ٹیگ کے محفوظات: بوٹی

صحن میں اک چنبلی کی بوٹی ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 440
جاگ اٹھی جو قسمت تھی پھوٹی ہوئی
صحن میں اک چنبلی کی بوٹی ہوئی
صحنِ باغِ ارم کی ہیں رہداریاں
ہاتھیوں کے پڑاؤ سے ٹوٹی ہوئی
ہر طرف ہیں کھجوروں کے زخمی درخت
بستیاں ہیں مدینے کی لوٹی ہوئی
آسماں ہو گیا مہرباں خاک پر
لوٹ آئی ہے رُت کوئی روٹھی ہوئی
دل میں منصور خودکُش دھماکہ ہوا
اور پھر اپنی بن اطلاع جھوٹی ہوئی
منصور آفاق