ٹیگ کے محفوظات: بہروں

نغموں کی خیرات نہ بانٹو، جنم جنم کے بہروں میں

خاموشی کے دُکھ جھیلو گے! ہنستے بولتے شہروں میں
نغموں کی خیرات نہ بانٹو، جنم جنم کے بہروں میں
میں تو بھٹکا ہُوا راہی ہوں ، اِن پر جانے کیا بیتی
پارے جیسی بے چینی ہے، آبِ رواں کی لہروں میں
کارِ جنوں پر ہنسنے والے! تیرے بس کا روگ نہیں
صحرا صحرا پیاسے پھرنا، تپتی ہوئی دوپہروں میں
عالمِ یاس میں جینا ممکن اور نہ مرنا آساں ہے
اس سے کڑوا زہر نہیں ہے، دنیا بھر کے زہروں میں
دَرد کے، حد سے بڑھنے تک ہے آنکھوں کی یہ شادابی
دیکھنا اِک دن خاک اُڑے گی اشکِ رواں کی نہروں میں
شکیب جلالی

اب کے برف بہت پگھلی ہے خیر مناؤ شہروں کی

تم بھی دیکھ رہے ہو صورت دریاؤں اور نہروں کی
اب کے برف بہت پگھلی ہے خیر مناؤ شہروں کی
جانے اِن میں سے کب کوئی اپنا کام دِکھا جائے
دل میں اک دکان لگی ہے رنگ برنگے زہروں کی
کوئی کام کی بات کرے تو ہم سو بار سنیں ورنہ
بہتر ہے بہرے بن جائیں اک نہ سنیں بے بہروں کی
آخر ہم کو بھی اک دن دریا میں اترنا ہے باصرؔ
سو اِن روزوں دیکھ رہے ہیں کیا صورت ہے لہروں کی
باصر کاظمی

شامل ہو جائیں اَب گنگوں بہروں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
لو یُوں بھی بن باس رچائیں شہروں میں
شامل ہو جائیں اَب گنگوں بہروں میں
کشتی اِک ملاّح کے رحم و کرم پر ہو
یہ بھی ہے اِک، قہر خُدا کے قہروں میں
اُن ہی میں اَب شور قیامت جیسا ہے
دھیمے نغمے بہتے تھے جن نہروں میں
اُن کا سورج اَب بھی سروں پہ ساکن ہے
گھر سے نکلے تھے جن زرد دوپہروں میں
درد میں ہے ماجدؔ بس اتنی تبدیلی
بڑھتا ہے تو بٹ جاتا ہے لہروں میں
ماجد صدیقی