ٹیگ کے محفوظات: بگھاری

آنکھیں ہی چلی گئیں ہماری

پڑھنی تھی کتابِ زیست ساری
آنکھیں ہی چلی گئیں ہماری
تھی آج تو بات ہی کچھ اور
تصویر اُتارتے تمہاری
ہیں چار طرف کے راستے بند
گزرے گی یہاں سے اک سواری
خوش ہو گئے دو گھڑی کچھ یار
سُبکی تو بہت ہوئی ہماری
ثابت کرو اپنے دعوے باصرِؔ
شیخی تو جناب نے بگھاری
باصر کاظمی