ٹیگ کے محفوظات: بندھائو

کیا کہیے نہ ہماری سنی اب بیٹھے رنج اٹھائو تم

دیوان پنجم غزل 1679
ہم تو یہی کہتے تھے ہمیشہ دل کو کہیں نہ لگائو تم
کیا کہیے نہ ہماری سنی اب بیٹھے رنج اٹھائو تم
جھوٹ کہا کیا ہم نے اس میں طور جو اس سے ظاہر ہے
ہاتھ چلے تو عاشق زار کو خاک و خوں میں لٹائو تم
صبر کرو بیتاب رہو خاموش پھرو یا شور کرو
کس کو یاں پروا ہے کسو کی ٹھہرو آئو جائو تم
ناز غرور تبختر سارا پھولوں پر ہے چمن کا سو
کیا مرزائی لالہ و گل کی کچھ خاطر میں نہ لائو تم
وائے کہ اس ہجراں کشتے نے باغ سے جاتے ٹک نہ سنا
گل نے کہا جو خوبی سے اپنی کچھ تو ہمیں فرمائو تم
دست و پا بہتیرے مارے سر بھی پھوڑے حیرت ہے
کیا کریے جو بے دست و پا ہم سوں کے ہاتھ آئو تم
غم میں تمھاری صورت خوش کے سینکڑوں شکلیں گوبگڑیں
بیٹھے ناز و غرور سے بکھرے بال اپنے نہ بنائو تم
در پہ حرم کے کشود نہیں تو دیر میں جاکر کافر ہو
قشقہ کھینچو پوتھی پڑھو زنار گلے سے بندھائو تم
بود نبود ثبات رکھے تو یہ بھی اک بابت ہے میر
اس صفحے میں حرف غلط ہیں کاشکے ہم کو مٹائو تم
میر تقی میر