ٹیگ کے محفوظات: بھاتا

جھونکے سے جانے کیا اپنا ناتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
کُنجِ قفس تک بھی خوشبو سی لاتا ہے
جھونکے سے جانے کیا اپنا ناتا ہے
پِٹوا کر سہلائے یُوں ہر پنیچ ہمیں
بالغ جیسے بچّے کو بہلاتا ہے
ظالم کے ہتھے جو بھی اِک بار چڑھے
جیون بھرُوہ اُس کے ہی گُن گاتا ہے
پنچھی سوچیں اَب وُہ ایکا کرنے کی
جو ایکا مرگِ انبوہ دکھاتا ہے
سینت کے رکھے صید نہ اپنا زورآور
شیر کے من کو تازہ خون ہی بھاتا ہے
جس کے سر تھا خون کسی کا شخص وُہی
اَب قبروں پر پھول چڑھانے آتا ہے
ماجدؔ بھی کیا سادہ ہے اخلاص پہ جو
رہ رہ کر اِس دَور میں بھی اِتراتا ہے
ماجد صدیقی

وہ ستمگر اس ستم کش کو ستاتا ہے بہت

دیوان ششم غزل 1815
جو کوئی اس بے وفا سے دل لگاتا ہے بہت
وہ ستمگر اس ستم کش کو ستاتا ہے بہت
اس کے سونے سے بدن سے کس قدر چسپاں ہے ہائے
جامہ کبریتی کسو کا جی جلاتا ہے بہت
کیا پس از چندے مری آوارگی منظور ہے
مو پریشاں اب جو شب مجھ پاس آتا ہے بہت
چاہ میں بھی بیشتر جانے سے کم ہوتا ہے وقر
اس لیے جاتا ہوں تب جب وہ بلاتا ہے بہت
گرچہ کم جاتا ہوں پر دل پر نہیں کچھ اختیار
وہ کجی سے سیدھیاں مجھ کو سناتا ہے بہت
بھول جاوے گا سخن پردازی اس کے سامنے
شاعری سے جو کوئی باتیں بناتا ہے بہت
بامزہ معشوق کیا کم ہیں پر اس کو کیا کروں
ناز و انداز اس ہی کا جو مجھ کو بھاتا ہے بہت
وہ نہیں ہجراں میں اس بن خواب خوش آوے مجھے
اب خیال اس کی طرف ہر لحظہ جاتا ہے بہت
کیا کروں کہنے لگا ایدھر نہ آنے پائے وہ
بد کہیں ہنگامہ آرا میر آتا ہے بہت
میر تقی میر

آخر اب دوری میں جی جاتا رہا

دیوان چہارم غزل 1334
عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا
آخر اب دوری میں جی جاتا رہا
مہر و مہ گل پھول سب تھے پر ہمیں
چہرئی چہرہ ہی وہ بھاتا رہا
دل ہوا کب عشق کی رہ کا دلیل
میں تو خود گم ہی اسے پاتا رہا
منھ دکھاتا برسوں وہ خوش رو نہیں
چاہ کا یوں کب تلک ناتا رہا
کچھ نہ میں سمجھا جنون و عشق میں
دیر ناصح مجھ کو سمجھاتا رہا
داغ تھا جو سر پہ میرے شمع ساں
پائوں تک مجھ کو وہی کھاتا رہا
کیسے کیسے رک گئے ہیں میر ہم
مدتوں منھ تک جگر آتا رہا
میر تقی میر

ہم کو یہ تیر ماہ جاتا ہے

دیوان سوم غزل 1270
تیر جوڑے وہ ماہ آتا ہے
ہم کو یہ تیر ماہ جاتا ہے
گل کو سر پر رکھیں سبھی لیکن
اب دماغ اپنا کب اٹھاتا ہے
اپنا اپنا ہے ذائقہ ہم کو
بوسۂ کنج لب ہی بھاتا ہے
آتش عشق جس کے دل کو لگے
شمع ساں آپ ہی کو کھاتا ہے
دیکھنا ہے تو ہے بہم پر وہ
ہم سے آنکھوں کو کب ملاتا ہے
میری تو ہے پلک سے چھوٹی نگاہ
اور وہ اس پہ منھ چھپاتا ہے
میر صناع ہے ملو اس سے
دیکھو تو باتیں کیا بناتا ہے
میر تقی میر