ٹیگ کے محفوظات: بہا

اے مرے رہ نما! پِلا پانی

آج تو زہر بھی لگا پانی
اے مرے رہ نما! پِلا پانی
گھر کے دالان سے گزرتے ہوئے
عکس اپنا گِرا گیا پانی
اب مرے چار سُو پرندے ہیں
آنکھ سے اِس قدر بہا پانی
جب کسی پیڑ نے دُہائی دی
دشت نے چیخ کر کہا، پانی!
ہاں مری آخری ضرورت ہے
ٹھنڈا، میٹھا، ہرا بھرا پانی
اب کوئی معجزہ نہیں ہو گا
کرتبی! شوق سے بنا پانی
خیمۂ تشنگی میں بچّوں کو
دور سے دیکھتا رہا، پانی
افتخار فلک

یہ کیا ہُوا کہ بجز اشک نم ہَوا میں نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
کوئی نشانِ سکوں آنکھ کی فضا میں نہیں
یہ کیا ہُوا کہ بجز اشک نم ہَوا میں نہیں
لگاؤں چوٹ نہ کیوں میں بھی چوٹ کے بدلے
قصاص میں جو مزہ ہے وہ خوں بہا میں نہیں
رگوں میں دوڑتے خوں تک سے بدگمان ہیں ہم
مراد یہ کہ یقیں قربتِ خدا میں نہیں
نمو شجر کی نہ ڈھونڈو برستے ژالوں میں
کہ مسئلے کا جو حل ہے فقط سزا میں نہیں
ترے سخن میں چبھن جس طرح کی ہے ماجد
کسک یہ اور کسی بھی غزل سرا میں نہیں
ماجد صدیقی

جب بھی دیکھا ہے پیڑوں کے تن پر دریدہ قبا اور تھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
ہم بہاروں کے طالب تھے لیکن رُتوں کی رضا اور تھی
جب بھی دیکھا ہے پیڑوں کے تن پر دریدہ قبا اور تھی
وُہ کہ جس کو تقاضا رہا ہم سے اظہارِ آزار کا
دل کو لائے زباں پر تو اُس انجمن کی فضا اور تھی
ہم تو ہر بات کو اُس کی، اخلاص کا رنگ دیتے رہے
ہم کو احساس ہی کب یہ تھا نیّتِ آشنااور تھی
اِس عجوبے کو ہم کیا کہیں جب چمن ہی قفس بن گیا
ساتھ لاتی تھی اپنے جو نزہت کبھی وہ صبا اور تھی
ساتھ لیکر جو چلتے تھے اوروں کو وہ رہنما اور تھے
کان میں گھولتی تھی جو رس ہمسری کا، صدااور تھی
سنگ دل تھے جو، اِس کو وُہی راکھ کا ڈھیر سمجھا کئے
دل کی ماجدؔ وگرنہ بہ ایں بے بسی بھی بہا اور تھی
ماجد صدیقی

خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے
خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے
انگوٹھہ منہ سے نکلا ہے تو بچّہ
نجانے چیخنے کیوں لگ پڑا ہے
کسی کو پھر نگل بیٹھا ہے شاید
سمندر جھاگ سی دینے لگا ہے
گماں یہ ہے کہ بسمل کے بدن میں
کسی گھاؤ کا مُنہ پھر کُھل گیا ہے
ہوئی ہر فاختہ ہم سے گریزاں
نشاں جب سے عقاب اپنا ہوا ہے
وُہ دیکھو جبر کی شدّت جتانے
کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے
بڑی مُدّت میں آ کر محتسب بھی
فقیہہِ شہر کے ہتّھے چڑھا ہے
لگے جیسے خطا ہر شخص اپنی
مِرے ہی نام لکھتا جا رہا ہے
بھُلا کر دشت کی غُّراہٹیں سب
ہرن پھر گھاٹ کی جانب چلا ہے
چلیں تو سیدھ میں بس ناک کی ہم
اِسی میں آپ کا، میرا بھلا ہے
دیانت کی ہمیں بھی تاب دے وُہ
شجر جس تاب سے پھُولا پھَلا ہے
بہلنے کو، یہ وُہ بستی ہے جس میں
بڑوں کے ہاتھ میں بھی جھنجھنا ہے
ملانے خاک میں، میری توقّع
کسی نے ہاتھ ٹھوڑی پر دھرا ہے
نہیں ہے سیج، دن بھی اُس کی خاطر
جو پہرہ دار شب بھر جاگتا ہے
کھِلے تو شاذ ہی مانندِ نرگس
لبوں پر جو بھی حرفِ مُدعّا ہے
نجانے ذکر چل نکلا ہے کس کا
قلم کاغذ تلک کو چُومتا ہے
اَب اُس سے قرب ہے اپنا کُچھ ایسا
بتاشا جیسے پانی میں گھُلا ہے
ہوئی ہے اُس سے وُہ لمس آشنائی
اُسے میں اور مجھے وُہ دیکھتا ہے
وُہ چاند اُترا ہوا ہے پانیوں میں
تعلّق اُس سے اپنا برملا ہے
نِکھر جاتی ہے جس سے رُوح تک بھی
تبسّم میں اُسی کے وُہ جِلا ہے
مَیں اُس سے لُطف کی حد پوچھتا ہوں
یہی کچُھ مجُھ سے وُہ بھی پُوچتھا ہے
بندھے ہوں پھُول رومالوں میں جیسے
مری ہر سانس میں وُہ یُوں رچا ہے
لگے ہے بدگماں مجھ سے خُدا بھی
وُہ بُت جس روز سے مجھ سے خفا ہے
جُدا ہو کر بھی ہوں اُس کے اثر میں
یہی تو قُرب کا اُس کے نشہ ہے
کہیں تارا بھی ٹوٹے تو نجانے
ہمارا خُون ہی کیوں کھولتا ہے
ہمارے رزق کا اِک ایک دانہ
تہِ سنگِ گراں جیسے دبا ہے
مِری چاروں طرف فریاد کرتی
مِری دھرتی کی بے دم مامتا ہے
رذالت بھی وراثت ہے اُسی کی
ہر اِک بچّہ کہاں یہ جانتا ہے
چھپا جو زہر تھا ذہنوں میں، اَب وُہ
جہاں دیکھو فضاؤں میں گھُلا ہے
اجارہ دار ہے ہر مرتبت کا
وُہی جو صاحبِ مکر و رِیا ہے
سِدھانے ہی سے پہنچا ہے یہاں تک
جو بندر ڈگڈگی پر ناچتا ہے
سحر ہونے کو شب جس کی، نہ آئے
اُفق سے تا اُفق وُہ جھٹپٹا ہے
نظر والوں پہ کیا کیا بھید کھولے
وُہ پتّا جو شجر پر ڈولتا ہے
وہاں کیا درسِ بیداری کوئی دے
جہاں ہر ذہن ہی میں بھُس بھرا ہے
ہوئی ہے دم بخود یُوں خلق جیسے
کوئی لاٹو زمیں پر سو گیا ہے
جہاں جانیں ہیں کچھ اِک گھونسلے میں
وہیں اِک ناگ بھی پھُنکارتا ہے
شجر پر شام کے، چڑیوں کا میلہ
صدا کی مشعلیں سُلگا رہا ہے
کوئی پہنچا نہ اَب تک پاٹنے کو
دلوں کے درمیاں جو فاصلہ ہے
نجانے رشک میں کس گلبدن کے
چمن سر تا بہ سر دہکا ہوا ہے
بہ نوکِ خار تُلتا ہے جو ہر دم
ہمارا فن وُہ قطرہ اوس کا ہے
یہی عنواں، یہی متنِ سفر ہے
بدن جو سنگِ خارا سے چِھلا ہے
نہیں پنیچوں کو جو راس آسکا وُہ
بُرا ہے، شہر بھر میں وُہ بُرا ہے
پنہ سُورج کی حّدت سے دلانے
دہانہ غار کا ہر دَم کھُلا ہے
جو زور آور ہے جنگل بھی اُسی کی
صدا سے گونجتا چنگھاڑتا ہے
نجانے ضَو زمیں کو بخش دے کیا
ستارہ سا جو پلکوں سے ڈھلا ہے
نہیں ہے کچھ نہاں تجھ سے خدایا!
سلوک ہم سے جو دُنیا نے کیا ہے
نجانے یہ ہُنر کیا ہے کہ مکڑا
جنم لیتے ہی دھاگے تانتا ہے
نہیں ہے شرطِ قحطِ آب ہی کچھ
بھنور خود عرصۂ کرب و بلا ہے
عدالت کو وُہی دامانِ قاتل
نہ دکھلاؤ کہ جو تازہ دُھلا ہے
گرانی درد کی سہنے کا حامل
وُہی اَب رہ گیا جو منچلا ہے
بہ عہدِ نو ہُوا سارا ہی کاذب
بزرگوں نے ہمیں جو کچھ کہا ہے
سُنو اُس کی سرِ دربار ہے جو
اُسی کا جو بھی فرماں ہے، بجا ہے
ہُوا ہے خودغرض یُوں جیسے انساں
ابھی اِس خاک پر آ کر بسا ہے
بتاؤ خلق کو ہر عیب اُس کا
یہی مقتول کا اَب خُوں بہا ہے
ہُوا ہے جو، ہُوا کیوں صید اُس کا
گرسنہ شیر کب یہ سوچتا ہے
بہم جذبات سوتیلے ہوں جس کو
کہے کس مُنہ سے وُہ کیسے پلا ہے
ملیں اجداد سے رسمیں ہی ایسی
شکنجہ ہر طرف جیسے کَسا ہے
جو خود کج رَو ہے کب یہ فرق رکھّے
روا کیا کچھ ہے اور کیا ناروا ہے
ذرا سی ضو میں جانے کون نکلے
اندھیرے میں جو خنجر گھونپتا ہے
سحر ہو، دوپہر ہو، شام ہو وُہ
کوئی بھی وقت ہو ہم پر کڑا ہے
جِسے کہتے ہیں ماجدؔ زندگانی
نجانے کس جنم کی یہ سزا ہے
کسی کا ہاتھ خنجر ہے تو کیا ہے
مرے بس میں تو بس دستِ دُعا ہے
جھڑا ہے شاخ سے پتّا ابھی جو
یہی کیا پیڑ کا دستِ دُعا ہے
اَب اُس چھت میں بھی، ہے جائے اماں جو
بہ ہر جا بال سا اک آ چلا ہے
وُہ خود ہر آن ہے نالوں کی زد میں
شجر کو جس زمیں کا آسرا ہے
نظر کیا ہم پہ کی تُو نے کرم کی
جِسے دیکھا وُہی ہم سے خفا ہے
بڑوں تک کو بنا دیتی ہے بونا
دلوں میں جو حسد جیسی وبا ہے
جو موزوں ہے شکاری کی طلب کو
اُسی جانب ہرن بھی دوڑتا ہے
گھِرے گا جور میں جب بھی تو ملزم
کہے گا جو، وُہی اُس کی رضا ہے
تلاشِ رزق میں نِکلا پرندہ
بہ نوکِ تیر دیکھو جا سجا ہے
کہے کیا حال کوئی اُس نگر کا
جہاں کُتّا ہی پابندِ وفا ہے
وُہ پھل کیا ہے بہ وصفِ سیر طبعی
جِسے دیکھے سے جی للچا رہا ہے
بظاہر بند ہیں سب در لبوں کے
دلوں میں حشر سا لیکن بپا ہے
جہاں رہتا ہے جلوہ عام اُس کا
بہ دشتِ دل بھی وُہ غارِ حرا ہے
نمائش کی جراحت سے نہ جائے
موادِ بد جو نس نس میں بھرا ہے
نہ پُوچھے گا، بکاؤ مغویہ سا
ہمیں کس کس ریا کا سامنا ہے
نجانے نیم شب کیا لینے، دینے
درِ ہمسایہ پیہم باجتا ہے
مہِ نو سا کنارِ بام رُک کر
وُہ رُخ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے
کرا کے ماں کو حج دُولہا عرب سے
ویزا کیوں ساس ہی کا بھیجتا ہے
لگے تازہ ہر اک ناظر کو کیا کیا
یہ چہرہ آنسوؤں سے جو دھُلا ہے
ہُوا جو حق سرا، اہلِ حشم نے
اُسی کا مُنہ جواہر سے بھرا ہے
بہن اَب بھی اُسے پہلا سا جانے
وُہ بھائی جو بیاہا جا چکا ہے
مسیحاؤں سے بھی شاید ہی جائے
چمن کو روگ اَب کے جو لگا ہے
ہمیں لگتا ہے کیوں نجمِ سحر سا
وُہ آنسو جو بہ چشمِ شب رُکا ہے
پھلوں نے پیڑ پر کرنا ہے سایہ
نجانے کس نے یہ قصّہ گھڑا ہے
اُترتے دیکھتا ہوں گُل بہ گُل وُہ
سخن جس میں خُدا خود بولتا ہے
بشارت ہے یہ فرعونوں تلک کو
درِ توبہ ہر اک لحظہ کھُلا ہے
نہیں مسجد میں کوئی اور ایسا
سرِ منبر ہے جو، اِک باصفا ہے
خُدا انسان کو بھی مان لوں مَیں
یہی شاید تقاضا وقت کا ہے
دیانت سے تقاضے وقت کے جو
نبھالے، وُہ یقینا دیوتا ہے
مداوا کیا ہمارے پیش و پس کا
جہاں ہر شخص دلدل میں پھنسا ہے
لگا وُہ گھُن یہاں بدنیّتی کا
جِسے اندر سے دیکھو کھوکھلا ہے
عناں مرکب کی جس کے ہاتھ میں ہے
وُہ جو کچھ بھی اُسے کہہ دے روا ہے
کشائش کو تو گرہیں اور بھی ہیں
نظر میں کیوں وُہی بندِ قبا ہے
بغیر دوستاں، سچ پُوچھئے تو
مزہ ہر بات ہی کا کرکرا ہے
بنا کر سیڑھیاں ہم جنس خُوں کی
وُہ دیکھو چاند پر انساں چلا ہے
پڑے چودہ طبق اُس کو اُٹھانے
قدم جس کا ذرا پیچھے پڑا ہے
مری کوتاہ دستی دیکھ کر وُہ
سمجھتا ہے وُہی جیسے خُدا ہے
تلاشِ رزق ہی میں چیونٹیوں سا
جِسے بھی دیکھئے ہر دم جُتا ہے
وُہی جانے کہ ہے حفظِ خودی کیا
علاقے میں جو دشمن کے گھِرا ہے
صبا منت کشِ تغئیرِ موسم
کلی کھِلنے کو مرہونِ صبا ہے
بصارت بھی نہ دی جس کو خُدا نے
اُسے روشن بدن کیوں دے دیا ہے
فنا کے بعد اور پہلے جنم سے
جدھر دیکھو بس اِک جیسی خلا ہے
ثمر شاخوں سے نُچ کر بے بسی میں
کن انگاروں پہ دیکھو جا پڑا ہے
یہاں جس کا بھی پس منظر نہیں کچھ
اُسے جینے کا حق کس نے دیا ہے
کوئی محتاج ہے اپنی نمو کا
کوئی تشنہ اُسی کے خُون کا ہے
وطن سے دُور ہیں گو مرد گھر کے
بحمداﷲ گھر تو بن گیا ہے
ٹلے خوں تک نہ اپنا بیچنے سے
کہو ماجدؔ یہ انساں کیا بلا ہے
ماجد صدیقی

