ٹیگ کے محفوظات: بڑا

اب شاعری کو چاہیے اک دوسرا دماغ

اس فکرِ روزگار میں سب کھَپ گیا دماغ
اب شاعری کو چاہیے اک دوسرا دماغ
اب کوئی بات ٹھیک سے رہتی نہیں ہے یاد
وہ دل کہاں چلا گیا اور کیا ہُوا دماغ
اُٹھا جو یہ سوال کہ ثالث کسے بنائیں
میں نے کہا کہ دل سہی اُس نے کہا دماغ
تھا دل تو چیز کیا صفِ مژگاں کے سامنے
اس معرکے میں شکر یہ ہے بچ گیا دماغ
باصرِؔ یہ آدمی بھی ہے کتنی عجیب چیز
اِتنے سے اِس کے سَر میں ہے کتنا بڑا دماغ
باصر کاظمی

مُسکرا کر ہمیں مِلا کیجے

آپ برہم نہ یوں ہوا کیجے
مُسکرا کر ہمیں مِلا کیجے
خوب صورت اگر دِکھائی دیں
ہم پہ پتھّر اُٹھا لیا کیجے
حُسن حیرت کا پیش خیمہ ہے
اِس عقیدے پہ سر دُھنا کیجے
ہم تکلّف کو بھول جاتے ہیں
آپ بھی دل ذرا بڑا کیجے
یہ ہے دنیا یہاں شکاری ہیں
اپنے اندر ہی اب اُڑا کیجے
سب درختوں پہ بُور آنے لگے
یار! ایسی کوئی دُعا کیجے
بات کرنا اگر نہیں آتا
خامشی کو ہرا بھرا کیجے
افتخار فلک

صحرا میں یہ موجۂ صبا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
ہونٹوں پہ جو بول پیار کا ہے
صحرا میں یہ موجۂ صبا ہے
پُونجی کسی بُلبُلے کی جیسے
اِس زیست میں اور کیا دھرا ہے
باز آئے نہ لوٹنے سے سورج
دیکھاہے یہی، یہی سُنا ہے
بندھنی ہے جو آتے موسموں میں
اپنے ہی سخن کی وُہ ہوا ہے
ہر میمنہ گُرگ سے کہے یہ
جو آپ کہیں وُہی بجا ہے
سہہ جائے تُو تُند و تُرش کیا کیا
ماجِد ترا حوصلہ بڑا ہے
ماجد صدیقی

یہ بڑا چودھری، وہ بڑا چودھری، اُس سے آگے بھی ہے اِک بڑا چودھری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
سر اُٹھانے کی رہ میں ہمارے لئے ہر کہیں ہے کڑے سے کڑا چودھری
یہ بڑا چودھری، وہ بڑا چودھری، اُس سے آگے بھی ہے اِک بڑا چودھری
ریوڑوں پر جھپٹتے ہوئے گُرگ سا آنگنوں گھونسلوں میں گُھسے سانپ سا
جھونپڑے جس جگہ بھی دکھائی دیئے، اُن میں دیکھا اکڑتا، کھڑا چودھری
سبزۂ زیرِ سنگِ گراں نے ذرا سر اُٹھایا جہاں اُس کا جی جل اٹھا
صورتِ حال ایسی جہاں بھی ملی، اُس سے ہے مخمصوں میں پڑا چودھری
نام سے اِک اسی کے تھی منسوب جو، لہلہاتی فضا میں، پتنگ اوج کی
ڈور ہاتھوں سے اُس کی نکلتے ہوئے دیکھ کر ہے زمیں میں گڑا چودھری
خوں میں اُترا نشہ چودھراہٹ کا وہ، دیکھ سکتا تھا کیسے بھلا ٹُوٹتے
لے کے پلٹا ہے وہ، انتقام اونٹ سا، ایسی ہٹ پر جہاں بھی اڑا چودھری
زیردستوں کو رن میں دھکیلا کِیا، آن سے، جان سے اُن کی کھیلا کیا
پر جو ماجدؔ ہوئے اُس سے روکش ذرا، اُن سے آخر تلک ہے لڑا چودھری
ماجد صدیقی

