ٹیگ کے محفوظات: بھلائے

دل تجھے بھی بھلائے جاتا ہے

شوق کیا کیا دِکھائے جاتا ہے
دل تجھے بھی بھلائے جاتا ہے
اگلے وقتوں کی یادگاروں کو
آسماں کیوں مٹائے جاتا ہے
سوکھتے جا رہے ہیں گل بوٹے
باغ کانٹے اُگائے جاتا ہے
جاتے موسم کو کس طرح روکوں
پتہ پتہ اُڑائے جاتا ہے
حال کس سے کہوں کہ ہر کوئی
اپنی اپنی سنائے جاتا ہے
کیا خبر کون سی خوشی کے لیے
دل یونہی دِن گنوائے جاتا ہے
رنگ پیلا ہے تیرا کیوں ناصر
تجھے کیا رنج کھائے جاتا ہے
ناصر کاظمی

پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 174
ہم بصد ناز دل و جاں ‌ میں بسائے بھی گئے
پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے
ہم ترا ناز تھے ، پھر تیری خوشی کی خاطر
کر کے بے چارہ ترے سامنے لائے بھی گئے
کج ادائی سے سزا کج کلہی کی پائی
میرِ محفل تھے سو محفل سے اٹھائے بھی گئے
کیا گلہ خون جو اب تھوک رہے ہیں ‌ جاناں
ہم ترے رنگ کے پرتَو سے سجائے بھی گئے
ہم سے روٹھا بھی گیا ہم کو منایا بھی گیا
پھر سبھی نقش تعلق کے مٹائے بھی گئے
جمع و تفریق تھے ہم مکتبِ جسم و جاں ‌ کی
کہ بڑھائے بھی گئے اور گھٹائے بھی گئے
جون، دلِ شہرِ حقیقت کو اجاڑا بھی گیا
اور پھر شہر توّہم کے بسائے بھی گئے
جون ایلیا