سحر نما ہے مجھے جو بھی کچھ کہا ہے مرا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
ہر ایک حرفِ غزل حرفِ مدّعا ہے مرا
سحر نما ہے مجھے جو بھی کچھ کہا ہے مرا
جو بعدِ قتل مرے، خوش ہے تُو، تو کیا کہنے
ترے لبوں کا تبسّم ہی خوں بہا ہے مرا
مرے سوال سے تیرا بھرم نہ کُھل جائے
ترے حضور بھی اب ہاتھ تو اُٹھا ہے مرا
بھلائی جب مرے ہاتھوں نہیں مرے حق میں
کہو گے جو بھی اُسی بات میں برا ہے مرا
کہیں تو خاک بسر ہوں،کہیں ہوں ماہ بدست
بڑا عجیب طلب کا یہ سلسلہ ہے مرا
ماجد صدیقی

میں کہاں ہوں مجھے اِتنا ہی بتا دے کوئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
دشتِ خواہش میں کہیں سے تو صدا دے کوئی
میں کہاں ہوں مجھے اِتنا ہی بتا دے کوئی
دل میں جو کچھ ہے زباں تک نہ وہ آنے پائے
کاش ہونٹوں پہ مرے مُہر لگا دے کوئی
فصل ساری ہے تمنّاؤں کی یک جا میری
میرا کھلیان نہ بے درد جلا دے کوئی
وہ تو ہو گا، جو مرے ذمّے ہے، مجھ کو چاہے
وقت سے پہلے ہی دریا میں بہا دے کوئی
میں بتاؤں گا گئی رُت نے کیا ہے کیا کیا
میرے چہرے سے جمی گرد ہٹا دے کوئی
موسمِ گل نہ سہی، بادِ نم آلود سہی
شاخِ عریاں کو دلاسہ تو دلا دے کوئی
ہے پس و پیش جو اپنا یہ مقّدر ماجدؔ
آخری تیر بھی ترکش سے چلا دے کوئی
ماجد صدیقی

اَب اپنے آپ کو یوں عُمر بھر سزا دوں گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
یہ ٹھان لی ہے کہ دل سے تجھے بھُلا دوں گا
اَب اپنے آپ کو یوں عُمر بھر سزا دوں گا
ہُوا یہ سایۂ ابلق بھی اَب جو نذرِ خزاں
تو راہ چلتے مسافر کو اور کیا دوں گا
سموم عام کروں گا اِسی کے ذرّوں سے
فضائے دہر کو اَب پیرہن نیا دوں گا
وہ کیا ادا ہے مجھے جس کی بھینٹ چڑھنا ہے
یہ فیصلہ بھی کسی روز اَب سُنا دوں گا
سزا سُناؤ تو اِس جُرم زیست کی مُجھ کو
صلیبِ درد کی بُنیاد تک ہلا دوں گا
ہر ایک شخص کا حق کچھ نہ کچھ ہے مجھ پہ ضرور
میں اپنے قتل کا کس کس کو خوں بہا دوں گا
جو سانس ہے تو یہی آس ہے کہ اب ماجدؔ
شبِ سیاہ کو بھی رُوپ چاند سا دوں گا
ماجد صدیقی

مہک اُداسی ہے، بادِ صبا اُداسی ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 97
عجب ہے رنگِ چمن، جا بجا اُداسی ہے
مہک اُداسی ہے، بادِ صبا اُداسی ہے
نہیں نہیں، یہ بھلا کس نے کہہ دیا تم سے؟
میں ٹھیک ٹھاک ہوں، ہاں بس ذرا اُداسی ہے
میں مبتلا کبھی ہوتا نہیں اُداسی میں
میں وہ ہوں جس میں کہ خود مبتلا اُداسی ہے
طبیب نے کوئی تفصیل تو بتائی نہیں
بہت جو پوچھا تو اتنا کہا، اُداسی ہے
گدازِ قلب خوشی سے بھلا کسی کو ملا؟
عظیم وصف ہی انسان کا اُداسی ہے
شدید درد کی رو ہے رواں رگِ جاں میں
بلا کا رنج ہے، بے انتہا اُداسی ہے
فراق میں بھی اُداسی بڑے کمال کی تھی
پسِ وصال تو اُس سے سِوا اُداسی ہے
تمہیں ملے جو خزانے، تمہیں مبارک ہوں
مری کمائی تو یہ بے بہا اُداسی ہے
چھپا رہی ہو مگر چھپ نہیں رہی مری جاں
جھلک رہی ہے جو زیرِ قبا اُداسی ہے
مجھے مسائلِ کون و مکاں سے کیا مطلب
مرا تو سب سے بڑا مسئلہ اُداسی ہے
فلک ہے سر پہ اُداسی کی طرح پھیلا ہُوا
زمیں نہیں ہے مرے زیرِ پا، اُداسی ہے
غزل کے بھیس میں آئی ہے آج محرمِ درد
سخن کی اوڑھے ہوئے ہے ردا، اُداسی ہے
عجیب طرح کی حالت ہے میری بے احوال
عجیب طرح کی بے ماجرا اُداسی ہے
وہ کیفِ ہجر میں اب غالباً شریک نہیں
کئی دنوں سے بہت بے مزا اُداسی ہے
وہ کہہ رہے تھے کہ شاعر غضب کا ہے عرفان
ہر ایک شعر میں کیا غم ہے، کیا اُداسی ہے
عرفان ستار

