں بھولے، ہوئے کانٹوں کو لیکن یاد ہوں
قید میں صیاد کی پھر بھی ہیں نغمے رات دن
اس قدر پابندیوں پر کس قدر آزاد ہوں
بولنے کی دیر ہے میری ہر اک تصویر ہیں
میں زمانے کا ہوں مانی وقت کا بہزاد ہوں
صفحۂ ہستی سے کیا دنیا مٹائے گی مجھے
میں کوئے نقش و نگار مانی و بہزاد ہوں
فصلِ گل آنے کی کیا خوشیاں نشیمن جب نہ ہو
باغ کا مالک ہوں لیکن خانماں برباد ہوں
میں نے دانستہ چھپائے تھے ترے جور و ستم
تو نے یہ سمجھا کہ میں نا واقفِ فریاد ہوں
کیا پتہ پوچھو ہو میرا نام روشن ہے قمر
جس جگہ تاروں کی بستی ہے وہاں آباد ہوں
تم نے دیکھا تھا قمر کو بزم میں وقتِ سحر
جس کا منہ اترا ہوا تھا میں وہی ناشاد ہوں
قمر جلالوی

رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد

دیوان اول غزل 203
میرے سنگ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد
ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال
جان کے ساتھ ہے دل ناشاد
موند آنکھیں سفر عدم کا کر
بس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد
فکر تعمیر میں نہ رہ منعم
زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد
خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں
کس خرابے میں ہم ہوئے آباد
سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد
نہ سنوگے یہ نالہ و فریاد
لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم
خاک کس دل جلے کی دی برباد
بھولا جا ہے غم بتاں میں جی
غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد
تیرے قید قفس کا کیا شکوہ
نالے اپنے سے اپنے سے فریاد
ہر طرف ہیں اسیر ہم آواز
باغ ہے گھر ترا تو اے صیاد
ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیں
اپنی قید حیات سے آزاد
ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبح
جانا سو جاے اس کی ہے معتاد
نہیں صورت پذیر نقش اس کا
یوں ہی تصدیع کھینچے ہے بہزاد
خوب ہے خاک سے بزرگوں کی
چاہنا تو مرے تئیں امداد
پر مروت کہاں کی ہے اے میر
تو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد
نامرادی ہو جس پہ پروانہ
وہ جلاتا پھرے چراغ مراد
میر تقی میر