ٹیگ کے محفوظات: بھوت

ریشم کے لچّھے بھی دیکھو سُوت ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
مکّاری کو کیا کیا ہیں کُرتوت ہوئے
ریشم کے لچّھے بھی دیکھو سُوت ہوئے
خواب ہوئیں پریاں جتنی ایقان کی تھیں
واہمے کیا کیا اپنی خاطر بھُوت ہوئے
رہتے ہیں محصور مسلسل ہلچل میں
امیدوں کے شہر بھی ہیں بیروت ہوئے
جب سے باغ میں رسم چلی پیوندوں کی
سیدھے سادے تُوت بھی ہیں شہتوت ہوئے
منکر ہونے پر ماجدؔ بدنام ہمیں
جبر سہا تو ہم اچّھوں کے پُوت ہوئے
ماجد صدیقی

بنے ہوئے ہیں بڑے راجپوت آخرِ شب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 138
مرے دماغ کے سب عنکبوت آخرِ شب
بنے ہوئے ہیں بڑے راجپوت آخرِ شب
عشائے غم میری خیرہ سری میں گزری ہے
سو پڑھ رہا ہوں دعائے قنوت آخرِ شب
اداسیوں کے تنفس میں میرے اندر سے
نکل پڑا ہے عدم کا سکوت آخرِ شب
لکھا گیا تھا مجھے آسماں پہ کرنوں سے
ہوا ہے خاک پہ میرا ہبوط آخرِ شب
میں اپنے پاس تہجد کے وقت آیا ہوں
ملا ہے مجھ کو خود اپنا ثبوت آخرِ شب
دبا دیا تھا افق میں امید کا پتہ
نکل پڑا ہے کوئی شہ بلوط آخرِ شب
ہزار رنگ جہنم کے دیکھتا ہوں میں
کیا ہے موت کا منظر حنوط آخرِ شب
بدن پہ دھوپ کا آسیب دیکھ کر منصور
چرا کے برف کے لے آیا بھوت آخرِ شب
منصور آفاق

سرابِ ذات کا کیسا سموتھ پانی تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 100
ہوا تھی تیز مگر ، پُرسکوت پانی تھا
سرابِ ذات کا کیسا سموتھ پانی تھا
وہاں پہ آگ کو کیا سرخروئی ملنی تھی
جہاں حیات کا پہلا ثبوت پانی تھا
وہ تشنہ لب رہا دریا کے پاس آ کر بھی
مرے کنارے کا شاید اچھوت پانی تھا
کئی ہزار برس پہلے میرے پاؤں میں
بشکلِ برف زمیں پر حنوط پانی تھا
اکیلگی تھی جزیرے پہ اور ہوائیں تھیں
گرے ہوئے تھے کئی شہ بلوط ، پانی تھا
ہر اک خیال کے اس انجماد میں منصور
حدِ نگاہ کا بے شکل بھوت پانی تھا
منصور آفاق