ٹیگ کے محفوظات: بچانا

میں اپنا خواب کسی کو دکھانا چاہتا ہوں

اب اس پہ ایک نظر ناقدانہ چاہتا ہوں
میں اپنا خواب کسی کو دکھانا چاہتا ہوں
تُو اپنی آگ مری لَو سے متصل کردے
میں ایک شب کے لیے جگمگانا چاہتا ہوں
یہ بات تجھ کو بتانے لگا ہوں آخری بار
میں چاہتا ہوں تجھے، والہانہ چاہتا ہوں
میں اپنے آپ کو بالکل نہیں پسند آیا
سو خود کو توڑ کے پھر سے بنانا چاہتا ہوں
ترے گریز کی عادت نہیں پڑی ہے ابھی
کبھی کبھار ترے پاس آنا چاہتا ہوں
میں خود سے دُور، ہہت دُور جا بسوں گا کہیں
یہ طے تو کرہی چکا ہوں، بہانہ چاہتا ہوں
میں بجھ رہا ہوں جلا لو کوئی دیا مجھ سے
میں اپنی روشنی آگے بڑھانا چاہتا ہوں
برونِ ذات کسی سے نہیں ہے خوف مجھے
میں اپنے آپ کو خود سے بچانا چاہتا ہوں
کہیں ہے کیا کوئی جائے پناہ_ دل زدگاں
میں اب سکون سے آنسو بہانا چاہتا ہوں
قرار پائے گا جب روح_عصر میرا سخن
میں اپنے ہوتے ہوئے وہ زمانہ چاہتا ہوں
بدن کا حق تو ادا کرچکا بہت عرفان
بس اب تو روح کا کوئی ٹھکانہ چاہتا ہوں
عرفان ستار

میں تنہا تھا، تجھ کو آنا چاہیئے تھا

سر رکھ کر رونے کو شانہ چاہیئے تھا
میں تنہا تھا، تجھ کو آنا چاہیئے تھا
آج میں آیا تھا خود کو پرسہ دینے
مجھ کو بیچ میں سے ہٹ جانا چاہیئے تھا
محفل میری ویراں ہوتی جاتی ہے
ہم عمروں کو دوست بنانا چاہیئے تھا
بس اک لمحہ چاہا تھا دلداری کا
کونسا مجھ کو ایک زمانہ چاہیئے تھا
آج کے دن اچھا تھا گھر میں رہنا ہی
وحشت کرنی تھی، ویرانہ چاہیئے تھا
تو بھی میرا غم ہی بانٹنے آیا ہے
یار، مرا کچھ دھیان بٹانا چاہیئے تھا
کس کو میرا ساتھ نبھانا آتا ہے
تجھ کو میرا ساتھ نبھانا چاہیئے تھا
تازہ شکلیں یادوں میں زندہ رہتیں
جا کر یاروں سے مل آنا چاہیئے تھا
حد سے بڑھ کر ضبط نہیں کرتے عرفان
درد بہت تھا، شور مچانا چاہیئے تھا
عرفان ستار

سمجھے جو گرمیِ ہنگامہ جلانا دل کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 18
ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کا
سمجھے جو گرمیِ ہنگامہ جلانا دل کا
ہے ترا سلسلۂ زلف بھی کتنا دل بند
پھنسنے سے پہلے بھی مشکل تھا چھٹانا دل کا
دیکھتے ہم بھی کہ آرام سے سوتے کیوں کر
نہ سنا تم نے کبھی ہائے فسانہ دل کا
ہم سے پوچھیں کہ اسی کھیل میں کھوئی ہے عمر
کھیل جو لوگ سمجھتے ہیں لگانا دل کا
عاقبت چاہِ ذقن میں خبر اس کی پائی
مدتوں سے نہیں لگتا تھا ٹھکانا دل کا
کس طرح دردِ محبت میں جتاؤں اس کو
بھید لڑکوں سے نہیں کہتے ہیں دانا دل کا
ہم یہ سمجھے تھے کہ آرام سے تم رکھو گے
لائیے تم کو ہے منظور ستانا دل کا
ہم بھی کیا سادے ہیں کیا کیا ہے توقع اس سے
آج تک جس نے ذرا حال نہ جانا دل کا
جلوہ گاہِ غم و شادی، دل و شادی کم یاب
کیوں نہ ہو شکوہ سرا ایک زمانہ دل کا
شکل مانندِ پری اور یہ افسونِ وفا
آدمی کا نہیں مقدور بچانا دل کا
شیفتہ ضبط کرو ایسی ہے کیا بے تابی
جو کوئی ہو تمہیں احوال سنانا دل کا
مصطفٰی خان شیفتہ

ٹک رنجہ قدم کر کر مجھ تک اسے آنا تھا

دیوان سوم غزل 1071
سہل ایسا نہ تھا آخر جی سے مرا جانا تھا
ٹک رنجہ قدم کر کر مجھ تک اسے آنا تھا
کیا مو کی پریشانی کیا پردے میں پنہانی
منھ یار کو ہر صورت عاشق سے چھپانا تھا
لذت سے نہ تھا خالی جانا تہ تیغ اس کی
اے صید حرم تجھ کو اک زخم تو کھانا تھا
کیا صورتیں بگڑی ہیں مشتاقوں کی ہجراں میں
اس چہرے کو اے خالق ایسا نہ بنانا تھا
مت سہل ہمیں سمجھو پہنچے تھے بہم تب ہم
برسوں تئیں گردوں نے جب خاک کو چھانا تھا
کیا ظلم کیا بے جا مارا جیوں سے ان نے
کچھ ٹھور بھی تھی اس کی کچھ اس کا ٹھکانا تھا
اے شور قیامت اب وعدے سے قیامت ہے
خوابیدہ مرے خوں کو ظالم نہ جگانا تھا
ہو باغ و بہار آیا گل پھول کہیں پایا
جلوہ اسے یاں اپنا صدرنگ دکھانا تھا
کہتے نہ تھے ہم واں سے پھر آچکے جیتے تم
میر اس گلی میں تم کو زنہار نہ جانا تھا
میر تقی میر