ٹیگ کے محفوظات: بھائے

یکسر ان نامردوں کو جو ایک ہی تک تک پا میں اٹھائے

دیوان پنجم غزل 1750
عشق اگر ہے مرد میداں مرد کوئی عرصے میں لائے
یکسر ان نامردوں کو جو ایک ہی تک تک پا میں اٹھائے
کار عدالت شہر کا ہم کو اک دن دو دن ہووے تو پھر
چاروں اور منادی کریے کوئی کسی سے دل نہ لگائے
پر کے اسیر دام ہوئے تھے نکلے ٹوٹی شکن کی راہ
اب کے دیکھیں موسم گل کا کیسے کیسے شگوفے لائے
بھوکے مرتے مرتے منھ میں تلخی صفرا پھیل گئی
بے ذوقی میں ذوق کہاں جو کھانا پینا مجھ کو بھائے
گھر سے نکل کر کھڑے کھڑے پھر جاتا ہوں میں یعنی میر
عشق و جنوں کا آوارہ حیران پریشاں کیدھر جائے
میر تقی میر

پر اس بغیر اپنے تو جی کو نہ بھائے گل

دیوان سوم غزل 1163
اب کے ہزار رنگ گلستاں میں آئے گل
پر اس بغیر اپنے تو جی کو نہ بھائے گل
بلبل کو ناز کیوں نہ خیابان گل پہ ہو
کیا جانے جن نے چھاتی پہ بھر کر نہ کھائے گل
کب تک حنائی پائوں بن اس کے یہ بے کلی
لگ جائے ٹک چمن میں کہیں آنکھ پاے گل
ناچار ہو چمن میں نہ رہیے کہوں ہوں جب
بلبل کہے ہے اور کوئی دن براے گل
چلیے بغل میں لے کے گلابی کسو طرف
دامان دل کو کھینچے ہے ساقی ہواے گل
پگڑی میں پھول رکھتے ہیں رعنا جوان شہر
داغ جنوں ہی سر پہ رہا یاں بجاے گل
بلبل کو کیا سنے کوئی اڑ جاتے ہیں حواس
جب دردمند کہتی ہے دم بھر کے ہائے گل
سویا نہ وہ بدن کی نزاکت سے ساری رات
بستر پہ اس کے خواب کے کن نے بچھائے گل
مصروف یار چاہیے مرغ چمن سا ہو
دل نذر و دیدہ پیش کش و جاں فداے گل
ہم طرح آشیاں کی نہ گلشن میں ڈالتے
معلوم ہوتی آگے جو ہم کو وفاے گل
چسپاں لباس ہوتے ہیں لیکن نہ اس قدر
ہے چاک رشک جامہ سے اس کے قباے گل
کیا سمجھے لطف چہروں کے رنگ و بہار کا
بلبل نے اور کچھ نہیں دیکھا سواے گل
تھا وصف ان لبوں کا زبان قلم پہ میر
یا منھ میں عندلیب کے تھے برگ ہاے گل
میر تقی میر

دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت

دیوان سوم غزل 1117
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
جب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیے
ہم تو اپنی اور سے آئے بہت
دیر سے سوے حرم آیا نہ ٹک
ہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے
پر ہمیں ان میں تمھیں بھائے بہت
گر بکا اس شور سے شب کو ہے تو
روویں گے سونے کو ہمسائے بہت
وہ جو نکلا صبح جیسے آفتاب
رشک سے گل پھول مرجھائے بہت
میر سے پوچھا جو میں عاشق ہو تم
ہوکے کچھ چپکے سے شرمائے بہت
میر تقی میر