ٹیگ کے محفوظات: بھلانے

کیا ملے جان بھی جلانے سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
ہر کڑے دن کو جی سے جانے سے
کیا ملے جان بھی جلانے سے
ہم قفس تک میں گھر کے آنے سے
باز آئے نہ چہچہانے سے
جس کی خوشبُو ہواؤں تک میں ہے
بھُولتا ہے وُہ کب بھُلانے سے
سنگ پھر جھیل میں گرا کوئی
شور اُٹّھا پھر آشیانے سے
وہ جو بچھڑا تو کب سے ٹھہری ہے
آنکھ محروم جگمگانے سے
وہ کہ غالبؔ نہیں ہے، ماجدؔ ہے
مل ہی لینا تھا اُس یگانے سے
ماجد صدیقی

شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 123
ہم ترا ہجر منانے کے لیے نکلے ہیں
شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں
شہر کوچوں میں کرو حشر بپا آج کہ ہم
اس کے وعدوں کو بھلانے کے لیے نکلے ہیں
ہم سے جو روٹھ گیا ہے وہ بہت معصوم ہے
ہم تو اوروں کو منانے کے لیے نکلے ہیں
شہر میں شورہے، وہ یوں کہ گماں کے سفری
اپنے ہی آپ میں آنے کے لیے نکلے ہیں
وہ جو تھے شہر تحیر ترے پر فن معمار
وہی پُر فن تجھے ڈھانے کے لیے نکلے ہیں
راہگزر میں تری قالین بچھانے والے
خون کا فرش بچھانے کے لیے نکلے ہیں
ہمیں کرنا ہے خداوند کی امداد سو ہم
دیر و کعبہ کو لڑانے کے لیے نکلے ہیں
سر شب اک نئی تمثیل بپا ہونی ہے
اور ہم پردہ اٹھانے کے لیے نکلے ہیں
ہمیں سیراب نئی نسل کو کرنا ہے سو ہم
خون میں اپنے نہانے کے لیے نکلے ہیں
ہم کہیں کے بھی نہیں پر یہ ہے روداد اپنی
ہم کہیں سے بھی نہ جانے کے لیے نکلے ہیں
جون ایلیا