ٹیگ کے محفوظات: بڑھائے

جس کو شبہ ہووے نہ ہرگز جی کے ہمارے جائے سے

دیوان پنجم غزل 1744
اس مغرور کو کیا ہوتا ہے حال شکستہ دکھائے سے
جس کو شبہ ہووے نہ ہرگز جی کے ہمارے جائے سے
کیسا کیسا ہوکے جدا پہلو سے اس بن تڑپا ہے
کیا پوچھو ہو آئی قیامت سر پر دل کے لگائے سے
یمن تجرد سے میں اپنے روز جہاں سے گذرتا ہوں
وحشت ہے خورشید نمط اپنے بھی مجھ کو سائے سے
ہر کوے و ہر برزن میں یا پہر پہر وہ جویاں تھا
یا اب ننگ اسے آتا ہے پاس ہمارے آئے سے
ایک جراحت کیا تسکیں دے موت کے بھوکے صید کے تیں
شاید دل ہو تسلی اس کا زخم دگر کے کھائے سے
رنج و عنا پر درد و بلا پر صبر کیے ہم بیٹھے ہیں
کلفت الفت جاتی رہی کیا جور و ستم کے اٹھائے سے
اول تو آتے ہی نہیں ہو اور کبھو جو آتے ہو
نیچی آنکھیں کیے پھرتے ہو مجلس میں شرمائے سے
جھگڑا ناز و نیاز کا سن کر بے مزہ ہم سے تم تو ہوئے
میر سخن کو طول نہ دو بس بات بڑھے ہے بڑھائے سے
میر تقی میر

اگر وہ سنگ نہیں ہے تو مسکرائے بھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 226
چراغِ خانۂ افسردگاں جلائے بھی
اگر وہ سنگ نہیں ہے تو مسکرائے بھی
وہ چاند ہے تو مرے بام پر طلوع بھی ہو
ستارہ ہے تو مری شام جگمگائے بھی
وہ پھول ہے تو مری شاخِ جاں بھی مہکائے
اگر ہوا ہے تو میرے بدن تک آئے بھی
وہ شعلہ ہے تو مجھے خاک بھی کرے آخر
اگر دیا ہے تو کچھ اپنی لو بڑھائے بھی
سخن سرا ہے تو مجھ سے مکالمہ بھی کرے
گلہ سنے بھی اور اپنی غزل سنائے بھی
عرفان صدیقی