ٹیگ کے محفوظات: بک

عشق کی مے سے چھک رہے ہیں ہم

دیوان دوم غزل 854
کچھ نہ پوچھو بہک رہے ہیں ہم
عشق کی مے سے چھک رہے ہیں ہم
سوکھ غم سے ہوئے ہیں کانٹا سے
پر دلوں میں کھٹک رہے ہیں ہم
وقفۂ مرگ اب ضروری ہے
عمر طے کرتے تھک رہے ہیں ہم
کیونکے گرد علاقہ بیٹھ سکے
دامن دل جھٹک رہے ہیں ہم
کون پہنچے ہے بات کی تہ کو
ایک مدت سے بک رہے ہیں ہم
ان نے دینے کہا تھا بوسۂ لب
اس سخن پر اٹک رہے ہیں ہم
نقش پا سی رہی ہیں کھل آنکھیں
کس کی یوں راہ تک رہے ہیں ہم
دست دے گی کب اس کی پابوسی
دیر سے سر پٹک رہے ہیں ہم
بے ڈھب اس پاس ایک شب تھے گئے
سو کئی دن سرک رہے ہیں ہم
خام دستی نے ہائے داغ کیا
پوچھتے کیا ہو پک رہے ہیں ہم
میر شاید لیں اس کی زلف سے کام
برسوں سے تو لٹک رہے ہیں ہم
میر تقی میر

طلسمِ شب ہے سحر تک بلائیں حاکم ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 371
دیارِ گل میں بھیانک بلائیں حاکم ہیں
طلسمِ شب ہے سحر تک بلائیں حاکم ہیں
سفید پوش ہیں سہمے ہوئے مکانوں میں
گلی میں پھرتی ہے کالک بلائیں حاکم ہیں
یہاں سے ہجرتیں کرنی ہیں خوش دماغوں نے
یہاں ہے موت کی ٹھنڈک بلائیں حاکم ہیں
یہ گفتگو سے سویرے طلوع کرتی ہیں
وطن پہ رات کی زیرک بلائیں حاکم ہیں
نکل پڑے ہیں ہزاروں سگانِ آدم خور
کھلے ہیں موت کے پھاٹک بلائیں حاکم ہیں
وہ ساری روشنیوں کی سہانی آوازیں
تھا اقتدار کا ناٹک بلائیں حاکم ہیں
جو طمطراق سے جالب کے گیت گاتی ہیں
وہ انقلاب کی گاہک بلائیں حاکم ہیں
کسی چراغ میں ہمت نہیں ہے جلنے کی
بڑا اندھیرا ہے بے شک بلائیں حاکم ہیں
سعودیہ سے ہواہے نزولِ پاک ان کا
چلو وطن میں مبارک بلائیں حاکم ہیں
خدا کے نام دھماکے نبیؐ کے نام فساد
بنامِ دین ہے بک بک بلائیں حاکم ہیں
یہ مال و زر کی پجاری ہیں وقت کی قارون
نہیں ہے مذہب و مسلک بلائیں حاکم ہیں
نظر نہ آئیں سہولت سے آنکھ کو منصور
لگا کے دیکھئے عینک بلائیں حاکم ہیں
منصور آفاق

جنت کے بنگلے کا پھاٹک اور شراب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 132
ایک شرابی ہاتھ کی دستک اور شراب
جنت کے بنگلے کا پھاٹک اور شراب
پیاس ہوائے شام میں اپنے بین کرے
ابر ہے بامِ ذات کی حد تک اور شراب
مجھ سے تیری یادیں چھین نہیں سکتے
اُس بازار کے سارے گاہک اور شراب
سات سمندر پار کا ایک پرانا کوٹ
بیچ سڑک کے ٹوٹی عینک اور شراب
سناٹوں کی آوازوں کا ایک ہجوم
شور میں گم ہو جانے کا شک اور شراب
تیری گلی آوازِ سگاں ، مجذوب ضمیر
ڈوب رہی ہے رات کی کالک اور شراب
عمر ہوئی میخانے کے دروازے پر
دست و گریباں میرا مسلک اور شراب
رات کے پچھلے پہر لہو کی صورت تھے
میری رگوں میں گھنگرو ڈھولک اور شراب
کھلتا سرخ سا فیتہ، دوشیزہ فائل
انٹر کام کی بجتی دستک اور شراب
دیکھ کے موسم خود ہی بچھتے جاتے ہیں
صحرا کی سہ پہر میں اجرک اور شراب
ایک گلی میں دو دیواریں ہیں منصور
ساتھ مری بے مقصد بک بک اور شراب
منصور آفاق