ٹیگ کے محفوظات: بہتا

لو مَیں بھی جذبات کی رَو میں کہتا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
لو مَیں بھی ہر بات تمہی سی کہتا ہوں
لو مَیں بھی جذبات کی رَو میں کہتا ہوں
مجھ میں بھی ہے ایک سقم آئنوں سا
جو کچھ ہو محسوس وہی کچھ کہتا ہوں
سچ پوچھو تو پستی کا سر کرنا کیا
دریا بھی ہوں تو اُلٹے رُخ بہتا ہوں
ہوں محروم اِک ایک چلن سے دُنیا کے
ماجدؔ جانے میں کس جگ میں رہتا ہوں
ماجد صدیقی

تو نظر کے سامنے ہے یا نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 135
دل کسی صورت ٹھہر پاتا نہیں
تو نظر کے سامنے ہے یا نہیں
مٹ گیا ہے دل سے کیا تیرا خیال
اتنا دنیا کو کبھی چاہا نہیں
اس طرح محفل یہ ہے اس کی نظر
سب ہیں تنہا اور کوئی تنہا نہیں
سوچ کر کیا بات آ بیٹھے ہو تم
ان درختوں کا کوئی سایہ نہیں
دھوپ کا رُخ دیکھ کر چلتے ہیں لوگ
کوئی اپنے سامنے آتا نہیں
بات مظلوموں پہ آخر آئے گی
الٹے رُخ دریا کبھی بہتا نہیں
دیکھتا ہوں اس طرح ہر ایک کو
آدمی بھی آدمی گویا نہیں
یہ بھی تو پہلو ہے اک حالات کا
لوگ جو کہتے ہیں وہ ہوتا نہیں
آج باقیؔ کیا ہوا کو ہو گیا
دور تک پتا کوئی ہلتا نہیں
باقی صدیقی

کوئی تیرا ذکر چھیڑے اور میں سنتا رہوں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 106
میں ہر اک محفل میں اس امید پر بیٹھا رہوں
کوئی تیرا ذکر چھیڑے اور میں سنتا رہوں
دھوپ کی صورت مرے ہمراہ تو چلتا رہے
سائے کی مانند میں گھٹتا رہوں بڑھتا رہوں
ایک طوفاں کی طرح تو مجھ سے ٹکراتا رہے
اور ساحل کی طرح کٹ کٹ کے میں گرتا رہوں
تو لہو کی طرح میرے جسم میں گردش کرے
سانس کی مانند میں آتا رہوں جاتا رہوں
دشت دل سے تو صبا بن کے اگر گزرے تومیں
قطرہ بن کے نوک خار زیست پر ٹھہرا رہوں
دائرے آب رواں کے ٹوٹتے بنتے رہیں
اور اپنی شکل میں بیٹھا ہوا تکتا رہوں
زندگی کے مرحلے دنیا کی خاطر طے کروں
اور محبت کے لئے میں عمر بھر پیاسا رہوں
کر دیا ہے کام کیسا تو نے یہ میرے سپرد
رات بھر آوارہ قدموں کی صدا سنتا رہوں
میری حسرت کا تقاضا ہے کہ تیری آرزو
موسم گل میں شکستہ شاخ پر بیٹھا رہوں
زندگی دو حادثوں کے درمیاں اک حادثہ
میں کہاں تک حادثوں کے درمیاں بیٹھا رہوں
زندہ رہنے کا تو باقیؔ یہ بھی اک انداز ہے
بیٹھ کر غیروں میں اپنے آپ پر ہنستا رہوں
باقی صدیقی