ٹیگ کے محفوظات: بنیاد

کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 216
بجا ارشاد فرمایا گیا ہے
کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے
عنایت کی ہیں ناممکن امدیں
کرم ایجاد فرمایا گیا ہے
ہیں ہم اب اور زد ہے حادثوں کی
ہمیں آزاد فرمایا گیا ہے
ذرا اس کی پراحوالی تو دیکھیں
جسے برباد فرمایا گیا ہے
نسیمِ سبزگی تھے ہم، سو ہم کو
غبار افتاد فرمایا گیا ہے
سند بخشی ہے عشقِ بے غرض کی
بہت ہی شاد فرمایا گیا ہے
سلیقے کو لبِ فریاد تیرے
ادا کی داد فرمایا گیا ہے
کہاں ہم اور کہاں حسنِ سرِ بام
ہمیں بنیاد فرمایا گیا ہے
جون ایلیا

خون کسو کا کوئی کرے واں داد نہیں فریاد نہیں

دیوان پنجم غزل 1700
حاکم شہر حسن کے ظالم کیونکے ستم ایجاد نہیں
خون کسو کا کوئی کرے واں داد نہیں فریاد نہیں
یاری ہماری یک باری خاطر سے فراموش ان نے کی
ذکر ہمارا اس سے کیا سو کہنے لگا کچھ یاد نہیں
کیا کیا مردم خوش ظاہر ہیں عالم حسن میں نام خدا
عالم عشق خرابہ ہے واں کوئی گھر آباد نہیں
عشق کوئی ہمدرد کہیں مدت میں پیدا کرتا ہے
کوہ رہیں گو نالاں برسوں لیکن اب فرہاد نہیں
لڑنا کاواکی سے فلک کا پیش پا افتادہ ہے
میر طلسم غبار جو یہ ہے کچھ اس کی بنیاد نہیں
میر تقی میر

مجنوں کہنے لگا کہ ہاں استاد

دیوان چہارم غزل 1383
شعر دیواں کے میرے کر کر یاد
مجنوں کہنے لگا کہ ہاں استاد
خود کو عشق بتاں میں بھول نہ جا
متوکل ہو کر خدا کو یاد
سب طرف کرتے ہیں نکویاں کی
کس سے جا کر کوئی کرے فریاد
وحشی اب گردباد سے ہم ہیں
عمر افسوس کیا گئی برباد
چار دیواری عناصر میر
خوب جاگہ ہے پر ہے بے بنیاد
میر تقی میر

زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد

دیوان سوم غزل 1127
ہماری بات کو اے شمع بزم کریو یاد
زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد
ہمیں اسیر تو ہونا ہے اپنا اچھا یاد
کشش نہ دام کی دیکھی نہ کوشش صیاد
نہ دردمندی سے یہ راہ تم چلے ورنہ
قدم قدم پہ تھی یاں جاے نالہ و فریاد
ہزار فاختہ گردن میں طوق پہنے پھرے
اسے خیال نہیں کچھ وہ سرو ہے آزاد
جہاں میں اتنے ہی آشوب کیا رہیں گے بس
ابھی پڑے گا مرے خون بے گنہ سے زیاد
چمن میں اٹھتے ہیں سنّاہٹے سے اے بلبل
جگرخراش یہ نالے ہیں تیرے منھ سے زیاد
ثبات قصر و در و بام و خشت و گل کتنا
عمارت دل درویش کی رکھو بنیاد
چمن میں یار ہمیں لے گئے تھے وا نہ ہوئے
ہمارے ساتھ یہی غم یہی دل ناشاد
ہمیں تو مرنے کا طور اس کے خوش بہت آیا
طواف کریے جو ہو نخل ماتم فرہاد
نظر نہ کرنی طرف صید کے دم بسمل
یہ ظلم تازہ ہوا اس کشندے سے ایجاد
چلے نہ تیغ اگر ہم نگاہ عجز کریں
ہماری اور نہ دیکھے خدا کرے جلاد
کب ان نے دل میں کر انصاف ہم پہ لطف کیا
وہی ہے خشم وہی یاں سے جا وہی بیداد
تمام ریجھ پچائو ہیں اب تو پھر پس مرگ
کہا کنھوں نے تو کیا عزّاسمہٗ استاد
اگرچہ گنج بھی ہے پر خرابیاں ہیں بہت
نہ پھر خرابے میں اے میر خانماں برباد
میر تقی میر

