ٹیگ کے محفوظات: بہرا

جو بھی کہیے صدا بہ صحرا ہے

دِل ہے کمزور زَخم گہرا ہے
جو بھی کہیے صدا بہ صحرا ہے
خُون بہتا ہے زَخم چیختے ہیں
کوئی اندھا ہے کوئی بہرا ہے
اِدھَر آجائیں جو بھی زندہ ہیں
یہ ہے اِلزام! یہ کٹہرا ہے!
کیسا اِنصاف اُور کہاں کا حَق
ان پہ جمہوریت کا پہرا ہے
چند دِن اَور صبر کر ضامنؔ
کوئی ٹھہرے گا اُور نہ ٹھہرا ہے
ضامن جعفری

گونگا بہرا خالی کمرا

خالی گھر کا خالی کمرا
گونگا بہرا خالی کمرا
زندانوں سے بھی بدتر ہے
تیرا میرا خالی کمرا
ایک عزیز بچا ہے میرا
وہ بھی تنہا خالی کمرا
تیری یاد نے چوما مجھ کو
جب بھی کھولا خالی کمرا
تم کو اکثر یاد آئے گا
باتیں کرتا خالی کمرا
مجھ سے لپٹا روہا گھنٹوں
آہیں بھرتا خالی کمرا
دونوں اک جیسے لگتے ہیں
میں اور میرا خالی کمرا
یار فلک! اک بات کہیں میں
خوب ہے تیرا خالی کمرا
افتخار فلک