ٹیگ کے محفوظات: بڑے

حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 71
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے وہ
حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ
بُھولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ
راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ!
کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ
اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ
الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات
خوشبو سی برسنے لگی، یوں پُھول جھڑے وہ
ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں
سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ
بچے کی طرح چاند کو چُھونے کی تمنا
دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ
طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے
کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ
پروین شاکر

روزے رکھے غریبوں نے تو دن بڑے ہوئے

دیوان پنجم غزل 1745
گردش دنوں کی کم نہ ہوئی کچھ کڑے ہوئے
روزے رکھے غریبوں نے تو دن بڑے ہوئے
نرمی سے کوے یار میں جاوے تو جا نسیم
ایسا نہ ہو کہ اکھڑیں کہیں دل گڑے ہوئے
آہن دلوں نے مارا ہے جی غم میں ان کے ہم
پھرتے ہیں نعل سینوں پر اپنے جڑے ہوئے
آئے ہو بعد صلح کبھو ناز سے تو یاں
منھ پھیر ادھر سے بیٹھے ہو جیسے لڑے ہوئے
بیمار امیدوار سے بستر پہ اپنے ہم
دروازے ہی کی اور تکیں ہیں پڑے ہوئے
بار اس کی بزم میں نہیں ناچار در پہ ہم
رہتے ہیں جیسے صورت دیوار اڑے ہوئے
ہم زیر تیغ بیٹھے تھے پر وقت قتل میر
وے ٹک ہمارے پاس نہ آکر کھڑے ہوئے
میر تقی میر

یہ بات ایسی کیا ہے جس پر الجھ پڑے ہو

دیوان سوم غزل 1231
زلفوں کو میں چھوا سو غصے ہوئے کھڑے ہو
یہ بات ایسی کیا ہے جس پر الجھ پڑے ہو
منھ پھیر پھیر لو ہو ہر بات میں ادھر سے
یاں کس ستم زدہ سے آزردہ ہو لڑے ہو
نرمی مخالفوں سے سختی موافقوں سے
واں موم سے بنے ہو یاں لوہے سے کڑے ہو
مل جائو مغبچوں سے تو داڑھی ہو تبرک
ہر چند شیخ صاحب تم بوڑھے ہو بڑے ہو
ہوتے ہیں خاک رہ بھی لیکن نہ میر ایسے
رستے میں آدھے دھڑ تک مٹی میں تم گڑے ہو
میر تقی میر

ایک ایک سخت بات پہ برسوں اڑے رہے

دیوان اول غزل 527
جب تک کڑی اٹھائی گئی ہم کڑے رہے
ایک ایک سخت بات پہ برسوں اڑے رہے
اب کیا کریں نہ صبر ہے دل کو نہ جی میں تاب
کل اس گلی میں آٹھ پہر غش پڑے رہے
وہ گل کو خوب کہتی تھی میں اس کے رو کے تیں
بلبل سے آج باغ میں جھگڑے بڑے رہے
فرہاد و قیس ساتھ کے سب کب کے چل بسے
دیکھیں نباہ کیونکے ہو اب ہم چھڑے رہے
کس کے تئیں نصیب گل فاتحہ ہوئے
ہم سے ہزاروں اس کی گلی میں گڑے رہے
برسوں تلک نہ آنکھ ملی ہم سے یار کی
پھر گوکہ ہم بصورت ظاہر اڑے رہے
یعنی کہ اپنے عشق کے حیران کار میر
دیوار کے سے نقش در اوپر کھڑے رہے
میر تقی میر

پلٹ کے ہم جو گئے توگلیوں میں چاند تارے پڑے ہوئے تھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 586
گئی رتوں کے جو ہمسفر تھے چراغ لے کر کھڑے ہوئے تھے
پلٹ کے ہم جو گئے توگلیوں میں چاند تارے پڑے ہوئے تھے
اداس کتنا وہی مکاں تھاخود آپ گزروں کی داستاں تھا
بڑے بڑوں کی کہانیاں ہم جہاں پہ سن کر بڑے ہوئے تھے
جہاں جہاں سے گزر رہا تھا خزاں کی باچھیں کھلی ہوئی تھی
مرے نظر کے شجر برہنہ تھے مردہ پتے جھڑے ہوئے تھے
یہ کیسے ممکن تھا ساتھ چلتے ،یہ کیسے ممکن رات ڈھلتی
انہیں چراغوں سے بیر ساتھامجھے اندھیرے لڑے ہوئے تھے
جو عمر میں نے بسر نہیں کی، سنائی دیتی تھی ہر گلی سے
کئی فسانے بنے ہوئے تھے ہزار قصے گھڑے ہوئے تھے
وہیں پہ راتوں پچھلے پہروں خدا سے ہوتی تھی گفتگو بھی
وہ ایک کمرہ کہ جس کی چھت پرتنے شجر کے چڑھے ہوئے تھے
منصور آفاق

عمر کی جیپ کے ٹائر تلے آئے ہوئے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 382
جسم پر نقش گئے وقت کے آئے ہوئے ہیں
عمر کی جیپ کے ٹائر تلے آئے ہوئے ہیں
ہم سمجھتے ہیں بہت، لہجے کی تلخی کو مگر
تیرے کمرے میں کسی کام سے آئے ہوئے ہیں
دیکھ مت بھیج یہ میسج ہمیں موبائل پر
ہم کہیں دور بہت روٹھ کے آئے ہوئے ہیں
ہم نہیں جانتے روبوٹ سے کچھ وصل وصال
ہم ترے چاند پہ شاید نئے آئے ہوئے ہیں
پھر پگھلنے کو ہے بستی کوئی ایٹم بم سے
وقت کی آنکھ میں کچھ سانحے آئے ہوئے ہیں
ڈھونڈنے کے لیے گلیوں میں کوئی عرش نشیں
تیرے جیسے تو فلک سے بڑے آئے ہوئے ہیں
ہم سے چرواہوں کو تہذیب سکھانے کے لیے
دشت میں شہر سے کچھ بھیڑیے آئے ہوئے ہیں
کیا کریں اپنی رندھی ، زرد ، فسردہ آواز
غول کے غول یہاں بھونکنے آئے ہوئے ہیں
تجھ سے کچھ لینا نہیں ، دیکھ ! پریشان نہ ہو
ہم یہاں گزری رتیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں
تھوڑی تھوڑی سی خوشی بانٹنے والے شاید
کوئی تبدیلی بڑی روکنے آئے ہوئے ہیں
اتنا کافی ہے تجھے بات سمجھنے کیلئے
ہم یہاں آئے نہیں ہیں بھلے آئے ہوئے ہیں
ہم محبت کے کھلاڑی ہیں سنوکر کے نہیں
کھیل منصور یونہی کھیلنے آئے ہوئے ہیں
منصور آفاق

یہ ابھی جسم سے جھڑے ہیں سانپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 245
یہ جو پندار کے پڑے ہیں سانپ
یہ ابھی جسم سے جھڑے ہیں سانپ
کیا خزانہ تلاش کرتے ہو
اس کنویں میں بڑے بڑے ہیں سانپ
ہر قدم پر خدا کی بستی میں
مسئلوں کی طرح کھڑے ہیں سانپ
کم ہوئی کیا مٹھاس پانی کی
کتنے دریاؤں کو لڑے ہیں سانپ
اب بھی ڈرتا ہے آدمی ان سے
وہ جو تاریخ میں گڑے ہیں سانپ
ایک فوسل کی شکل میں منصور
کچھ مزاروں پہ بھی جڑے ہیں سانپ
منصور آفاق