ٹیگ کے محفوظات: بول

ہر بار مگر زخم نئے کھول رہا ہے

لہجے کی حلاوت میں وہ انمول رہا ہے
ہر بار مگر زخم نئے کھول رہا ہے
وہ حُسن کی خیرات نہ دینے پہ ہے مائل
ہم ہیں کہ سدا ہاتھ میں کشکول رہا ہے
اے ہوش و خرد! وقت نہیں اِذنِ سُخن کا
خاموش! کہ سر چڑھ کے جنوں بول رہا ہے
ہر سمت ہے گھنگھور گھٹا صائقہ بردار
اُور طائرِ فکر اُڑنے کو پر تول رہا ہے
یہ مسندِ انصاف ہے محرومِ بصارت
ہر حرفِ صداقت میں یہاں جھول رہا ہے
آئینے سے نظریں وہ ہٹائیں تو نظر آئے
میں ڈول رہا ہُوں کہ جہاں ڈول رہا ہے
یہ لاش یقیناً کسی سچائی کی ہو گی
جم جم کے ہر اک قطرہِ خُوں بول رہا ہے
ضامنؔ! کوئی ہو گا نہ کبھی گوش بر آواز
یوں زہر سماعت میں جو تُو گھول رہا ہے
ضامن جعفری

شور طیور اٹھتا ہے ایسا جیسے اٹھے ہے بول کوئی

دیوان پنجم غزل 1735
اس کے رنگ چمن میں شاید اور کھلا ہے پھول کوئی
شور طیور اٹھتا ہے ایسا جیسے اٹھے ہے بول کوئی
یوں پھرتا ہوں دشت و در میں دور اس سے میں سرگشتہ
غم کا مارا آوارہ جوں راہ گیا ہو بھول کوئی
ایک کہیں سر کھینچے ہے ایسا جس کی کریں سب پابوسی
ہو ہر اک کو قبول دلہا یہ نہ کرے گا قبول کوئی
کس امید کا تجھ کو اے دل چاہ میں اس کی حصول ہوا
شوخ و شلائیں خوشرویاں سے رہتا ہے مامول کوئی
لمبے اس کے بالوں کا میں وصف لکھا ہے دور تلک
حرف مار تو طولانی تھا پھر بھی وے ہے طول کوئی
مستی حسن پرستی رندی یہی عمل ہے مدت سے
پیر کبیر ہوئے تو کیا ہے چھوٹے ہے معمول کوئی
حرف و حکایت شکر و شکایت تھی اک وضع و وتیرہ پر
میر کو جاکر دیکھا ہم نے ہے مرد معقول کوئی
میر تقی میر

بول

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول، زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا

بول کہ جاں اب تک تیری ہے

دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں

تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے

پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے

جسم و زیاں کی موت سے پہلے

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک

بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

فیض احمد فیض