مجھے بدن سے نکالو، میں تنگ آ گیا ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 29
یہ کیسے ملبے کے نیچے دبا دیا گیا ہوں
مجھے بدن سے نکالو، میں تنگ آ گیا ہوں
کسے دماغ ہے بے فیض صحبتوں کا میاں
خبر اڑا دو کہ میں شہر سے چلا گیا ہوں
مآلِ عشقِ اناگیر ہے یہ مختصراً
میں وہ درندہ ہوں جو خود کو ہی چبا گیا ہوں
کوئی گھڑی ہے کہ ہوتا ہوں آستین میں دفن
میں دل سے بہتا ہوا آنکھ تک تو آ گیا ہوں
مرا تھا مرکزی کردار اس کہانی میں
بڑے سلیقے سے بے ماجرا کیا گیا ہوں
وہ مجھ کو دیکھ رہا ہے عجب تحیّر سے
نجانے جھونک میں کیا کچھ اُسے بتا گیا ہوں
مجھے بھلا نہ سکے گی یہ رہگزارِ جنوں
قدم جما نہ سکا، رنگ تو جما گیا ہوں
سب اہتمام سے پہنچے ہیں اُس کی بزم میں آج
میں اپنے حال میں سرمست و مبتلا گیا ہوں
مرے کہے سے مرے گرد و پیش کچھ بھی نہیں
سو جو دکھایا گیا ہے وہ دیکھتا گیا ہوں
اُسے بتایا نہیں ہجر میں جو حال ہُوا
جو بات سب سے ضروری تھی وہ چھپا گیا ہوں
غزل میں کھینچ کے رکھ دی ہے اپنی جاں عرفان
ہر ایک شعر میں دل کا لہو بہا گیا ہوں
عرفان ستار

زباں سے کچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 13
مرا خاموش رہ کر بھی انھیں سب کچھ سنا دینا
زباں سے کچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا
نشیمن ہو نہ ہو یہ تو فلک کا مشغلہ ٹھہرا
کہ دو تنکے جہاں پر دیکھنا بجلی گرا دینا
میں اس حالت سے پہنچا حشر والے خود پکار اٹھے
کوئی فریاد والا آ رہا ہے راستہ دینا
اجازت ہو تو کہہ دوں قصۂ الفت سرِ محفل
مگر پہلے خطا پر غور کر لو پھر سزا دینا
ہٹا کر رخ سے گیسو صبح کر دینا تو ممکن ہے
مگر سرکار کے بس میں نہیں تارے چھپا دینا
یہ تہذیبِ چمن بدلی ہے بیرونی ہواؤں نے
گریباں چاک پھولوں پر کلی کا مسکرا دینا
قمر وہ سب سے چھپ کر آ رہے ہیں فاتحہ پڑھنے
کہوں کس سے کہ میری شمع تربت اب بجھا دینا
قمر جلالوی

جو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 35
جفا و جور کا اس سے گلہ کیا
جو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیا
وہ بے پروا جوابِ نامہ لکھے
خدا جانے کہ دشمن نے لکھا کیا
دیا کیوں ہونے اس بد خو پہ عاشق
ہمارا دوست کوئی بھی نہ تھا کیا
شمیمِ گل میں بوئے پیرہن ہے
غلط ہے یہ کہ احسانِ صبا کیا
نہ لکھنا تھا غمِ ناکامیِ عشق
جوابِ نامۂ بے مدعا کیا
ہمیں تھا آپ قصدِ عرضِ احوال
جو وہ خود پوچھتے ہیں پوچھنا کیا
تماشا ہے جلے گر خانۂ غیر
وہ کہتے ہیں کہ آہِ شعلہ زا کیا
فنائے عاشقاں عینِ بقا ہے
دیت زندوں کی کیسی، خون بہا کیا
اگر ہے بوالہوس تو قتل کر چک
عدو سے وعدۂ شوق آزما کیا
مصطفٰی خان شیفتہ

ہوش و حواس و عقل و خرد کا پتا نہ تھا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 20
کل نغمہ گر جو مطربِ جادو ترا نہ تھا
ہوش و حواس و عقل و خرد کا پتا نہ تھا
یہ بت کہ جائے شیب ہے، جب تھا نقاب میں
عہدِ شباب اور بتوں کا زمانہ تھا
معلوم ہے ستاتے ہو ہر اک بہانے سے
قصداً نہ آئے رات، حنا کا بہانہ تھا
حسرت سے اس کے کوچے کو کیوں کر نہ دیکھئے
اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا
کیا مے کدوں میں ہے کہ مدارس میں وہ نہیں
البتہ ایک واں دلِ بے مدعا نہ تھا
ساقی کی بے مدد نہ بنی بات رات کو
مطرب اگرچہ کام میں اپنے یگانہ تھا
کچھ آج ان کی بزم میں بے ڈھب ہے بندوبست
آلودہ مے سے دامنِ بادِ صبا نہ تھا
دشمن کے فعل کی تمہیں توجیہ کیا ضرور
تم سے فقط مجھے گلۂ دوستانہ تھا
کل شیفتہ سحر کو عجب حالِ خوش میں تھے
آنکھوں میں نشہ اور لبوں پر ترانہ تھا
مصطفٰی خان شیفتہ

یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 269
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے
پُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
گو سمجھتا نہیں پر حسنِ تلافی دیکھو
شکوۂ جور سے سر گرمِ جفا ہوتا ہے
عشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چال
سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
کیوں نہ ٹھہریں ہدفِ ناوکِ بیداد کہ ہم
آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب
لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
خامہ میرا کہ وہ ہے باربُدِ بزمِ سخن
شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
اے شہنشاہِ کواکب سپہ و مہرِ علم
تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے
تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
میں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میں
یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 109
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا؟
نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
شکایت ہائے رنگیں کا گلا کیا
نگاہِ بے محابا چاہتا ہوں
تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
فروغِ شعلۂ خس یک نفَس ہے
ہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا
نفس موجِ محیطِ بیخودی ہے
تغافل ہائے ساقی کا گلا کیا
دماغِ عطر پیراہن نہیں ہے
غمِ آوارگی ہائے صبا کیا
دلِ ہر قطرہ ہے سازِ ’انا البحر‘
ہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا
محابا کیا ہے، مَیں ضامن، اِدھر دیکھ
شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا
سن اے غارت گرِ جنسِ وفا، سن
شکستِ قیمتِ دل کی صدا کیا
کیا کس نے جگرداری کا دعویٰ؟
شکیبِ خاطرِ عاشق بھلا کیا
یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں؟
یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا؟
بلائے جاں ہے غالب اس کی ہر بات
عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!
مرزا اسد اللہ خان غالب

