ٹیگ کے محفوظات: بھرم

وُہ ماجرا سرِ دیوار ہے رقم دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
لب و زباں پہ اُترتے جسے ہے کم دیکھا
وُہ ماجرا سرِ دیوار ہے رقم دیکھا
وُہ دل بھی سنگ سے کمتر ہے کب کہ جس نے کبھی
کوئی خُدا، نہ پسِ آرزو، صنم دیکھا
شبِ الم کے تصّور سے یوں لگے جیسے
اِسی حیات میں اِک اور ہو جنم دیکھا
ستم کو نام دیا اَب کے جو ستمگر نے
کسی بھی جھُوٹ کا کھُلتے نہ یوں بھرم دیکھا
ملا فروغ جہاں بھی سکوں کے نغموں کو
وُہ شاخ راکھ ہوئی، آشیاں بھسم دیکھا
کبھی بہ حسنِ سلامت ہمیں نہ یاد آیا
وُہ شخص جس کو بچھڑتے بہ چشمِ نم دیکھا
ہوا کی چھیڑ بھی ماجدؔ تھی شاخِ بالا سے
نہ جھُک سکا جو کہیں سر وُہی قلم دیکھا
ماجد صدیقی

رکھنے لگے اغیار میں اپنا بھرم اچّھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
سمجھیں وُہ ہمارے لیے ابرو میں خم اچّھا
رکھنے لگے اغیار میں اپنا بھرم اچّھا
کہتے ہیں وہ آلام کو خاطر میں نہ لاؤ
ٹھہرے گا تمہارے لیے اگلا جنم اچّھا
وجداں نے کہی بات یہ کیا حق میں ہمارے
چہرہ یہ مرا اور لباس اُس کا نم اچّھا
جو شاخ بھی کٹتی ہے کٹے نام نمو پر
دیکھو تو چمن پر ہے یہ کیسا کرم اچّھا
کس درجہ بھروسہ ہے اُنہیں ذات پہ اپنی
وہ لوگ کہ یزداں سے جنہیں ہے صنم اچّھا
یہ لفظ تھے کل ایک جنونی کی زباں پر
بسنے سے ہے اِس شہر کا ہونا بھسم اچّھا
غیروں سے ملے گا تو کھلے گا کبھی تجھ پر
ماجدؔ بھی ترے حق میں نہ تھا ایسا کم اچّھا
ماجد صدیقی

ہائے انسان کی انگڑائی کا خم

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 3
دیکھتی رہ گئی محرابِ حرم
ہائے انسان کی انگڑائی کا خم
جب بھی اوہام مقابل آئے
مثلِ شمشیر چلی نوکِ قلم
پرِ پرواز پہ یہ راز کھلا
پستیوں سے تھا بلندی کا بھرم
غم کی دیوار گری تھی جن پر
ہم وہ لوگ ہیں اے قصرِ اِرم
چاندنی غارۂِ پائے جولاں
کہکشاں جادۂِ ابنِ آدم
ایک تارہ بھی نہ پامال ہوا
ایسے گزرے رہِ افلاک سے ہم
شکیب جلالی

کچھ تو الم ہے دل کی جگہ اور غم ہے کچھ

دیوان سوم غزل 1241
میں کیا کہوں جگر میں لہو میرے کم ہے کچھ
کچھ تو الم ہے دل کی جگہ اور غم ہے کچھ
پوشیدہ تو نہیں ہے کہ ہم ناتواں نہیں
کپڑوں میں یوں ہی تم کو ہمارا بھرم ہے کچھ
کیا اپنے دل دھڑکنے سے ہوں میں ہی دم بخود
جو دیکھتا ہے میرے تئیں سو دہم ہے کچھ
جب سے کھلی ہے نرگس مست اس کی ظلم ہے
کیا آج کل سے یار کو میل ستم ہے کچھ
بلبل میں گل میں کیا خفگی آگئی ہے میر
آمدشد نسیم سحر دم بہ دم ہے کچھ
میر تقی میر

متاعِ درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 23
بہت مِلا نہ مِلا، زندگی سے غم کیا ہے
متاعِ درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے
ہم ایک عمر سے واقف ہیں، اب نہ سمجھاؤ
کہ لطف کیا ہے مرے مہرباں، ستم کیا ہے
کرے نہ جگ میں الاؤ تو شعر کس مصرف
کرے نہ شہر میں جل تھل تو چشمِ نم کیا ہے
لحاظ میں کوئی کچھ دور ساتھ چلتا ہے
وگرنہ دہر میں اب خضر کا بھرم کیا ہے
اجل کے ہاتھ کوئی آ رہا ہے پروانہ
نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے
سجاؤ بزم، غزل گاؤ، جام تازہ کرو
’’بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے‘‘
فیض احمد فیض

