ٹیگ کے محفوظات: بکایا

اس آگ نے بھڑک کر دربست گھر جلایا

دیوان دوم غزل 723
سوز دروں سے آخر بھسمنت دل کو پایا
اس آگ نے بھڑک کر دربست گھر جلایا
جی دے کے لیتے ایسے معشوق بے بدل کو
یوسفؑ عزیز دلہا سستا بہت بکایا
زلف سیاہ اس کی جاتی نہیں نظر سے
اس چشم رو سیہ نے روز سیہ دکھایا
نام اس کا سن کے آنسو گر ہی پڑے پلک سے
دل کا لگائو یارو چھپتا نہیں چھپایا
تھا لطف زیست جن سے وے اب نہیں میسر
مدت ہوئی کہ ہم نے جینے سے ہاتھ اٹھایا
مہندی لگی تھی تیرے پائوں میں کیا پیارے
ہنگام خون عاشق سر پر جو تو نہ آیا
یہ پیروی کسو سے کاہے کو ہوسکے ہے
رکھتا ہے داغ ہم کو قامت کا اس کی سایا
دیکھی نہ پیش جاتے ہرگز خردوری میں
دانستہ بائولا ہم اپنے تئیں بنایا
رہتی تھی بے دماغی اک شور ما و من میں
آنکھوں کے مند گئے پر آرام سا تو پایا
گل پھول سے بھی تو جو لیتا ہے منھ کو پھیرے
مکھڑے سے کس کے تونے اے میر دل لگایا
میر تقی میر

یا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا

دیوان اول غزل 50
غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا
یا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا
ان نے تو مجھ کو جھوٹے بھی پوچھا نہ ایک بار
میں نے اسے ہزار جتایا تو کیا ہوا
خواہاں نہیں وہ کیوں ہی میں اپنی طرف سے یوں
دل دے کے اس کے ہاتھ بکایا تو کیا ہوا
اب سعی کر سپہر کہ میرے موئے گئے
اس کا مزاج مہر پہ آیا تو کیا ہوا
مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد
دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا
میں صید ناتواں بھی تجھے کیا کروں گا یاد
ظالم اک اور تیر لگایا تو کیا ہوا
کیا کیا دعائیں مانگی ہیں خلوت میں شیخ یوں
ظاہر جہاں سے ہاتھ اٹھایا تو کیا ہوا
وہ فکر کر کہ چاک جگر پاوے التیام
ناصح جو تونے جامہ سلایا تو کیا ہوا
جیتے تو میر ان نے مجھے داغ ہی رکھا
پھر گور پر چراغ جلایا تو کیا ہوا
میر تقی میر