پیمبر دل ہے قبلہ دل خدا دل

دیوان ششم غزل 1836
طریق عشق میں ہے رہنما دل
پیمبر دل ہے قبلہ دل خدا دل
قیامت تھا مروت آشنا دل
موئے پر بھی مرا اس میں رہا دل
رکا اتنا خفا اتنا ہوا تھا
کہ آخر خون ہو ہوکر بہا دل
جسے مارا اسے پھر کر نہ دیکھا
ہمارا طرفہ ظالم سے لگا دل
نہ تھی سہل استقامت اس کی لیکن
خرام ناز دلبر لے گیا دل
بدن میں اس کے تھی ہرجاے دلکش
بجا بے جا ہوا ہے جا بجا دل
گئے وحشت سے باغ و راغ میں تھے
کہیں ٹھہرا نہ دنیا سے اٹھا دل
اسیری میں تو کچھ واشد کبھو تھی
رہا غمگیں ہوا جب سے رہا دل
ہمہ تن میں الم تھا سو نہ جانا
گرہ یہ درد ہے پہلو میں یا دل
خموشی مجھ کو حیرت سے ہے ورنہ
بھرے ہیں لب سے لے کر شکوے تا دل
نہ پوچھا ان سے جس بن خوں ہوا سب
نہ سمجھا اس کے کینے کی ادا دل
ہوا پژمردہ و بے صبر و بے تاب
کرے گا اس طرح کب تک وفا دل
ہوئی پروا نہ واں دلبر کو یاں میر
اٹھا کر ہوچکا جور و جفا دل
میر تقی میر

چال ایسی چلا جس پر تلوار چلا کی ہے

دیوان پنجم غزل 1737
جب جل گئے تب ان نے کینے کی ادا کی ہے
چال ایسی چلا جس پر تلوار چلا کی ہے
خلقت مگر الفت سے ہے شورش سینہ کی
چسپاں مری چھاتی سے دن رات رہا کی ہے
ہم لوگوں کے لوہو میں ڈوبی ہی رہی اکثر
اس تیغ کی جدول بھی کیا تیز بہا کی ہے
عشاق موئے پر بھی ہجراں میں معذب ہیں
مدفن میں مرے ہر دم اک آگ لگا کی ہے
صد رنگ بہاراں میں اب کے جو کھلے ہیں گل
یہ لطف نہ ہو ایسی رنگینی ہوا کی ہے
مرنے کو رہے حاضر سو مارے گئے آخر
گو ان نے جفا کی ہے ہم نے تو وفا کی ہے
مایوس ہی رہتے ہیں بیمار محبت کے
اس درد کی مدت تک ہم نے بھی دوا کی ہے
آنا ادھر اس بت کا کیا میری کشش سے ہے
ہو موم جو پتھر تو تائید خدا کی ہے
دامان دراز اس کا جو صبح نہیں کھینچا
اے میر یہ کوتاہی شب دست دعا کی ہے
میر تقی میر

لگ پڑتے ہیں ہم تم سے تو تم اوروں کو لگا دو ہو

دیوان پنجم غزل 1709
کیا کچھ ہم سے ضد ہے تم کو بات ہماری اڑا دو ہو
لگ پڑتے ہیں ہم تم سے تو تم اوروں کو لگا دو ہو
کیا روویں قدر و قیمت کو یہیں سے ہے معلوم ہمیں
کام ہمارا پاس تمھارے جو آتا ہے بہادو ہو
اتنی تو جا خالی رہی ہے بزم خوش میں تمھارے سوا
جن کو کہیں جاگہ نہیں ملتی پہلو میں ان کو جا دو ہو
زنگ تو جاوے دل سے ہمارے غیر سیہ روبدگو کے
کھینچ کے تو ایک ایسی لگائو تیغ ستم کی تا دو ہو
صحبت گرم ہماری تمھاری شمع پتنگے کی سی ہے
یعنی ہو دل سوز جو کوئی اس کو تم تو جلا دو ہو
رنگ صحبت کس کو دکھاویں خوبی اپنی قسمت کی
ساغر مے دشمن کو دو ہو ہم کو زہر منگا دو ہو
بند نہیں جو کرتے ہو تم سینے کے سوراخوں کو
جی کی رکن میں ان رخنوں سے شاید دل کو ہوا دو ہو
آنکھ جھپک جاتی نہیں تنہا آگے چہرئہ روشن کے
ماہ بھی بیٹھا جاتا ہے جب منھ سے نقاب اٹھا دو ہو
غیر سے غیریت ہے آساں لیکن تہ کچھ ہم کو نہیں
بات بتاویں کیا ہم تم کو تم ہم کو تو بنا دو ہو
میر حقارت سے ہم اپنی چپ رہ جاتے ہیں جان جلے
طول ہمارے گھٹنے کو دے کر جیسے چراغ بڑھا دو ہو
میر تقی میر

تھا وہ برندہ زخموں پہ میں زخم کھا گیا

دیوان پنجم غزل 1570
آیا سو آب تیغ ہی مجھ کو چٹا گیا
تھا وہ برندہ زخموں پہ میں زخم کھا گیا
کیا شہر خوش عمارت دل سے ہے گفتگو
لشکر نے غم کے آن کے مارا چلا گیا
موقوف یار غیر جلانا مرا نہیں
جو کوئی اس کے کان لگا کچھ لگا گیا
تنہائی بیکسی مری یک دست تھی کہ میں
جیسے جرس کا نالہ جرس سے جدا گیا
کیا تم سے اپنے دل کی پریشانی میں کہوں
دریاے گریہ جوش زناں تھا بہا گیا
روزانہ اب تو اپنے تئیں سوجھتا نہیں
آخر کو رونا راتوں کا ہی دن دکھا گیا
سررفتگی بدی مری ننوشتنی ہے میر
قاصد جو لے کے نامہ گیا سو بھلا گیا
میر تقی میر

پنجہ خورشید کا گہا بھی جائے

دیوان چہارم غزل 1530
یارب اس کا ستم سہا بھی جائے
پنجہ خورشید کا گہا بھی جائے
دیکھ رہیے خرام ناز اس کا
پر کسو پا سے گر رہا بھی جائے
درد دل طول سے کہے عاشق
روبرو اس کے جو کہا بھی جائے
حیرت گل سے آب جو ٹھٹھکا
بہے بہتیرا ہی بہا بھی جائے
کیا کوئی اس گلی میں آوے میر
آوے تو لوہو میں نہا بھی جائے
میر تقی میر

آن رہے ہیں آج دموں پر کل تک کیونکے رہا جاوے

دیوان چہارم غزل 1515
حال رہا ہو ہم میں کچھ تو حال کسو سے کہا جاوے
آن رہے ہیں آج دموں پر کل تک کیونکے رہا جاوے
اس کی گلی وہ ظلم کدہ ہے آ نکلے جو کوئی وہاں
گرد رہ عشق آلودہ تو لوہو میں اپنے نہا جاوے
آنکھوں کی خوننابہ فشانی دیکھیں میر کہاں تک یہ
زرد ہمارے رخساروں پر ہر دم خون بہا جاوے
میر تقی میر

دانت تمھارے منھ میں کے ہیں اس مغرور نے یوں نہ کہا

دیوان چہارم غزل 1348
پیری میں بے دنداں ہو بیٹھے پر افسوس یہ ہم کو رہا
دانت تمھارے منھ میں کے ہیں اس مغرور نے یوں نہ کہا
کیا روداد کہیں ہم اپنے گریۂ زار محبت کی
رونا سا کوئی روئے ہیں آنکھوں سے اک رود بہا
صبر مرا سا بے جرمی پر ہو نہ سکے گا انساں سے
جور و جفا و ستم جو گذرے سب کچھ میں نے میر سہا
میر تقی میر

