ٹیگ کے محفوظات: بھالی

بس قیامت اب آنے والی ہے

ہر طرف اِک لہو کی لالی ہے
بس قیامت اب آنے والی ہے
آسماں پر ہے زندگی کا دماغ
سانس اِک مستعار کیا لی ہے
جس سے پیش آئیے محبّت سے
وہ سمجھتا ہے یہ سوالی ہے
آپ جانیں اور آپ کی دُنیا
ہم نے دُنیا نئی بَسا لی ہے
ہر نظر میں ہے ایک ہی پیغام
بزمِ دل جانے کب سے خالی ہے
جِس کو قحط الرجال کہتے ہیں
کیا وہ صورت کوئی نِرالی ہے
چُپ سے ہیں اہلِ انجمن جب سے
آپ نے انجمن سنبھالی ہے
روح اور دل میں فاصلے ہیں بہت
کس نے یہ طرزِ نَو نکالی ہے؟
آؤ ضامنؔ! نئی جگہ ڈھونڈیں
یاں کی ہر چیز دیکھی بھالی ہے
ضامن جعفری

آنکھوں میں اُتری لگتی ہے صورت اِک متوالی سی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
ابرِ گریزاں سی بیگانہ، لیکن دیکھی بھالی سی
آنکھوں میں اُتری لگتی ہے صورت اِک متوالی سی
آنکھ نہ کُھل چکنے سے پہلے کیا کیا سُندر لگتی تھی
وُہ لڑکی انجانی سی، پھولوں کے رُوپ میں ڈھالی سی
کس کس بات میں کس کس پر ہم کھولیں اِس کی بیتابی
نقش ہو کس کس نامے پراپنی یہ آنکھ، سوالی سی
اوروں کو بھی مجُھ سی ہی شاید دکھلائی دیتی ہو
فصل کٹے کھیتوں جیسی ہر صورت خالی خالی سی
جانے کس کی سنگ دلی سے راہ پہ بیٹھی دیکھوں مَیں
شام تلک کشکول بنی اِک بُڑھیا بھولی بھالی سی
ماجدؔ وہ نادر ہستی بھی اَب تو خواب خیال ہوئی
از خود جھُک جانے والی جنّت کے پیڑ کی ڈالی سی
ماجد صدیقی

رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا

دیوان ششم غزل 1803
پڑا تھا شور جیسا ہر طرف اس لاابالی کا
رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا
رہے بدحال صوفی حال کرتے دیر مجلس میں
مغنی سے سنا مصرع جو میرے شعر حالی کا
نظر بھر دیکھتا کوئی تو تم آنکھیں چھپا لیتے
سماں اب یاد ہو گا کب تمھیں وہ خورد سالی کا
چمک یاقوت کی چلتی ہے اتنی دور کاہے کو
اچنبھا ہے نظر بازوں کو ان ہونٹوں کی لالی کا
پھرے بستی میں رویت کچھ نہیں افلاس سے اپنی
الہٰی ہووے منھ کالا شتاب اس دست خالی کا
دماغ اپنا تو اپنی فکر ہی میں ہوچکا یکسر
خیال اب کس کو ہے اے ہمنشیں نازک خیالی کا
ذلیل و خوار ہیں ہم آگے خوباں کے ہمیشہ سے
پریکھا کچھ نہیں ہے ہم کو ان کی جھڑکی گالی کا
ڈرو چونکو جو چسپاں اختلاطی تم سے ہو مجھ کو
تشتّت کیا ہے میری دور کی اس دیکھا بھالی کا
نہ پہنچی جو دعاے میر واں تک تو عجب کیا ہے
علوے مرتبہ ہے بسکہ اس درگاہ عالی کا
میر تقی میر

گرہ میں اعترافِ جرم ہے اور ہاتھ خالی ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 356
یہی بس چار نعتیں تھیں جو سینے پر سجالی ہیں
گرہ میں اعترافِ جرم ہے اور ہاتھ خالی ہیں
وہی تیرا تمدن ہے بنو ہاشم کی گلیوں میں
امیہ کے نسب نے تازہ تہذیبیں بنا لی ہیں
ترؐے مذہب میں گنجائش نہیں تھی زرکی سو ہم نے
گھروں سے اشرفیاں ، شام سے پہلے نکالی ہیں
مجھے محسوس ہوتا ہے مدینہ آنے والا ہے
لبوں پر کپکپاہٹ ہے یہ آنکھیں رونے والی ہیں
نگاہیں دیکھتی تھیں کتنے سچے خواب یثرب کے
یہ پہچانے ہوئے گھر ہیں یہ گلیاں دیکھی بھالی ہیں
وہی لاہوتی کیفیت اترتی ہے رگ و پے میں
وہی نوری فضائیں ہیں وہی صبحیں نرالی ہیں
کوئی قوسِ قزح سی بھر گئی منصور آنکھوں میں
حریمِ رحمتِ عالم کے کیا رنگِ جمالی ہیں
منصور آفاق