ٹیگ کے محفوظات: بھٹکا

پہلے تیرا نام لکھا تھا

میں نے جب لکھنا سیکھا تھا
پہلے تیرا نام لکھا تھا
میں وہ صبرِ صمیم ہوں جس نے
بارِ امانت سر پہ لیا تھا
میں وہ اسمِ عظیم ہوں جس کو
جن و ملک نے سجدہ کیا تھا
تو نے کیوں مرا ہاتھ نہ پکڑا
میں جب رستے سے بھٹکا تھا
جو پایا ہے وہ تیرا ہے
جو کھویا وہ بھی تیرا تھا
تجھ بن ساری عمر گزاری
لوگ کہیں گے تو میرا تھا
پہلی بارش بھیجنے والے
میں ترے درشن کا پیاسا تھا
ناصر کاظمی

دل کہیں پر اور کہیں پر ذہن تھا بھٹکا ہوا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 13
راہ کی بے سمتیوں کا ہر گھڑی کھٹکا ہوا
دل کہیں پر اور کہیں پر ذہن تھا بھٹکا ہوا
چاندنی جیسی کوئی شے پی کے نکلیں سیر کو
جب ستاروں سے ہو باغِ آسماں چٹکا ہوا
چشم و لب پر مُسکراتی رغبتیں تسخیر کی
اور گردن میں سنہرا سا فسوں لٹکا ہوا
رہ گیا آنکھوں میں وُہ نقشِ تمام و ناتمام
طرۂ کا کُل رُخِ دیوار پر جھٹکا ہوا
ٹوٹ کر جینے کی حسرت میں جیا ہوں اس طرح
جیسے بچّے کی زباں پر لفظ ہو اٹکا ہوا
آنکھ میں سپنا ترا اُترا تو اس سے پیشتر
کچھ گماں سا کاسنی رنگوں کی آہٹ کا ہوا
آفتاب اقبال شمیم