ٹیگ کے محفوظات: بھلے

واقف نہیں ہیں شاید اپنے بُرے بھلے سے

جو لوگ اُس گلی میں پھرتے ہیں منچلے سے
واقف نہیں ہیں شاید اپنے بُرے بھلے سے
شکوہ کیا نہ ہم نے پوچھا نہ حال تم نے
ڈرتے رہے ہیں شاید ہم ایک دوسرے سے
وہ بات ہی نہیں جب تو بات کیا کریں گے
رُک بھی گیا اگر وہ باصرِؔ ترے کہے سے
باصر کاظمی

راکھ سی بن کے پھر اُڑے تھے ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 123
تیری دہلیز پر جُھکے تھے ہم
راکھ سی بن کے پھر اُڑے تھے ہم
تن پہ یُوں داغ برّشوں کے نہ تھے
بِن بہاروں کے ہی بھلے تھے ہم
تھا عجب غلغلہ سا بچّوں کا
ڈور کٹنے پہ جب گرے تھے ہم
جتنے اب ہیں گنوا کے دل کا بھرم
اتنے رُسوا کہاں ہوئے تھے ہم
فخر سے خاک تھی سپہر بنی
جانبِ دار جب چلے تھے ہم
اب کھُلا ہے کہ اپنے حق میں بھی
بڑھ کے ابلیس سے بُرے تھے ہم
شاخ وہ حسرتوں کا پیکر ہے
جس پہ ماجد! کبھی کھِلے تھے ہم
ماجد صدیقی

متصل شمع سے روتے ہیں گلے جاتے ہیں

دیوان ششم غزل 1842
سر سے ایسی لگی ہے اب کہ جلے جاتے ہیں
متصل شمع سے روتے ہیں گلے جاتے ہیں
اس گلستاں میں نمود اپنی ہے جوں آب رواں
دم بہ دم مرتبے سے اپنے چلے جاتے ہیں
تن بدن ہجر میں کیا کہیے کہ کیسا سوکھا
ہلکی بھی باؤ میں تنکے سے ہلے جاتے ہیں
رہتے دکھلائی نہیں دیتے بلاکش اس کے
جی کھپے جاتے ہیں دل اپنے دلے جاتے ہیں
پھر بخود آئے نہ بدحالی میں بیخود جو ہوئے
آپ سے جاتے ہیں ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں
خاک پا اس کی ہے شاید کسو کا سرمۂ چشم
خاک میں اہل نظر اس سے رلے جاتے ہیں
گرم ہیں اس کی طرف جانے کو ہم لیکن میر
ہر قدم ضعف محبت سے ڈھلے جاتے ہیں
میر تقی میر

ہے آج عید صاحب میرے لگے گلے تم

دیوان چہارم غزل 1434
پوشاک تنگ پہنے بارے کہاں چلے تم
ہے آج عید صاحب میرے لگے گلے تم
اس نازکی سے گذرے کس کے خیال میں شب
مرجھائے پھول سے ہو جو کچھ ملے دلے تم
کیا ظلم ہے کہ کھینچے شمشیر وہ کہے ہے
آزردہ ہوں گا پھر میں جاگہ سے جو ہلے تم
کم پائی اس قدر ہے منزل ہے دور اتنی
طے کس طرح کروگے یارو یہ مرحلے تم
اکثر نڈھال ہیں ہم پر یوں نہیں وہ کہتا
کیا ہے کہ جاتے ہو گے کچھ اتنے ہی ڈھلے تم
یہ جانتے نہ تھے ہم ایسے برے ہوئے ہو
ہونٹوں پہ جان آئی تم بن گئے بھلے تم
قربانی اس کی ٹھہری پر یہ طرح نہ چھوڑی
تکتے ہو میر اودھر تلوار کے تلے تم
میر تقی میر

