ٹیگ کے محفوظات: بھرنے

رنج سا اِک نظر میں اُبھرنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
جب بھی موسم ذرا سا نکھرنے لگا
رنج سا اِک نظر میں اُبھرنے لگا
آنکھ میں پھر کسی یاد کا عکس ہے
چاند ہے جھیل میں پھر اُترنے لگا
ہم اُسے کس طرح معتبر جان لیں
بات تک سے جو اپنی مُکرنے لگا
وحشتوں کی سکڑتی حدیں دیکھ کر
شیر پنجرے میں از خود سدھرنے لگا
آئنے پر جو دل کے لگے بال سا
زخم ماجدؔ کہاں ہے وُہ بھرنے لگا
ماجد صدیقی

یہ لمحۂ جاوید گزرنے کا نہیں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
نشہ تری چاہت کا اُترنے کا نہیں ہے
یہ لمحۂ جاوید گزرنے کا نہیں ہے
کیا پُوچھتے ہو حدّتِ نظارہ سے دل میں
وہ زخم ہوا ہے کہ جو بھرنے کا نہیں ہے
لب بھینچ کے رکھوں تو چٹکتی ہے خموشی
اور ذکر بھی ایسا ہے جو کرنے کا نہیں ہے
کیوں سمت بڑھاتے ہو مری، برف سے لمحے
موسم مرے جذبوں کا ٹھٹھرنے کا نہیں ہے
اک عمر میں آیا ہے مرے ہاتھ سمٹنا
شیرازۂ افکار بکھرنے کا نہیں ہے
وہ راج ہے اِس دل کے اُفق پر تری ضو کا
سورج کوئی اَب اور اُبھرنے کا نہیں ہے
ماجدؔ کو اگر بعدِ مؤدت تری درپیش
ہو موت سی آفت بھی تو مرنے کا نہیں ہے
ماجد صدیقی

بس کوئی دم نہ بھرنے والے تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 198
وہ جو کیا کچھ نہ کرنے والے تھے
بس کوئی دم نہ بھرنے والے تھے
تھے گلے اور گرد باد کی شام
اور ہم سب بکھرنے والے تھے
وہ جو آتا تو اس کی خوشبو میں
آج ہم رنگ بھرنے والے تھے
صرف افسوس ہے یہ طنز نہیں
تم نہ سنوارے ، سنوارنے والے تھے
یوں تو مرنا ہے اک بار مگر
ہم کئی بار مرنے والے تھے
جون ایلیا

کہ زندہ جہاں لوگ مرنے کو تھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 289
طلسمات تھا شہ سواروں کا شہر
کہ زندہ جہاں لوگ مرنے کو تھے
کرامت کوئی ہونے والی تھی رات
فقیر اس گلی سے گزرنے کو تھے
ادھر تیر چلنے کو تھے بے قرار
ادھر سارے مشکیزے بھرنے کو تھے
ذرا کشتگاں صبر کرتے تو آج
فرشتوں کے لشکر اترنے کو تھے
سمندر ادا فہم تھا‘ رک گیا
کہ ہم پاؤں پانی پہ دھرنے کو تھے
اگر ان کی بولی سمجھتا کوئی
تو دیوار و در بات کرنے کو تھے
ہوا نے ٹھکانے لگایا ہمیں
ہم اک چیخ تھے اور بکھرنے کو تھے
عرفان صدیقی

ایسے بھی ہیں کچھ زخم کہ بھرنے نہیں پاتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 196
ہم تیری محبت سے گزرنے نہیں پاتے
ایسے بھی ہیں کچھ زخم کہ بھرنے نہیں پاتے
ہر موج تمنا ہے سراب یم ہستی
ہم پیاس کے صحرا سے ابھرنے نہیں پاتے
وہ دھوپ کہ دیوار سر راہ کھڑی ہے
سائے بھی درختوں سے اترنے نہیں پاتے
اس طرح جکڑ رکھا ہے احساس وفا نے
ہم ٹوٹ تو جاتے ہیں بکھرنے نہیں پاتے
آ کر بھی صبا باغ میں لہرا نہیں سکتی
کھل کر بھی کئی پھول نکھرنے نہیں پاتے
وہ بھیڑ ہے اک گام بھی ہم چل نہیں سکتے
وہ شور ہے ہم بات بھی کرنے نہیں پاتے
ہر موج قدم دل سے گزر جاتی ہے باقیؔ
وہ تیز ہوا ہے کہ ٹھہرنے نہیں پاتے
باقی صدیقی