ٹیگ کے محفوظات: بھگونے

شہر کی بھیڑ میں کھونے نہیں دیتا کوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 210
ہم سے رُخصت ہمیں ہونے نہیں دیتا کوئی
شہر کی بھیڑ میں کھونے نہیں دیتا کوئی
ہر طرف پرسشِ غم، پرسشِ غم پرسشِ غم
چین سے بوجھ بھی ڈھونے نہیں دیتا کوئی
لوگ دَریا میں اُترنے سے ڈراتے ہیں بہت
جسم پانی میں ڈبونے نہیں دیتا کوئی
یہ گزرگاہ کا سناٹا، یہ پُرشور ہوا
کھڑکیاں کھول کے سونے نہیں دیتا کوئی
باغ میں سبزۂ شاداب بہت ہے لیکن
اَوس سے پاؤں بھگونے نہیں دیتا کوئی
عرفان صدیقی

وقت پر پاؤں کہانی ختم ہونے پر رکھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 102
آسرا کس وقت مٹی کے کھلونے پر رکھا
وقت پر پاؤں کہانی ختم ہونے پر رکھا
دیکھتا کیا میں تری دنیا کہ ہجرِ یار میں
دیدہ و دل کو ہمیشہ وقف رونے پر رکھا
پانیوں کو ساحلوں میں قید کر دینے کے بعد
موج کو پابند ساحل کے ڈبونے پر رکھا
چاہتا تو وقت کا ہم رقص بن سکتا تھا میں
خود سے ڈر کر خود کو لیکن ایک کونے پر رکھا
اپنی آنکھیں چھوڑ آیا اس کے دروازے کے پاس
اور اس کے خواب کو اپنے بچھونے پر رکھا
سونپ کر منصور دل کو آگ سلگانے کا کام
آنکھ کو مصروف دامن کے بھگونے پر رکھا
منصور آفاق