ہجراں میں اس کے ہم کو بہتیرے مشغلے ہیں

دیوان سوم غزل 1206
روتے ہیں نالہ کش ہیں یا رات دن جلے ہیں
ہجراں میں اس کے ہم کو بہتیرے مشغلے ہیں
جوں دود عمر گذری سب پیچ و تاب ہی میں
اتنا ستا نہ ظالم ہم بھی جلے بلے ہیں
مرنا ہے خاک ہونا ہو خاک اڑتے پھرنا
اس راہ میں ابھی تو درپیش مرحلے ہیں
کس دن چمن میں یارب ہو گی صبا گل افشاں
کتنے شکستہ پر ہم دیوار کے تلے ہیں
جب یاد آگئے ہیں پاے حنائی اس کے
افسوس سے تب اپنے ہم ہاتھ ہی ملے ہیں
تھا جو مزاج اپنا سو تو کہاں رہا ہے
پر نسبت اگلی تو بھی ہم ان دنوں بھلے ہیں
کچھ وہ جو کھنچ رہا ہے ہم کانپتے ہیں ڈر سے
یاں جوں کمان گھر میں ہر وقت زلزلے ہیں
اک شور ہی رہا ہے دیوان پن میں اپنے
زنجیر سے ہلے ہیں گر کچھ بھی ہم ہلے ہیں
پست و بلند دیکھیں کیا میر پیش آئے
اس دشت سے ہم اب تو سیلاب سے چلے ہیں
میر تقی میر

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

دیوان دوم غزل 906
کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں
چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں
گوہرگوش کسو کا نہیں جی سے جاتا
آنسو موتی سے مرے منھ پہ ڈھلے جاتے ہیں
یہی مسدود ہے کچھ راہ وفا ورنہ بہم
سب کہیں نامہ و پیغام چلے جاتے ہیں
بارحرمان و گل و داغ نہیں اپنے ساتھ
شجر باغ وفا پھولے پھلے جاتے ہیں
حیرت عشق میں تصویر سے رفتہ ہی رہے
ایسے جاتے ہیں جو ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں
ہجر کی کوفت جو کھینچے ہیں انھیں سے پوچھو
دل دیے جاتے ہیں جی اپنے ملے جاتے ہیں
یاد قد میں ترے آنکھوں سے بہیں ہیں جوئیں
گر کسو باغ میں ہم سرو تلے جاتے ہیں
دیکھیں پیش آوے ہے کیا عشق میں اب تو جوں سیل
ہم بھی اس راہ میں سر گاڑے چلے جاتے ہیں
پُرغباری جہاں سے نہیں سدھ میر ہمیں
گرد اتنی ہے کہ مٹی میں رلے جاتے ہیں
میر تقی میر

عمر کی جیپ کے ٹائر تلے آئے ہوئے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 382
جسم پر نقش گئے وقت کے آئے ہوئے ہیں
عمر کی جیپ کے ٹائر تلے آئے ہوئے ہیں
ہم سمجھتے ہیں بہت، لہجے کی تلخی کو مگر
تیرے کمرے میں کسی کام سے آئے ہوئے ہیں
دیکھ مت بھیج یہ میسج ہمیں موبائل پر
ہم کہیں دور بہت روٹھ کے آئے ہوئے ہیں
ہم نہیں جانتے روبوٹ سے کچھ وصل وصال
ہم ترے چاند پہ شاید نئے آئے ہوئے ہیں
پھر پگھلنے کو ہے بستی کوئی ایٹم بم سے
وقت کی آنکھ میں کچھ سانحے آئے ہوئے ہیں
ڈھونڈنے کے لیے گلیوں میں کوئی عرش نشیں
تیرے جیسے تو فلک سے بڑے آئے ہوئے ہیں
ہم سے چرواہوں کو تہذیب سکھانے کے لیے
دشت میں شہر سے کچھ بھیڑیے آئے ہوئے ہیں
کیا کریں اپنی رندھی ، زرد ، فسردہ آواز
غول کے غول یہاں بھونکنے آئے ہوئے ہیں
تجھ سے کچھ لینا نہیں ، دیکھ ! پریشان نہ ہو
ہم یہاں گزری رتیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں
تھوڑی تھوڑی سی خوشی بانٹنے والے شاید
کوئی تبدیلی بڑی روکنے آئے ہوئے ہیں
اتنا کافی ہے تجھے بات سمجھنے کیلئے
ہم یہاں آئے نہیں ہیں بھلے آئے ہوئے ہیں
ہم محبت کے کھلاڑی ہیں سنوکر کے نہیں
کھیل منصور یونہی کھیلنے آئے ہوئے ہیں
منصور آفاق