کوئی ایسا ستم دنیا میں اے صیاد کرتا ہے

دیوان دوم غزل 1022
چمن کو یاد کر مرغ قفس فریاد کرتا ہے
کوئی ایسا ستم دنیا میں اے صیاد کرتا ہے
ہوا خانہ خراب آنکھوں کا اشکوں سے تو برجا ہے
رہ سیلاب میں کوئی بھی گھر بنیاد کرتا ہے
ملایا خاک کر دامن سے اشکوں میں ڈبایا پھر
مرے ہاتھوں کی تردستی گریباں یاد کرتا ہے
ابھر اے نقش شیریں بے ستوں اوپر تماشا کر
کہ کارستانیاں تیرے لیے فرہاد کرتا ہے
میر تقی میر

رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد

دیوان اول غزل 203
میرے سنگ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد
ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال
جان کے ساتھ ہے دل ناشاد
موند آنکھیں سفر عدم کا کر
بس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد
فکر تعمیر میں نہ رہ منعم
زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد
خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں
کس خرابے میں ہم ہوئے آباد
سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد
نہ سنوگے یہ نالہ و فریاد
لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم
خاک کس دل جلے کی دی برباد
بھولا جا ہے غم بتاں میں جی
غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد
تیرے قید قفس کا کیا شکوہ
نالے اپنے سے اپنے سے فریاد
ہر طرف ہیں اسیر ہم آواز
باغ ہے گھر ترا تو اے صیاد
ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیں
اپنی قید حیات سے آزاد
ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبح
جانا سو جاے اس کی ہے معتاد
نہیں صورت پذیر نقش اس کا
یوں ہی تصدیع کھینچے ہے بہزاد
خوب ہے خاک سے بزرگوں کی
چاہنا تو مرے تئیں امداد
پر مروت کہاں کی ہے اے میر
تو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد
نامرادی ہو جس پہ پروانہ
وہ جلاتا پھرے چراغ مراد
میر تقی میر

ہم کو جو رنج ہے وہ جرأتِ فریاد سے ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 348
شکوہ کوئی بھی نہ دستِ ستم اِیجاد سے ہے
ہم کو جو رنج ہے وہ جرأتِ فریاد سے ہے
داستانوں میں تو ہم نے بھی پڑھا ہے، لیکن
آدمی کا بھی کوئی رِشتہ پری زاد سے ہے
زندہ ہے ذہن میں گزرے ہوئے لمحوں کی مہک
دشت آباد بہت، نکہتِ برباد سے ہے
سچ تو یہ ہے کہ تری نوک پلک کا رِشتہ
آخرِ کار ترے حسنِ خداداد سے ہے
اُس بلندی سے تجھے چاہے میں دِکھلائی نہ دوں
پھر بھی کچھ ربط تو دیوار کا بنیاد سے ہے
زہر کا جام ہو یا منبرِ دانش، عرفانؔ
ابنِ آدم کا جو ورثہ ہے وہ اَجداد سے ہے
عرفان صدیقی

اس میں تُو آباد رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 639
خواہ یہ دل برباد رہے
اس میں تُو آباد رہے
شکر ہے دشتِ حسرت میں
پاؤں مسافت زاد رہے
برسوں غم کے مکتب میں
میر مرے استاد رہے
اک لمحے کی خواہش میں
برسوں ہم ناشاد رہے
ایک دعا دکھیارے کی
غم سے تُو آزاد رہے
اشکوں سے تعمیر ہوئی
درد مری بنیاد رہے
جیسا بھی ہوں تیرا ہوں
اتنا تجھ کو یاد رہے
تیری گلی میں سانس سدا
مائل بر فریاد رہے
زخم نہ چاٹے کوئی بھی
مر جائے یا شاد رہے
میں برمنگھم قید رہا
وہ اسلام آباد رہے
میرے نواحِ جاں منصور
کتنے ستم ایجاد رہے
منصور آفاق