ٹیگ کے محفوظات: بند

بہت تڑپا کیا جوں مرغ پربند

دیوان سوم غزل 1126
زمیں پر میں جو پھینکا خط کو کر بند
بہت تڑپا کیا جوں مرغ پربند
گرفت دل سے ناچاری ہے یعنی
رہا ہوں بیٹھ میں بھی کر کے گھر بند
پھنسا دل زلف و کاکل میں نہ پوچھو
پڑا ہے ناگہ آکر بند پر بند
سب اس کی چشم پرنیرنگ کے محو
مگر کی ان نے عالم کی نظر بند
چمن میں کیونکے ہم پربستہ جاویں
بلند ازبس کہ ہے دیوار و در بند
بہت پیکان تیر یار ٹوٹے
تمام آہن ہے اب میرا جگر بند
ہوئیں رونے کی مانع میری پلکیں
بندھا خاشاک سے سیلاب پر بند
کہا کیا جائے ان ہونٹوں کے آگے
ہماری لب گزی ہے یہ شکربند
کھلے بندوں نہ آیا یاں وہ اوباش
پھرا مونڈھے پہ ڈالے بیشتر بند
یہی اوقات ہے گی دید کی یاں
رکھ اپنی چشم کو شام و سحر بند
نچا رہتا تھا چہرہ جس سے سو اب
گریباں میں ہے وہ دست ہنر بند
فن اشعار میں ہوں پہلواں میر
مجھے ہے یاد اس کشتی کا ہر بند
میر تقی میر

پسند اس کی ہے وہ جس طرح پسند کرے

دیوان دوم غزل 970
اسیر زلف کرے قیدی کمند کرے
پسند اس کی ہے وہ جس طرح پسند کرے
ہمیشہ چشم ہے نمناک ہاتھ دل پر ہے
خدا کسو کو نہ ہم سا بھی دردمند کرے
بڑوں بڑوں کو جھکاتے ہی سر بنے اس دم
پکڑ کے تیغ وہ اپنی اگر بلند کرے
بیان دل کے بھی جلنے کو کریے مجلس میں
اچھلنے کودنے کو ترک اگر سپند کرے
نہ مجھ کو راہ سے لے جائے مکر دنیا کا
ہزار رنگ یہ فرتوت گو چھچھند کرے
سواے اس کے بڑی داڑھی میں ہے کیا اے شیخ
کہ جو کوئی تجھے دیکھے سو ریش خند کرے
دکھاوے آنکھ کبھو زلف کھولے منھ پہ کبھو
کبھو خرام سے رستے کے رستے بند کرے
اگرچہ سادہ ہے لیکن ربودن دل کو
ہزار پیچ کرے لاکھ لاکھ فند کرے
سخن یہی ہے جو کہتے ہیں شعر میر ہے سحر
زبان خلق کو کس طور کوئی بند کرے
میر تقی میر

اس شہر میں ہمارے خدا وند ہیں بہت

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 39
لات و مناتِ جہل کے فرزند ہیں بہت
اس شہر میں ہمارے خدا وند ہیں بہت
کُھلتے نہیں یہ زورِ مسلسل کے باوجود
آلودگیِٔ کہنہ سے در بند ہیں بہت
دے وقفۂ سکون پر اُٹھا ہُوا قدم
راہِ سفر میں سختیاں ہرچند ہیں بہت
کھوئیں گے کیا یہ معرکہ دوبارہ ہار کر
فکرِ زیاں کریں جو خرد مند ہیں بہت
پوشیدگی ہے ایک طرح کی برہنگی
دلقِ گدا پہ مکر کے پیوند ہیں بہت
اِن کو شعورِ رفتہ و آئندہ دیجئے
یہ لوگ رسمِ وقت کے پابند ہیں بہت
آفتاب اقبال شمیم

علاجِ درد ترے درد مند کیا کرتے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 24
گرانیِ شبِ ہجراں دو چند کیا کرتے
علاجِ درد ترے درد مند کیا کرتے
وہیں لگی ہے جو نازک مقام تھے دل کے
یہ فرق دستِ عدو کے گزند کیا کرتے
جگہ جگہ پہ تھے ناصح تو کُو بکُو دلبر
اِنہیں پسند، اُنہیں ناپسند کیا کرتے
ہمیں نے روک لیا پنجہء جنوں ورنہ
ہمیں اسیر یہ کوتہ کمند کیا کرتے
جنہیں خبر تھی کہ شرطِ نواگری کیا ہے
وہ خوش نوا گلہء قید و بند کیا کرتے
گلوئے عشق کو دار و رسن پہنچ نہ سکے
تو لوٹ آئے ترے سر بلند ، کیا کرتے !
فیض احمد فیض