لگ اٹھتی آگ سب جوِّ سما میں

دیوان سوم غزل 1208
اثر ہوتا ہماری گر دعا میں
لگ اٹھتی آگ سب جوِّ سما میں
نہ اٹکا ہائے ٹک یوسفؑ کا مالک
وگرنہ مصر سب ملتا بہا میں
قصور اپنے ہی طول عمر کا تھا
نہ کی تقصیر ان نے تو جفا میں
سخن مشتاق ہیں بندے کے سب لوگ
سر و دل کس کو ہے عشق خدا میں
کفن کیا عشق میں میں نے ہی پہنا
کھنچے لوہو میں بہتیروں کے جامیں
پیام اس گل کو اس کے ہاتھ دیتے
سبک پائی نہ ہوتی گر صبا میں
جیو خوش یا کوئی ناخوش ہمیں کیا
ہم اپنے محو ہیں ذوق فنا میں
ہمیں فرہاد و مجنوں جس سے چاہو
تم آکر پوچھ لو شہر وفا میں
سراپا ہی ادا و ناز ہے یار
قیامت آتی ہے اس کی ادا میں
بلا زلف سیاہ اس کی ہے پرپیچ
وطن دل نے کیا ہے کس بلا میں
ضعیف و زار تنگی سے ہیں ہرچند
ولیکن میر اڑتے ہیں ہوا میں
میر تقی میر

جو چاہنے والے کا ہر طور برا چاہے

دیوان دوم غزل 1001
اس شوخ ستمگر کو کیا کوئی بھلا چاہے
جو چاہنے والے کا ہر طور برا چاہے
کعبے گئے کیا کوئی مقصد کو پہنچتا ہے
کیا سعی سے ہوتا ہے جب تک نہ خدا چاہے
سو رنگ کی جب خوبی پاتے ہو اسی گل میں
پھر اس سے کوئی اس بن کچھ چاہے تو کیا چاہے
ہم عجز سے پہنچے ہیں مقصود کی منزل کو
گہ خاک میں مل جاوے جو اس سے ملا چاہے
ہوسکتی ہیں سد رہ پلکیں کہیں رونے کی
تنکوں سے رکے ہے کب دریا جو بہا چاہے
جب تونے زباں چھوڑی تب کاہے کا صرفہ ہے
بے صرفہ کہے کیوں نہ جو کچھ کہ کہا چاہے
دل جاوے ہے جوں رو کے شبنم نے کہا گل سے
اب ہم تو چلے یاں سے رہ تو جو رہا چاہے
خط رسم زمانہ تھی ہم نے بھی لکھا اس کو
تہ دل کی لکھے کیونکر عاشق جو لکھا چاہے
رنگ گل و بوے گل ہوتے ہیں ہوا دونوں
کیا قافلہ جاتا ہے جو تو بھی چلا چاہے
ہم میر ترا مرنا کیا چاہتے تھے لیکن
رہتا ہے ہوئے بن کب جو کچھ کہ ہوا چاہے
میر تقی میر

ایک دل قطرئہ خوں تس پہ جفا کیا کیا کی

دیوان دوم غزل 947
ہم سے دیکھا کہ محبت نے ادا کیا کیا کی
ایک دل قطرئہ خوں تس پہ جفا کیا کیا کی
کس کو لاگی کہ نہ لوہو میں ڈبایا اس کو
اس کی شمشیر کی جدول بھی بہا کیا کیا کی
جان کے ساتھ ہی آخر مرض عشق گیا
جی بھلا ٹک نہ ہوا ہم نے دوا کیا کیا کی
ان نے چھوڑی نہ طرف جور و جفا کی ہرگز
ہم نے یوں اپنی طرف سے تو وفا کیا کیا کی
سجدہ اک صبح ترے در کا کروں اس خاطر
میں نے محراب میں راتوں کو دعا کیا کیا کی
آگ سی پھنکتی ہی دن رات رہا کی تن میں
جان غمناک ترے غم میں جلا کیا کیا کی
میر نے ہونٹوں سے اس کے نہ اٹھایا جی کو
خلق اس کے تئیں یہ سن کے کہا کیا کیا کی
میر تقی میر

چپکے تم سنتے ہو بیٹھے اسے کیا کہتے ہیں

دیوان دوم غزل 864
مدعی مجھ کو کھڑے صاف برا کہتے ہیں
چپکے تم سنتے ہو بیٹھے اسے کیا کہتے ہیں
دیکھے خوباں کے بجا دل نہیں رہتا ہرگز
لوگ جو کچھ انھیں کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
عشق کے شہر کی بھی رسم کے ہیں کشتے ہم
درد جانکاہ جو ہو اس کو دوا کہتے ہیں
جی اگر زلفوں کے سودے میں ترے دوں تو نہ بول
پہلی قیمت کے تئیں مشک بہا کہتے ہیں
حسن تو ہے ہی کرو لطف زباں بھی پیدا
میر کو دیکھو کہ سب لوگ بھلا کہتے ہیں
میر تقی میر

سینہ چاکی اپنی میں بیٹھا کیا کرتا تھا رات

دیوان دوم غزل 781
کام کیا تھا جیب و دامن سے مجھے پیش از جنوں
سینہ چاکی اپنی میں بیٹھا کیا کرتا تھا رات
جن دنوں کھینچا تھا سر اس بادشاہ حسن نے
ہر گلی میں اک فقیر اس کو دعا کرتا تھا رات
اب جہاں کچھ بات چھیڑی سوچ لایا پیش ازیں
میں کہا کرتا غم دل وہ سنا کرتا تھا رات
ہجر میں کیا کیا سمیں دیکھے ہیں ان آنکھوں سے میں
زرد رخ پر لالہ گوں آنسو بہا کرتا تھا رات
کیا کہوں پھر کیسے کیسے دن دکھاتا سالہا
وہ سخن نشنو جو ٹک میرا کہا کرتا تھا رات
دیکھنے والے ترے دیکھے میں سب اے رشک شمع
جوں چراغ وقف دل سب کا جلا کرتا تھا رات
بعد میرے اس غزل پر بھی بہت روویں گے لوگ
میں بھی ہر ہر بیت پر اس کی بکا کرتا تھا رات
دیکھ خالی جا کہیں گے برسوں اہل روزگار
میر اکثر دل کا قصہ یاں کہا کرتا تھا رات
میر تقی میر

اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا

دیوان دوم غزل 726
کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا
اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا
غم میں جاتی ہے عمر دہ روزہ
اپنے ہاں سے دہا نہیں جاتا
طاقت دل تلک تعب کھینچے
اب ستم ٹک سہا نہیں جاتا
اس در تر کا حیرتی ہے بحر
تب تو اس سے بہا نہیں جاتا
کب تری رہ میں میر گرد آلود
لوہو میں آ نہا نہیں جاتا
میر تقی میر

