ٹیگ کے محفوظات: بگولوں

لہُو میں رنگ دیا آج اسے بَبُولوں نے

چُھوا نہ تھا کبھی جس پیرہن کو پھولوں نے
لہُو میں رنگ دیا آج اسے بَبُولوں نے
سنا تھا دشتِ اَلَم سے گزرنا مشکل ہے
ہمیں نہ روک لیا ناچتے بگولوں نے!
قفس نشینوں کو جا کر صبا بتا دینا
تمھیں سلام کہا ہے مہکتے پھولوں نے
برنگِ طائرِ بے دام، اڑتے پھرتے تھے
ہمیں اسیر کیا اپنے ہی اُصولوں نے
شکیبؔ! زہرِ ہلاہل بھی پی لیا ہنس کر
ہمیں سبق وہ دیا عشق کے رسولوں نے
شکیب جلالی