ٹیگ کے محفوظات: بوجھ اتنے صدموں کا دل اگر اُٹھا پایا

بوجھ اتنے صدموں کا دل اگر اُٹھا پایا

تجھ سے ہی مرے مالک اِس نے حوصلہ پایا

ٹھوکروں سے رستے کی خود کو جو بچا پایا

زندگی میں جنت کا اُس نے در کھُلا پایا

حرف حرف کا تیرے ذرّہ ذرّہ ہے شاہد

جو بھی کچھ کہا ہم نے نقش بَر ہوا پایا

اُس کی راہ پر باصرؔ آ گئے جو ہم آخِر

جس قدر گنوایا تھا اُس سے دس گُنا پایا

باصر کاظمی