ہم پہ تو دنیا کے ہر غم کا کرم ہے دوستو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 109
ان کا غم تو خیر پھر بھی ان کا غم ہے دوستو
ہم پہ تو دنیا کے ہر غم کا کرم ہے دوستو
ان سے ترک آرزو کو اک زمانہ ہو گیا
پھر بھی قائم عاشقی کا یہ بھرم ہے دوستو
کیا کسی کو بھولنا آسان ہے تم ہی بتاؤ
تم کو اپنے دلرباؤں کی قسم ہے دوستو
ہم رہے ہیں مدتوں آوارۂ دشت و چمن
پھر بھی پیروں میں وہی زنجیر رم ہے دوستو
عرفان صدیقی

یہی ہیں ہر دھرم کے ساتھ کاغذ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 160
پڑے ہیں جو قلم کے ساتھ کاغذ
یہی ہیں ہر دھرم کے ساتھ کاغذ
جلا آیا جلوسِ دانشِ دِین
شعورِ محترم کے ساتھ کاغذ
جڑے بس رہ گئے ہیں داستاں میں
ترے عہدِ ستم کے ساتھ کاغذ
یہی بس التماسِ دل کہ رکھنا
یہ دیوارِ حرم کے ساتھ کاغذ
پرندے بنتے جاتے ہیں مسلسل
ترے فضل و کرم کے ساتھ کاغذ
میانوالی میں آئے ہیں فلک سے
یہ امکانِ عدم کے ساتھ کاغذ
خود اپنے قتل نامے کا کسی کو
دیا پورے بھرم کے ساتھ کاغذ
کسی مبہم سی انجانی زباں میں
پڑے ہیں ہر قدم کے ساتھ کاغذ
الٹنے ہیں پلٹنے ہیں لحد تک
خیالِ بیش و کم کے ساتھ کاغذ
یہ وہ تہذیب ہے جو بیچتی ہے
ابھی دام و درم کے ساتھ کاغذ
کسی کو دستخط کرکے دیے ہیں
سرِ تسلیم خم کے ساتھ کاغذ
درازوں میں چھپانے پڑ رہے ہیں
کلامِ چشمِ نم کے ساتھ کاغذ
انہیں عباس نے لکھا ہے خوں سے
یہ چپکا دے علم کے ساتھ کاغذ
چمکتے پھر رہے ہیں آسماں کے
چراغِ ذی حشم کے ساتھ کاغذ
بدل جاتے ہیں اکثر دیکھتا ہوں
مری تاریخِ غم کے ساتھ کاغذ
ابد کے قہوہ خانے میں ملے ہیں
کسی تازہ صنم کے ساتھ کاغذ
ہوئے ہیں کس قدر منصور کالے
یہ شب ہائے الم کے ساتھ کاغذ
منصور آفاق

کون کرتا ہے کرم دیوانے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 220
کس توقع جئیں ہم دیوانے
کون کرتا ہے کرم دیوانے
پاسِ حالات بجا ہے لیکن
ہو نہ جائیں کہیں ہم دیوانے
اس زمانے میں وفا کا دعویٰ
خود پہ کرتے ہیں ستم دیوانے
زندگی تلخ ہوئی جاتی ہے
کھو نہ دیں اپنا بھرم دیوانے
چونک چونک اٹھے خرد کے بندے
جب بھی مل بیٹھے بہم دیوانے
ڈھونڈتے پھرتے ہیں عنواں کوئی
کر کے افسانہ رقم دیوانے
کھا گئے قحط جنوں میں باقیؔ
بیچ کر لوح و قلم دیوانے
باقی صدیقی

خود سے ہم واسطہ کم رکھتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 127
جب سے دل میں ترا غم رکھتے ہیں
خود سے ہم واسطہ کم رکھتے ہیں
شک نہ کیجے مری خاموشی پر
لوگ سو طرح کے غم رکھتے ہیں
یوں بھی ملتی ہیں وہ نظریں جیسے
اک تعلق سا بہم رکھتے ہیں
کرتے پھرتے ہیں تمہاری باتیں
یوں بھی ہم اپنا بھرم رکھتے ہیں
ہم یہ کیجے نہ بھروسہ باقیؔ
ہم خیال اپنا بھی کم رکھتے ہیں
باقی صدیقی