ٹیگ کے محفوظات: بہاؤ

ہَولے سے مرے دل میں کہیں سے اُتر آؤ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
لے کر مہِ شب تاب سے کرنوں کا بہاؤ
ہَولے سے مرے دل میں کہیں سے اُتر آؤ
چُپ چاپ ہو جیسے کوئی بن باس پہ نکلے
اے دل کی تمّناؤ! کوئی حشر اُٹھاؤ
کچھ ماند تو پڑ جائیں گے باتوں کی نمی سے
آؤ کہ دہکتے ہیں خموشی کے الاؤ
پھرتا ہے کچھ اس طور سے مغرور و گریزاں
ہے وقت بھی جیسے ترے ابرو کا تناؤ
اُترے ہیں جو اِس میں تو کھُلے گا کبھی ماجدؔ
لے جائے کہاں جھومتے دریا کا بہاؤ
ماجد صدیقی

ہار کے بعد مسکراؤ کبھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 83
زندگی سے نظر ملاؤ کبھی
ہار کے بعد مسکراؤ کبھی
ترکِ اُلفت کے بعد اُمیدِ وفا
ریت پر چل سکی ہے ناؤ کبھی
اب جفا کی صراحتیں بیکار
بات سے بھر سکا ہے گھاؤ کبھی
شاخ سے موجِ گُل تھمی ہے کہیں
ہاتھ سے رک سکا بہاؤ کبھی
اندھے ذہنوں سے سوچنے والو
حرف میں روشنی ملاؤ کبھی
بارشیں کیا زمیں کے دُکھ بانٹیں
آنسوؤں سے بجھا الاؤ کبھی
اپنے اسپین کی خبر رکھنا
کشتیاں تم اگر جلاؤ کبھی
پروین شاکر

سرِ کہسار مسافت کا پڑاؤ کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 432
رات کے پچھلے پہر ، دور الاؤ کوئی
سرِ کہسار مسافت کا پڑاؤ کوئی
ہار جاؤں گا تو دنیاسے بھی اٹھ جاؤں گا
بس لگانا ہے مجھے آخری داؤ کوئی
ٹوٹ جانے میں بھلا کونسی اچھائی ہے
نرمگی کوئی، سرِ شاخ جھکاؤ کوئی
لوگ کہتے ہیں کہ باہو کے ہے دوہوں میں شفا
بیٹھ کے میرے سرہانے ذرا گاؤ کوئی
چاند کے روپ میں اک طنزِ مسلسل کی طرح
سینہ ء شب میں سلگتا ہوا گھاؤ کوئی
لوگ مرجاتے ہیں ساحل کی تمنا لے کر
اور سمندر میں چلی جاتی ہے ناؤ کوئی
کاش بچپن کی بہشتوں سے نہ باہر آؤں
روک لے عمر کے دریا کا کٹاؤ کوئی
لڑکھڑانا ہے نشیبوں میں ہمیشہ منصور
روک سکتا نہیں پانی کا بہاؤ کوئی
منصور آفاق