ٹیگ کے محفوظات: بچھڑ

الجھن میں ہمِیں کیوں پڑ جائیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
احوال ذرا جو بگڑ جائیں
الجھن میں ہمِیں کیوں پڑ جائیں
اچکے کیوں چرخ ہمیں ہی ھلا
کیوں پَیر زمیں سے اُکھڑ جائیں
کیونکر فرمان پہ شاہوں کے
کھالیں جسموں سے اُدھڑ جائیں
طوفاں میں جلالِ ستمگر کے
انگیں کاہے کو اُجڑ جائیں
کیوں کشتی عمر کنارے پر
پہنچے تو لوگ بچھڑ جائیں
موسم کی تُند مزاجی سے
پتّے کیوں پیڑ سے جھڑ جائیں
ماجِد کیوں پینچ وہی ٹھہریں
جو اپنے کہے پر اڑ جائیں
ماجد صدیقی

دانتوں کو سلک در جو کہا میں سو لڑ گیا

دیوان چہارم غزل 1335
اوصاف مو کے شعر سے الجھائو پڑ گیا
دانتوں کو سلک در جو کہا میں سو لڑ گیا
جیتے جی یہ ملا نہ رہا سو رہا غریب
جو دل شکستہ ساتھ سے اس کے بچھڑ گیا
کیا اس کے دل جلے کی تمامی میں دیر ہو
جیسے چراغ صبح شتابی نبڑ گیا
فرہاد پہلوان محبت پہاڑ تھا
بے طاقتی جو دل نے بہت کی پچھڑ گیا
گل رنگ رنگ شاخ سے نکلا بہار میں
آنکھیں سی کھل گئی ہیں جو مرجھا کے جھڑ گیا
یاں حادثے کی بائو سے ہر اک شجر حجر
کیسا ہی پائدار تھا آخر اکھڑ گیا
شرماوے سرو ہووے اگر آدمی روش
وصف اس کے قد کا میر سے سن کر اکڑ گیا
میر تقی میر

ٹھہرے ہے آرسی بھی دانتوں زمیں پکڑ کر

دیوان اول غزل 215
دیکھ اس کو ہنستے سب کے دم سے گئے اکھڑ کر
ٹھہرے ہے آرسی بھی دانتوں زمیں پکڑ کر
کیا کیا نیاز طینت اے ناز پیشہ تجھ بن
مرتے ہیں خاک رہ سے گوڑے رگڑ رگڑ کر
قد کش چمن کے اپنی خوبی کو نیو چلے ہیں
پایا پھل اس سے آخر کیا سرو نے اکڑ کر
وہ سر چڑھا ہے اتنا اپنی فروتنی سے
کھویا ہمیں نے اس کو ہر لحظہ پائوں پڑ کر
پاے ثبات بھی ہے نام آوری کو لازم
مشہور ہے نگیں جو بیٹھا ہے گھر میں گڑ کر
دوری میں دلبروں کی کٹتی ہے کیونکے سب کی
آدھا نہیں رہا ہوں تجھ سے تو میں بچھڑ کر
اب کیسا زہد و تقویٰ دارو ہے اور ہم ہیں
بنت العنب کے اپنا سب کچھ گیا گھسڑ کر
دیکھو نہ چشم کم سے معمورئہ جہاں کو
بنتا ہے ایک گھر یاں سو صورتیں بگڑ کر
اس پشت لب کے اوپر دانے عرق کے یوں ہیں
یاقوت سے رکھے ہیں جوں موتیوں کو جڑ کر
ناسازگاری اپنے طالع کی کیا کہیں ہم
آیا کبھو نہ یاں ٹک غیروں سے یار لڑ کر
اپنے مزاج میں بھی ہے میر ضد نہایت
پھر مر ہی کے اٹھیں گے بیٹھیں گے ہم جو اڑ کر
میر تقی میر

نجانے کیوں تجھے جڑ سے اکھڑ جانے کی جلدی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 489
قیامت خیز طوفانوں سے لڑ جانے کی جلدی تھی
نجانے کیوں تجھے جڑ سے اکھڑ جانے کی جلدی تھی
ابھی تو ہم ملے ہی تھے ابھی تو گل کھلے ہی تھے
تجھے کیا اس قدر جاناں بچھڑ جانے کی جلدی تھی
نئی رُت سے بہت پہلے فقظ تُو ہی نہیں بدلی
یہاں پر تو درختوں کو بھی جھڑ جانے کی جلدی تھی
مجھے تو ہجر میں رہنے کی عادت تھی مگر جاناں
تجھے بھی ایسا لگتا ہے اجڑ جانے کی جلدی تھی
بجا ہے ہاتھ کو میرے تمنا تیری تھی لیکن
ترے دامن کو بھی شاید ادھڑ جانے کی جلدی تھی
فقط دوچار لمحوں میں سمت آئی ہتھیلی پر
زمیں کے وسعتوں کو بھی سکڑ جانے کی جلدی تھی
ابھی تو اس نے بدلا تھا لباسِ جسم ہی منصور
مری قسمت کو بھی کتنی بگڑ جانے کی جلدی تھی
منصور آفاق

ملتا خود سے بھی تھا اکڑ کے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 349
اتفاقات سے بگڑ کے میں
ملتا خود سے بھی تھا اکڑ کے میں
طشت میں سر بھی اپنا رکھتا تھا
رقص بھی دیکھتا تھا دھڑ کے میں
حل کروں کیسے عقل مندی سے
مسئلے پاگلوں کی بڑ کے میں
کہہ رہا تھا یہ چہرہ لڑکی کا
زندگی ہے بلا کی لڑکے میں
ہجر کی کیفیت ابھی تک تھی
بولتا تھا اکھڑ اکھڑ کے میں
سانس تو لکڑیاں بھی لیتی ہیں
جی رہا ہوں کہاں بچھڑ کے میں
سایوں کے بیچ گزرا کرتا تھا
اُس گلی سے سکڑ سکڑ کے میں
اٹھ کھڑا تھاکسی کی آمد پر
اپنی دیوار کو پکڑ کے میں
دل دھڑکتا تھا ایک دنیا کا
جڑ گیا ہوں کہیں ،اجڑ کے میں
کیسے منصور خالی بستر تھا
لوٹ آیا تھا تڑکے تڑکے میں
اپنے بیٹوں صاحب منصور اور عادل منصور کیلئے
منصور آفاق