دیکھا نہ بدگمان ہمارا بھلا پھرا

دیوان دوم غزل 712
یاں اپنی آنکھیں پھر گئیں پر وہ نہ آ پھرا
دیکھا نہ بدگمان ہمارا بھلا پھرا
آیا نہ پھر وہ آئینہ رو ٹک نظر مجھے
میں منھ پر اپنے خاک ملے جا بہ جا پھرا
کیا اور جی رندھے کسو کا تیرے ہجر میں
سو بار اپنے منھ سے جگر تو گیا پھرا
اللہ رے دلکشی کہیں دیکھا جو گرم ناز
جوں سایہ اس کے ساتھ ملک پھر لگا پھرا
سن لیجو ایک بار مسافر ہی ہو گیا
بیمار عشق گور سے گو بارہا پھرا
کہہ وہ شکستہ پا ہمہ حسرت نہ کیونکے جائے
جو ایک دن نہ تیری گلی میں چلا پھرا
طالع پھرے سپہر پھرا قلب پھر گئے
چندے وہ رشک ماہ جو ہم سے جدا پھرا
پر بے نمک ہے ملنے کی اس وقت میں تلاش
بارے وہ ربط و دوستی سب کا مزہ پھرا
آنسو گرا نہ راز محبت کا پاس کر
میں جیسے ابر برسوں تئیں دل بھرا پھرا
بے صرفہ رونے لگ گئے ہم بھی اگر کبھو
تو دیکھیو کہ بادیہ سارا بہا پھرا
بندہ ہے پھر کہاں کا جو صاحب ہو بے دماغ
اس سے خدائی پھرتی ہے جس سے خدا پھرا
خانہ خراب میر بھی کتنا غیور تھا
مرتے موا پر اس کے کبھو گھر نہ جا پھرا
میر تقی میر

دیکھا پھر اس کو خاک میں ہم نے ملا ہوا

دیوان دوم غزل 692
اس کام جان و دل سے جو کوئی جدا ہوا
دیکھا پھر اس کو خاک میں ہم نے ملا ہوا
کر ترک گرچہ بیٹھے ہیں پر ہے وہی تلاش
رہتا نہیں ہے ہاتھ ہمارا اٹھا ہوا
کھینچا بغل میں میں جو اسے مست پا کے رات
کہنے لگا کہ آپ کو بھی اب نشہ ہوا
نے صبر ہے نہ ہوش ہے نے عقل ہے نہ دین
آتا ہے اس کے پاس سے عاشق لٹا ہوا
اٹھتا ہے میرے دل سے کبھو جوش سا تو پھر
جاتا ہے دونوں آنکھوں سے دریا بہا ہوا
جوں صید نیم کشتہ تڑپتا ہے ایک سا
کیا جانیے کہ دل کو مرے کیا بلا ہوا
خط آئے پر جو گرم وہ پرکار مل چلا
میں سادگی سے جانا کہ اب آشنا ہوا
ہم تو لگے کنارے ہوئے غیر ہم کنار
ایکوں کی عید ایکوں کے گھر میں دہا ہوا
جوں برق مجھ کو ہنستے نہ دیکھا کسو نے آہ
پایا تو ابر سا کہیں روتا کھڑا ہوا
جس شعر پر سماع تھا کل خانقاہ میں
وہ آج میں سنا تو ہے میرا کہا ہوا
پایا مجھے رقیب نے آ اس کی زیر تیغ
دل خواہ بارے مدعی کا مدعا ہوا
بیمار مرگ سا تو نہیں روز اب بتر
دیکھا تھا ہم نے میر کو کچھ تو بھلا ہوا
میر تقی میر

تم نے حقوق دوستی کے سب ادا کیے

دیوان اول غزل 510
لگوائے پتھرے اور برا بھی کہا کیے
تم نے حقوق دوستی کے سب ادا کیے
کھینچا تھا آہ شعلہ فشاں نے جگر سے سر
برسوں تئیں پڑے ہوئے جنگل جلا کیے
غنچے نے ساری طرز ہماری ہی اخذ کی
ہم جو چمن میں برسوں گرفتہ رہا کیے
تدبیر عشق میں بھی نہ کرتے قصور یار
جو اس مرض میں ہوتے بھلے ہم دوا کیے
جوں نے نہ تیرے کشتے کے لب سے رہی فغاں
ہر چند بند بند بھی اس کے جدا کیے
کیا حرف دل نشیں ہو مرا جیسے خط مدام
اغیار روسیاہ ترے منھ لگا کیے
پھر شام آشنا نہ کبھو نکلے گل رخاں
ہر صبح ان سے برسوں تئیں ہم ملا کیے
بے عیب ذات ہے گی خدا ہی کی اے بتاں
تم لوگ خوبرو جو کیے بے وفا کیے
اک خاک سی اڑے ہے منھ اوپر وگرنہ میر
اس چشم گریہ ناک سے دریا بہا کیے
میر تقی میر

اس بائو نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا

دیوان اول غزل 144
آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا
اس بائو نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا
سمجھی نہ باد صبح کہ آکر اٹھا دیا
اس فتنۂ زمانہ کو ناحق جگا دیا
پوشیدہ راز عشق چلا جائے تھا سو آج
بے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا
اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہ
پانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا
تھی لاگ اس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نے
دونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا
سب شور ما ومن کو لیے سر میں مر گئے
یاروں کو اس فسانے نے آخر سلا دیا
آوارگان عشق کا پوچھا جو میں نشاں
مشت غبار لے کے صبا نے اڑا دیا
اجزا بدن کے جتنے تھے پانی ہو بہ گئے
آخر گداز عشق نے ہم کو بہا دیا
کیا کچھ نہ تھا ازل میں نہ طالع جو تھے درست
ہم کو دل شکستہ قضا نے دلا دیا
گویا محاسبہ مجھے دینا تھا عشق کا
اس طور دل سی چیز کو میں نے لگا دیا
مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلک
جلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا
ہم نے تو سادگی سے کیا جی کا بھی زیاں
دل جو دیا تھا سو تو دیا سر جدا دیا
بوے کباب سوختہ آئی دماغ میں
شاید جگر بھی آتش غم نے جلا دیا
تکلیف درد دل کی عبث ہم نشیں نے کی
درد سخن نے میرے سبھوں کو رلا دیا
ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میر
ہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا
میر تقی میر

مجنوں بھی اس کی موج میں مدت بہا پھرا

دیوان اول غزل 135
صحرا میں سیل اشک مرا جابجا پھرا
مجنوں بھی اس کی موج میں مدت بہا پھرا
طالع جو خوب تھے نہ ہوا جاہ کچھ نصیب
سر پر مرے کڑوڑ برس تک ہما پھرا
آنکھیں برنگ نقش قدم ہو گئیں سفید
نامے کے انتظار میں قاصد بھلا پھرا
ٹک بھی نہ مڑ کے میری طرف تونے کی نگاہ
اک عمر تیرے پیچھے میں ظالم لگا پھرا
دیر و حرم میں کیونکے قدم رکھ سکے گا میر
ایدھر تو اس سے بت پھرے اودھر خدا پھرا
میر تقی میر