ہزار زخم سہے، اور دل بڑا رکھا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 11
کبھی کسی سے نہ ہم نے کوئی گلہ رکھا
ہزار زخم سہے، اور دل بڑا رکھا
چراغ یوں تو سرِ طاقِ دل کئی تھے مگر
تمہاری لَو کو ہمیشہ ذرا جدا رکھا
خرد سے پوچھا، جنوں کا معاملہ کیا ہے؟
جنوں کے آگے خرد کا معاملہ رکھا
ہزار شکر ترا، اے مرے خدائے جنوں
کہ مجھ کو راہِ خرد سے گریزپا رکھا
خیال روح کے آرام سے ہٹایا نہیں
جو خاک تھا سو اُسے خاک میں ملا رکھا
چھپا ہُوا نہیں تجھ سے دلِ تباہ کا حال
یہ کم نہیں کہ ترے رنج کو بچا رکھا
وہ ایک زلف کہ لپٹی رہی رگِ جاں سے
وہ اک نظر کہ ہمیں جس نے مبتلا رکھا
بس ایک آن میں گزرا میں کس تغیّر سے
کسی نے سر پہ توجّہ سے ہاتھ کیا رکھا
سنائی اپنی کہانی بڑے قرینے سے
کہیں کہیں پہ فسانے میں واقعہ رکھا
سنا جو شور کہ وہ شیشہ گر کمال کا ہے
تو ہم لپک کے گئے اور قلب جا رکھا
میں جانتا تھا کہ دنیا جو ہے، وہ ہے ہی نہیں
سو خود کو خواہشِ دنیا سے ماورا رکھا
مرے جنوں نے کیے رد وجود اور عدم
الگ ہی طرح سے ہونے کا سلسلہ رکھا
خوشی سی کس نے ہمیشہ ملال میں رکھی؟
خوشی میں کس نے ہمیشہ ملال سا رکھا؟
یہ ٹھیک ہے کہ جو مجھ پاس تھا، وہ نذر کیا
مگر یہ دل کہ جو سینے میں رہ گیا رکھا؟
کبھی نہ ہونے دیا طاقِ غم کو بے رونق
چراغ ایک بجھا، اور دوسرا رکھا
نگاہ دار مرا تھا مرے سِوا نہ کوئی
سو اپنی ذات پہ پہرا بہت کڑا رکھا
تُو پاس تھا، تو رہے محو دیکھنے میں تجھے
وصال کو بھی ترے ہجر پر اٹھا رکھا
ترا جمال تو تجھ پر کبھی کھلے گا نہیں
ہمارے بعد بتا آئینے میں کیا رکھا؟
ہر ایک شب تھا یہی تیرے خوش گمان کا حال
دیا بجھایا نہیں اور در کھلا رکھا
ہمی پہ فاش کیے راز ہائے حرف و سخن
تو پھر ہمیں ہی تماشا سا کیوں بنا رکھا؟
ملا تھا ایک یہی دل ہمیں بھی آپ کو بھی
سو ہم نے عشق رکھا، آپ نے خدا رکھا
خزاں تھی، اور خزاں سی خزاں، خدا کی پناہ
ترا خیال تھا جس نے ہرا بھرا رکھا
جو ناگہاں کبھی اذنِ سفر ملا عرفان
تو فکر کیسی کہ سامان ہے بندھا رکھا
عرفان ستار

نہ جدا ہو کے پھر ملا افسوس

دیوان پنجم غزل 1629
یار ہم سے جدا ہوا افسوس
نہ جدا ہو کے پھر ملا افسوس
جب تلک آن کر رہے مجھ پاس
مجھ میں تب تک نہ کچھ رہا افسوس
دل میں حسرت گرہ ہے رخصت کی
چلتے ان نے نہ کچھ کہا افسوس
کیا تدارک ہے عشق میں دل کا
میں بلا میں ہوں مبتلا افسوس
سب سے بیگانگی کی جس کے لیے
وہ نہیں ہم سے آشنا افسوس
رات دن ہاتھ ملتے رہتے ہیں
دل کے جانے کا ہے بڑا افسوس
باچھیں پھٹ پھٹ گئیں ہیں گھگھیاتے
بے اثر ہو گئی دعا افسوس
مجھ کو کرنا تھا احتراز اس سے
ہائے افسوس کیا کیا افسوس
نوش دارو ہے نیش دارو میر
متاثر نہیں دوا افسوس
میر تقی میر

الٰہی غنچہ ہے پژمردہ یا دل

دیوان سوم غزل 1164
نہ ٹک واشد ہوئی جب سے لگا دل
الٰہی غنچہ ہے پژمردہ یا دل
نہ اس سے یاں تئیں آیا گیا حیف
رہے ہم جب تلک اس میں رہا دل
اٹھایا داغ لالہ نے چمن سے
کروں کیا دیکھتے ہی جل گیا دل
نہیں کم رایت اقبال شہ سے
علم اپنا یہ دنیا سے اٹھا دل
ہمارا خاص مشرب عشق اس میں
پیمبر دل ہے قبلہ دل خدا دل
ہمارے منھ پہ طفل اشک دوڑا
کیا ہے اس بھی لڑکے نے بڑا دل
سبھوں سے میر بیگانے سے رہتے
جو ہوتا اس سے کچھ بھی آشنا دل
میر تقی میر

کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

دیوان اول غزل 605
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے
شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی
کہ مقدور تک تو دوا کر چلے
پڑے ایسے اسباب پایان کار
کہ ناچار یوں جی جلاکر چلے
وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے
ہر اک چیز سے دل اٹھاکر چلے
کوئی ناامیدانہ کرتے نگاہ
سو تم ہم سے منھ بھی چھپاکر چلے
بہت آرزو تھی گلی کی تری
سو یاں سے لہو میں نہاکر چلے
دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
جبیں سجدے کرتے ہی کرتے گئی
حق بندگی ہم ادا کر چلے
پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے
جھڑے پھول جس رنگ گلبن سے یوں
چمن میں جہاں کے ہم آکر چلے
نہ دیکھا غم دوستاں شکر ہے
ہمیں داغ اپنا دکھاکر چلے
گئی عمر در بند فکر غزل
سو اس فن کو ایسا بڑا کر چلے
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے
میر تقی میر

یا قلم کی ہمت سے واقعہ بڑا ہے کیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 90
ذات کی نظربندی میں ادب پڑا ہے کیا
یا قلم کی ہمت سے واقعہ بڑا ہے کیا
بھر گیا ہے لاشوں سے ،آئینہ خراشوں سے
اپنے آپ سے کوئی رات بھر لڑا ہے کیا
عین ہیں اکائی میں خط و قوس ابجد کے
اُس نے عین فرصت میں وہ بدن گھڑا ہے کیا
اپنے آپ کو دیکھوں اور دیکھتا جاؤں
آئینے کے اندر بھی آئینہ جڑا ہے کیا
عزم لے کے جاتا ہوں اور لوٹ آتا ہوں
سنگِ میل قسمت کا راہ میں گڑا ہے کیا؟
اس سپاہِ پسپائی، سے سوال کیا پوچھوں
جان سے گزرنے کا مرحلہ کڑا ہے کیا؟
آفتاب اقبال شمیم

برگ افتادہ! ابھی رقصِ ہوا ہونا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 318
شاخ کے بعد زمیں سے بھی جدا ہونا ہے
برگ افتادہ! ابھی رقصِ ہوا ہونا ہے
ہم تو بارش ہیں خرابے کی ہمیں اگلے برس
در و دیوار کے چہرے پہ لکھا ہونا ہے
سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی
دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے
کچھ تو کرنا ہے کہ پتھر نہ سمجھ لے سیلاب
ورنہ اس ریت کی دیوار سے کیا ہونا ہے
عرفان صدیقی

نیند کی نوٹ بک میں تھا، کچھ تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 98
یاد کچھ بھی نہیں کہ کیا کچھ تھا
نیند کی نوٹ بک میں تھا، کچھ تھا
میں ہی کچھ سوچ کر چلا آیا
ورنہ کہنے کو تھا ، بڑا کچھ تھا
چاند کچھ اور کہتا جاتا تھا
دلِ وحشی پکارتا کچھ تھا
اس کی پاؤں کی چاپ تھی شاید
یا یونہی کان میں بجا کچھ تھا
میں لپٹتا تھا ہجر کی شب سے
میرے سینے میں ٹوٹتا کچھ تھا
کُن سے پہلے کی بات ہے کوئی
یاد پڑتا ہے کچھ، کہا کچھ تھا
پھرفلک سے بھی ہو گئے مایوس
پہلے پہلے تو آسرا کچھ تھا
ہے گواہی کو اک سیہ پتھر
آسماں سے کبھی گرا کچھ تھا
لوگ بنتے تھے گیت پہلے بھی
مجھ سے پہلے بھی سلسلہ کچھ تھا
موسمِ گل سے پہلے بھی موسم
گلستاں میں بہار کا کچھ تھا
اس کی آنکھیں تھیں پُر خطر اتنی
کہہ دیا کچھ ہے مدعا کچھ تھا
آنکھ کیوں سوگوار ہے منصور
خواب میں تو معاملہ کچھ تھا
منصور آفاق

دشت کیسا پڑا ہے رستے میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 116
وقت چپ سا کھڑا ہے رستے میں
دشت کیسا پڑا ہے رستے میں
آپ کا غم ہو یا زمانے کا
کوس جو ہے کڑا ہے رستے میں
سنگ ریزوں کو دیکھنے والو
دل سا ہیرا پڑا ہے رستے میں
کوئی کانٹا ہے یا کوئی گل ہے
دل کا دامن اڑا ہے رستے میں
اس طرح چپ کھڑے ہیں ہم جیسے
ایک پتھر گڑا ہے رستے میں
دل اگر بجھ گیا تو پھر باقیؔ
ایک کانٹا بڑا ہے رستے میں
باقی صدیقی