ٹیگ کے محفوظات: بھروسا

ذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 59
جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھی
ذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی
کبھی سفر ہی سفر میں جو عمرِ رفتہ کی سمت
پلٹ کے دیکھا تو اڑتی تھی گردِ فردا بھی
بڑے سلیقے سے دنیا نے میرے دل کو دیے
وہ گھاؤ، جن میں تھا سچائیوں کا چرکا بھی
کسی کی روح سے تھا ربط اور اپنے حصے میں تھی
وہ بےکلی جو ہے موجِ زماں کا حصہ بھی
یہ آنکھیں، ہنستی وفائیں، یہ پلکیں، جھکتے خلوص
کچھ اس سے بڑھ کے کسی نے کسی کو سمجھا بھی
یہ رسم، حاصلِ دنیا ہے اک یہ رسمِ سلوک
ہزار اس میں سہی نفرتوں کا ایما بھی
دلوں کی آنچ سے تھا برف کی سلوں پہ کبھی
سیاہ سانسوں میں لتھڑا ہوا پسینہ بھی
مجھے ڈھکی چھپی اَن بوجھی الجھنوں سے ملا
جچی تلی ہوئی اک سانس کا بھروسا بھی
کبھی کبھی انھی الھڑ ہواؤں میں امجد
سنا ہے دور کے اک دیس کا سندیسا بھی
مجید امجد

اور اس کے آگے بھی دریا نہیں ٹھہر جاؤ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 7
مصافِ دشت تماشا نہیں ٹھہر جاؤ
اور اس کے آگے بھی دریا نہیں ٹھہر جاؤ
سوادِ شب میں کسی سمت کا سراغ کہاں
یہ سیمیا ہے ستارہ نہیں ٹھہر جاؤ
تم اس حریف کو پامال کر نہیں سکتے
تمہاری ذات ہے دُنیا نہیں ٹھہر جاؤ
یہ ہوُ کا وقت، یہ جنگل گھنا، یہ کالی رات
سنو یہاں کوئی خطرہ نہیں ٹھہر جاؤ
ہوا رکے تو وہی اک صدا سنائی دے
’’انیس دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاؤ‘‘
عرفان صدیقی