دس دن رہے جہان میں ہم سو رہا دہا

دیوان اول غزل 72
رونا ٹک اک تھما تو غم بیکراں سہا
دس دن رہے جہان میں ہم سو رہا دہا
پہلو میں اک گرہ سی تہ خاک ساتھ ہے
شاید کہ مر گئے پہ بھی خاطر میں کچھ رہا
آنکھوں نے رازداری محبت کی خوب کی
آنسو جو آتے آتے رہے تو لہو بہا
آئے تھے اک امید پہ تیری گلی میں ہم
سو آہ اس طرح سے چلے لوہو میں نہا
کس کس طرح سے میر نے کاٹا ہے عمر کو
اب آخر آخر آن کے یہ ریختہ کہا
میر تقی میر

پھر اس پہ ظلم یہ ہے کچھ کہا نہیں جاتا

دیوان اول غزل 61
دکھ اب فراق کا ہم سے سہا نہیں جاتا
پھر اس پہ ظلم یہ ہے کچھ کہا نہیں جاتا
ہوئی ہے اتنی ترے عکس زلف کی حیراں
کہ موج بحر سے مطلق بہا نہیں جاتا
نہیں گذرتی گھڑی کوئی مجھ خراب پر آہ
کہ جس میں غم سے ترے جی ڈھہا نہیں جاتا
ستم کچھ آج گلی میں تری نہیں مجھ پر
کب آ کے خون میں میں یاں نہا نہیں جاتا
خراب مجھ کو کیا اضطراب دل نے میر
کہ ٹک بھی اس کنے اس بن رہا نہیں جاتا
میر تقی میر

صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 24
ستم سکھلائے گا رسمِ وفا، ایسے نہیں ہوتا
صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا
گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں
مرے قاتل حسابِ خوں بہا ایسے نہیں ہوتا
جہانِ دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
یہاں پیمانِ تسلیم و رضا ایسے نہیں ہوتا
ہر اک شب، ہر گھڑی گزرے قیامت یوں تو ہوتا ہے
مگر ہر صبح ہو روزِ جزا ایسے نہیں ہوتا
رواں ہے نبضِ دوراں، گردشوں میں آسماں سارے
جو تم کہتے ہو سب کچھ ہو چکا ایسے نہیں ہوتا
فیض احمد فیض

انجمن انجمن رہا تنہا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 67
دل نے ایک ایک دکھ سہا تنہا
انجمن انجمن رہا تنہا
ڈھلتے سایوں میں تیرے کوچے سے
کوئی گزرا ہے بارہا تنہا
تیری آہٹ قدم قدم اور میں
اس معیّت میں بھی رہا تنہا
کہنہ یادوں کے برف زاروں سے
ایک آنسو بہا، بہا تنہا
ڈوبتے ساحلوں کے موڑ پہ دل
اک کھنڈر سا رہا سہا، تنہا
گونجتا رہ گیا خلاؤں میں
وقت کا ایک قہقہہ تنہا
مجید امجد

بڑھی سر کی طرف تیغِ جفا آہستہ آہستہ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 206
گھلا تصویر میں رنگِ حنا آہستہ آہستہ
بڑھی سر کی طرف تیغِ جفا آہستہ آہستہ
تم اپنی مملکت میں جرم کر دو زندگی، ورنہ
سبھی مانگیں گے اپنا خون بہا آہستہ آہستہ
مجھے اوروں کے سے اَنداز آتے آتے آئیں گے
کہ پتھر بن سکے گا آئینہ آہستہ آہستہ
ہُوا آخر وہ ہم سے ہم سخن، قدرے تکلف سے
چلی صحرا میں بھی ٹھنڈی ہوا آہستہ آہستہ
بگولے یک بیک اُن سونے والوں کو جگاتے ہیں
سلاتی ہے جنہیں بادِ صبا آہستہ آہستہ
ہمیں دُنیا جو دے گی ہم وہیں لوٹائیں گے اُس کو
گنہ بن جائے گی رسمِ وفا آہستہ آہستہ
اَچانک دوستو میرے وطن میں کچھ نہیں ہوتا
یہاں ہوتا ہے ہر اِک حادثہ آہستہ آہستہ
عرفان صدیقی

کوچے سے ترے بادِ صبا لے گئی ہم کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 114
خوُشبو کی طرح ساتھ لگا لے گئی ہم کو
کوچے سے ترے بادِ صبا لے گئی ہم کو
پتھر تھے کہ گوہر تھے، اَب اِس بات کا کیا ذِکر
اِک موج بہرحال بہا لے گئی ہم کو
پھر چھوڑ دیا ریگِ سرِ راہ سمجھ کر
کچھ دُور تو موسم کی ہوا لے گئی ہم کو
تم کیسے گرے آندھی میں چھتنار درختو!
ہم لوگ تو پتّے تھے، اُڑا لے گئی ہم کو
ہم کون شناور تھے کہ یوں پار اُترتے
سوکھے ہوئے ہونٹوں کی دُعا لے گئی ہم کو
اُس شہر میں غارت گرِ اِیماں تو بہت تھے
کچھ گھر کی شرافت ہی بچا لے گئی ہم کو
عرفان صدیقی

بمباری نے کرنوں بھری تاریخ بجھا دی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 450
آثارِ قدیمہ ، مری تہذیب مٹا دی
بمباری نے کرنوں بھری تاریخ بجھا دی
وہ بھی تو درِ کعبہ پہ سجاآتے تھے نظمیں
میں نے بھی اباسین میں اک نظم بہادی
جو علم کے معروف سمندر ہیں انہوں نے
اک آگ کتب خانۂ دجلہ میں لگادی
اطلاع کی کوئی بیل نہ بجی خانۂ دل میں
اخبار بھی کرتے رہے تصویری منادی
یہ ڈیڑھ ارب بھوک زدہ آدمی کیوں ہیں
کچھ بول چناروں بھری کشمیر کی وادی
پھر رات کی چادر پہ ابھر آئے ستارے
پھر روشنی منصور اندھیرے میں ملادی
منصور آفاق

خواب میں جا کر رقص کیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 124
نیندجگاکر رقص کیا
خواب میں جا کر رقص کیا
خوشبو کے اکتارے پر
رنگ بجا کر رقص کیا
آبِ رواں کے پہلو میں
گیت بہاکر رقص کیا
نرم پروں پہ تتلی کے
شام بناکر رقص کیا
ابرِ سیہ کی بوندوں میں
شور مچاکر رقص کیا
دھوپ کے ننگے سینے پر
پیٹر جھکا کر رقص کیا
رات کے کالے شیشے سے
دن ٹکرا کر رقص کیا
خواب بھری آوازوں سے
لطف اٹھا کر رقص کیا
بزم سخن میں رومی سے
ہاتھ ملا کر رقص کیا
برف بھری منصور رُتیں
آگ بجھا کر رقص کیا
منصور آفاق